پشاور (ارشد عزیز ملک) سرکاری دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ضم شدہ اضلاع میں45ہزار887گھروں کی سولرائزیشن کے مجوزہ منصوبے کے لیے ناقص پی سی ون جمع کرایا، جس کے باعث منصوبے کی منظوری کا عمل مزید تاخیر کا شکار ہوگیا۔وفاقی حکومت نےگھروں کی سولرائزیشن کے منصوبے کے پی سی ون پر سنگین تکنیکی، مالی اور انتظامی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ازسرنو تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وفاقی حکومت نے 2024 میں اس منصوبے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کو 13 ارب روپے فراہم کیے تھے، تاہم تین سال گزرنے کے باوجود مستحق خاندانوں کو سولر سسٹمز فراہم نہیں کیے جا سکے۔یہ فیصلہ 7 جولائی 2026 کو ممبر انرجی کی زیر صدارت ہونے والے پری سی ڈی ڈبلیو پی اجلاس میں کیا گیا، جس میں ایکسلریٹڈ امپلیمنٹیشن پلان اور مجوزہ منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے کا مقصد ضم شدہ اضلاع کے 45 ہزار 887 گھروں کو شمسی توانائی کے ذریعے سستی، ماحول دوست اور پائیدار بجلی فراہم کرنا ہے۔