پشاور(ارشد عزیز ملک) خیبر پختونخوا حکومت نے گورننس میں بہتری، شفافیت اور احتساب کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے تمام محکموں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ بدعنوان، بدنام، ناقص کارکردگی کے حامل اور مشکوک شہرت رکھنے والے افسران کی تصدیق شدہ منفی فہرست 7اگست تک تیار کریں، ایسے افسران کو حساس اور عوام سے براہ راست رابطے والی اسامیوں پر تعینات نہ کیا جائے، جبکہ تمام تقرریاں اور تبادلے صرف میرٹ، کارکردگی اور موزوں ہونے کی بنیاد پر کیے جائیں۔ حکومت نے سرکاری خریداری اور مالیاتی امور میں شفافیت یقینی بنانے، عوامی شکایات کے مؤثر ازالے کا نظام قائم کرنے، سرکاری خدمات کو ڈیجیٹل بنانے اور افسران کو بروقت اور مؤثر عوامی خدمت کا پابند بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔ذرائع نےجنگ کو بتایا کہ یہ ہدایات چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کی زیر صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد جاری کی گئی ہیں، جس میں تمام انتظامی سیکرٹریز، ڈائریکٹر جنرلز اور محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق اگر ان فیصلوں پر مکمل عمل درآمد ہوا تو خیبر پختونخوا ملک کا پہلا صوبہ بن سکتا ہے جہاں سرکاری سطح پر ناقص شہرت اور خراب ریکارڈ رکھنے والے افسران کی باقاعدہ تصدیق شدہ منفی فہرست مرتب کی جائے گی۔سرکاری دستاویز کے مطابق چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو سہولتوں کی فراہمی اور ان کی فلاح ہر محکمے کی اولین ذمہ داری ہے۔