پاکستان کو پھر ایسے سیاسی مباحث میں دھکیل دیا گیا ہے جو نہ جانے کتنی بار پہلے بھی اخباری سیمیناروں، سیاسی تقریروںکا موضوع رہ چکے ہیں۔نئے صوبے،صدارتی نظام ،کمشنریوں کے صوبے۔نیتیں درست ہوں تو پرانے نظام میں بھی جان پڑ جاتی ہے۔ زندہ قومیں آگے دیکھتی ہیں۔79 سال گزر چکے۔ قصہ پارینہ ہو چکے۔ جیسے بھی تھے اب ہم ان میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے ۔
قومی سیاسی جماعتیں بوڑھی ہو چکیں ۔ان کے لیڈر جو کر سکتے تھے کر چکے ۔ان سے اب کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی ۔ چالیس سال سے باری باری حکومتیں کرنیوالوں کے منہ سے جب یہ جملہ سنتے ہیں کہ موقع ملا تو ہم معیشت کو پٹڑی پرلا کر دکھا دیں گے تو بچے بوڑھے کھلکھلااٹھتے ہیں۔
نظام خود، نظام وجود میں لانے والے اور اب نظام چلانے والے بھی بوسیدہ ہو چکے لیکن پاکستان تر و تازہ ہے۔مصلحت کوش قیادتیں، انہیں گملے میں لگانے والے عمر رسیدہ ہو چکے لیکن واہگہ سے گوادر تک پاک سرزمین جوان ہے ۔اپنی جولانیوں کیلئے بے تاب۔ہم ماضی میں نہیں رہ سکتے۔ رہنا تو مستقبل میں ہی ہے۔ ماضی کے مواقع گنوائے جا چکے۔ مستقبل کے بے حساب مواقع ہمیں دعوت عمل دے رہے ہیں۔
اگست 1947ءسے جولائی 2026ءکے ماہ و سال گزر چکے۔ اب 14اگست 2026ءسے سینکڑوں سال آنے والے ہیں۔ امکانات سے بھرپور ،نئی دنیائیں، نئی بستیاں،نئی نسلیںمعرض وجود میں آ رہی ہیں۔ زمانہ کروٹیں بدل رہا ہے۔ پہاڑ سونا اگلنے کو بے چین ہیں،ریگزار تیل بہانے پر آمادہ،سمندر کی تہیں عجائبات لیے مضطرب ۔
پاکستان صدی، اگست2047 ہماراانتظار کر رہی ہے۔21 سال میں ایک مکمل نسل تیار ہوسکتی ہے ۔اگر ہمیں مستقبل کی واقعی فکر ہو۔ قیادت کیلئے اہلیت رکھنے والی نسل کی تربیت کی جا سکتی ہے۔ہماری خوش قسمتی کہ پاکستان کی آبادی میں 100 میں 60 نوجوان ہیں۔ انکے دل کھلے ہیں، ذہن روشن۔ انٹرنیٹ نے ان کی راہ گزر خیال کو اطلاعات کی شاہراہ بنا دیاہے۔ مصنوعی ذہانت کا زمانہ ہے مصنوعی قیادت کا نہیں۔ کٹھ پتلیوں کے تماشے اب کوئی نہیں دیکھتا۔ کوئی نوجوان اپنی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں نہیں دینا چاہتا۔ یہ سب ایک جہان تازہ کے خواب کو حقیقت میں ڈھالنا چاہتے ہیں۔ نوجوان بلوچستان کے دشت میں بھی آسمان پر نظر رکھتا ہے۔ سندھ کے گوٹھ سے بھی ستارے نظارہ کرتا ہے۔ جنوبی پنجاب میں بھی کوہ سلیمان سے طاقت حاصل کر رہا ہے۔ وسطی پنجاب میں بھی کہکشاں اس کی گردِ راہ ہے۔ خیبر پختون خوا میں بھی جوانی طغیانی سے معمور ہے۔ گلگت بلتستان میں جھیلیں اس کا آئینہ ہیں۔ آزاد کشمیر میں آبشاریں اس کے ارادے سیراب کر رہی ہیں۔ اب ساری دنیا مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج سے توانائی کشید کر رہی ہے ۔
سورج سب کا ہے۔ کچے گھر والوں کا بھی ۔فلک بوس پلازے رکھنے والوں والوں کا بھی۔ حویلیوں، بیرکوں، جاگیروں، مسجدوںاورخانقاہوںکابھی۔ دھوپ اب خشک سالی نہیں بلکہ سیرابی کیلئے پانی فراہم کر رہی ہے۔ پاکستان میں ہر جگہ سولر پلیٹیںنظر آتی ہیں۔ سورج کی نظر میںسب انسان ایک جیسے ہیں ان میں دیواریں، اوطاقیں ،حجرے، باڑ فصیلیں حارج نہیں ہو سکتیں ۔حضرت انسان انسانیت کا وقار برقرار رکھنے کیلئے اپنا علم، تحقیق، سرمایہ وقف کر رہا ہے ۔اس لیے اب ڈونالڈ ٹرمپ جیسے سوداگر اپنی دھرتی پر بوجھ بن رہے ہیں۔ نیتن یاہو جیسے چنگیز یہودیوںکیلئےبھی ہزیمت کا باعث ہیں۔ سامراج کے اپنے یار اور گماشتے مزید خباثتیں اپنے سر منڈھنے کو تیار نہیں ہیں۔ اب ہلاکو قبول ہے نہ ڈاکو۔ میزائل چاہئیں نہ ڈرون۔ بمبار سکواڈرن کا عشق ہے نہ ٹینکوں کا اشتیاق۔ اب شاہرا ہوں پر ناکے سمندروں پر آبنائے درکار ہیں نہ قزاق۔ اب تو ایک پٹی ایک سڑک کی حکمت قبول ہے۔تاکہ راستے کھلیں ۔دل ملیں، چھوٹی قومیں بھی اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں۔ ان کے نوجوان بھی اپنی قومیت پر فخر کر سکیں۔ اب جارج اور ویل کا 1984 نہیں ہے۔ اب کوئی بڑا بھائی ہمیں نہیں دیکھ رہا ہے۔ سب برابر ہیں۔ آہنی پردے پگھل چکے ہیں۔ پہاڑیاں کٹ چکی ہیں۔ گراں خواب چینی ہی نہیں سب دنیا والے سنبھل چکے ہیں۔
اب جنوبی ایشیا والوں کو بھی سنبھلنا چاہیے۔ پوری دنیا میں علاقائی تعاون کے معاہدے ،منصوبے اور اشتراک کامیاب ہو گئے۔ یورپ ایک کرنسی تک پہنچ گیا۔ پاسپورٹ ویزے کی حد بندیوں سے آزاد ہو گیا۔ شمالی امریکہ کا تعاون چل رہا ہے۔ آسیان کامیاب ہے۔ صرف جنوبی ایشیا کا سارک نہیں چل پا رہا۔ میٹنگ تک نہیں ہو پاتی۔باہمی تعاون تو دور کی بات ہے۔ شدت پسند مودی ہندوتوا کے ہاتھی پر سوار اپنے ہی سیکولرزم کو روند رہاہے۔سب سےبڑی جمہوریت کا دعویٰ رسوا ہو رہا ہے ۔اکھنڈ بھارت، اسرائیل کبیر انسانوں کی زندگی آسان نہیں بناتے بلکہ انسانوں کو اپاہج بنا دیتے ہیں۔
انسان کی زندگی اجیرن نہیں آسان ہونی چاہیے ۔جنوبی ایشیا میں خاص طور پر پاک سرزمین میں عمریں عدالتوں کے چکر کاٹنے۔وکیلوں کی بھاری فیس ادا کرنے۔ پیش کاروں کی مٹھی گرم کرنے میں گزر جاتی ہیں۔ اعلیٰ عدالتیں جب فیصلے کرتی ہیں ۔سائل اس وقت سالہا سال جیل میں گزار کر زندگی کی قید سے بھی آزاد ہو چکا ہوتا ہے۔ کہتے ہیں فیصلے عدالتیں کریں گی مگر عدالتوں کے فیصلے کون کرتا ہے ۔امکانات اور وسائل موجود ہیں۔ مگر ان کے دروازوں پر تالے لگے ہیں۔ چابیاں بااثروں کے پاس ہیں۔ اب ڈائنامائٹ جو پولیس اسٹیشنوں مسجدوں پر استعمال ہو رہا ہے وہ پہاڑوں میں استعمال ہونا چاہیے۔ تانبا، سونا ، کرومائٹ، یورینیم اور قیمتی دھاتیںبرآمد کر سکیں ۔
مفاہمت ناگزیرہے مگر چند سیٹوں اور آئینی عہدوں کیلئے نہیں۔ انسانوں کے، نسلوں کے،مختلف زبانیں بولنے والوں کے دل جوڑنے کیلئے استعمال کریں۔ اب دھوپ روکی جا سکتی ہے نہ سمندر کی ہوا۔ دریا اپنا راستہ خود بنا لیتے ہیں۔ نوجوان بھی بہتے ہوئے دریا ہیں۔ ان کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے اور بہاؤ بھی۔انہیں روکنے کی پالیسی خود فریبی ہے۔وقت ابن الوقتوں کا نہیں وقت کی دیوار سےآگے دیکھنے والوں کا ہے۔ فیصلے بند کمروں میں نہیں اب کھلی سکرین پر ہوتے ہیں۔ خوشنودی آسمانوں کے خدا کی حاصل ہونی چاہیے نہ کہ زمینی خداؤں کی۔
اب پبلک سیفٹی ایکٹ کا دور ہے نہ پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس نہ پیکا کا۔ پبلک مینٹیننس آرڈر۔دفعہ 144 این او سی۔ کالعدم سازی سیکیورٹی کلیرنس۔ Sanctions ۔ٹیرف، اب اپنی ہیبت کھو چکے ہیں۔گلیشیئر پگھل رہے ہیں، ان کو راستہ دیں،دریاؤں کو کھیتیاں سیراب کرنے دیں، سمندر تک پہنچنے دیں۔ فطرت برہم ہے،اس سے نہ ٹکرائیں،اب کمشنر، ڈپٹی کمشنر زمین سمندر اور دریاؤں کے مزاج شناس اور دوست ہونے چاہئیں۔جزیرے اب تفریح گاہیں ہیں ۔مطلق العنانوں کی پناہ گاہیں نہیں ۔
اصطلاحیں بدل رہی ہیں۔ پرانی فارمیشنیں ٹوٹ رہی ہیں۔ سفارت کاری عالمی تعاون کیلئے ہے عداوت کے لیے نہیں۔ قیادت اب آن لائن زیادہ موثر ہے۔ اس کیلئے بڑے بڑے محلات ،قلعے، بلٹ پروف گاڑیاں، پھڑ پھڑاتے قیمتی ملبوسات نہیں۔عام سستے کپڑے، کھلے ذہن، دور بین نظریں اور فراخ دل چاہئیں۔ باقی رہے نام اللہ کا۔