مکۃ المکرمہ میں اہم پیشرفت پر اقبال کی آرزو یاد آتی ہے۔
ایک ہو مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاک کاشغر
ترکیہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ ایک بڑی خبر ہے پاکستان اور ترکیہ اسلامی دنیا کی دو بڑی مسلمہ فوجی طاقتوں اور حرمین شریفین کے پاسبان کے درمیان معاہدہ یقیناََ دشمنان اسلام کیلئے ایک خطرہ اور مسلمانوںکیلئے آگے بڑھنے کی خبر ہے ۔انڈونیشیا سے بوسنیا تک مسلمانوں کے دل سے یہ دعا نکل رہی ہے کہ یہ معاہدہ تمام اسلامی ملکوں کی سلامتی کیلئے ایک روشن راستہ ہو ۔نیٹو کی طرز پر ایک اسلامی اتحادی فورس کی ضرورت ایک عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی سعودی عرب نے پہلے 41اسلامی ملکوں کی فوجی اشتراکی فورس قائم کر کے ایک پہل کی تھی جسکی سربراہی پاکستان کے ایک سابق آرمی چیف راحیل شریف کر رہے ہیں اس فورس نے ابھی تک کتنے مراحل طے کیے، کتنی منزلیں سر کیں اس سے متعلق کوئی رپورٹ دیکھنے میں نہیں آئی۔
اصل نکتہ ہے حرم کی پاسبانی...جو بہت وسعتیں رکھتا ہے۔ حرم کیا ہے اس کی پاسبانی کے کیا کیا مراحل اور حدود ہیں۔ حرم کی پاسبانی بنیادی طور پر تو سعودی عرب کی ذمہ داری ہے لیکن یہ صرف علاقائی اور زمینی حدود تک ہے ۔حرم کی پاسبانی بہت وسیع المقاصد ہے اسکے لیے خلفائے راشدین پھر بنو امیہ پھربنو عباس اور آخر میں عثمانی آئے لیکن حرم کی پاسبانی کی روح متاثر ہوتی رہی ۔خلفائے راشدین کے بعد مسلمان آپس میں منقسم ہوتے رہے۔ زیادہ تر خلفاء محض نام کے تھے۔ دراصل وہ سلاطین بن گئے تھے۔ ساتویں صدی سے تیرہویں صدی تک مسلمان حکمرانوں نے تمام علوم کی پاسبانی کی، بغداد علوم و فنون کا مرکز رہا۔
عین ان زمانوں میں جب امریکہ دریافت بھی نہیں ہوا تھا یورپ اندھیروں میں بھٹک رہا تھا ان دنوں مسلمان ریاضی دانوں، ماہرین فلکیات، فلسفیوں ،اطباسرجری، نفسیات کے اساتذہ نے جو ایجادات کیں، تصنیفات و تالیفات مرتب کیں ان کی بدولت ہی یورپ میں روشنی آئی ۔نائن الیون کے واقعے کے بعد خود امریکی اور یورپی یونیورسٹیوں نے باقاعدہ تحقیق کے ذریعے اعتراف کیا کہ یورپ اور مغرب میں احیائے علوم کی تحریک کا منبع مسلمان محققین کی تحقیقات ہی تھیں مسلمانوں کی نئی نسلوں کو اس روشن دور کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں ۔ غیر مسلم اسکالرز اور یونیورسٹیاں یہ باقاعدہ تسلیم کرتی ہیں کہ آج کی تیز رفتار ٹیکنیکل ڈیجیٹل زندگی میں ان چھ صدیوں میں عرب اسکالرز کی تحقیق اور جانفشانی کا بہت حصہ ہے۔
تاریخ یہ بھی گواہی دیتی ہے کہ خلافت عثمانیہ کے زوال اور مسلم فرمانروائی کے سمٹنے کے اسباب میں سب سے نمایاں امر یہ تھا کہ عثمانی خلفاء نے عسکری آلات فوجی تربیت اور خلفاء کی سلامتی پر زیادہ توجہ دی ۔عباسی خلفاء نے جس طرح علوم و فنون کی سرپرستی کی تھی قدیم و جدید علوم پر تحقیق کی ۔ عثمانی خلفاء اس سے دور ہوتے گئے۔ پھر ترکی یورپ کا مرد بیمار بن گیا۔ مصطفی کمال اتاترک کی پالیسیوں نے ترکی کو ایک بار پھر اپنا مقام دلوانے کی کوشش کی۔
اس پس منظر کو جاننا آج کے مسلمان کواس لیے ضروری ہے کہ اس وقت مسلمان امکانات معدنی وسائل کے حوالے سے جتنے مالدار ہیں آج کے اقتصادی افق پر اس حوالے سے مسلمانوں کا نقش تابندہ نہیں ہے۔ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کی اقتصادی دفاعی تعلیمی سماجی علمی طاقت بننے کے بجائے مغرب کے کاسہ لیس بن رہے ہیں۔ دولت مند اسلامی ممالک جہاں بادشاہتیں ہیں وہ اپنے مفادات کیلئے امریکہ کو ہی اپنا سرپرست جانتے ہیں حالانکہ امریکہ ہی مسلمانوں کے ازلی دشمن اسرائیل کا سب سے بڑا محافظ اور پالنہار ہے اس وقت مسلمانوں کو سب سے زیادہ خطرہ اسرائیل سے ہی ہے اسرائیل نے مسلمانوں کے قبلہ اول پر قبضہ کر رکھا ہے 1948ءسے اسرائیل امریکہ اور مغرب کی شہ پر فلسطینیوں پر مسلسل مظالم ڈھا رہا ہے ۔اب جب پہلے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوا پھر اب ترکیہ سعودی عرب اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ ہوا ہے تو اسرائیل غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی میں مصروف ہے ۔اور اسے ایران کے علاوہ روکنے والا کوئی نہیں ۔
معاہدوں کے باوجود اسرائیل لبنان کے مسلمانوں پر بربریت جاری رکھے ہوئے ہے اور وہاں کے علاقوں پر قبضہ بھی کر رکھا ہے تو حرم کی پاسبانی میں بھی سب سے زیادہ خدشات اسرائیل سے ہی ہو سکتے ہیں مسلمان ملکوں میں دفاعی معاہدے عام مسلمانوں میں بالآخر اسرائیل کے خلاف ہی ایک راست قدم خیال کیے جاتے ہیں۔
اب کاشغر سے نیل کے ساحل تک جہاں ایسے دفاعی معاہدوں سے یہ خوشگوار امید وابستہ کی جاتی ہے کہ یہ ہر اسلامی ملک کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں گے اسلامی دنیا کو نیٹو کے طرز پر ایک مشترکہ فوج کی ضرورت ہے اس کیلئے پہلے بھی کوششیں ہوتی رہی ہیں پین اسلام ازم کی تحریکیں بھی چلیں مگر اس میں مسلمان حکمرانوں کے قبائلی تنازعات اور علاقائی مفادات حائل رہے ہیں ۔1977 میں شہید ذوالفقار علی بھٹو نے سعودی عرب، لیبیا، ابوظہبی اور کئی دوسرے ملکوں کا تیز رفتار دورہ کیا تھا ان کا یہی کہنا تھا کہ اسلامی ملکوں میں ایک دفاعی معاہدہ کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی اس دورے سے واپسی کے چند ہی روز بعد جنرل ضیا الحق نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔
اس سہ ماہی ملکی دفاعی معاہدے کے بعد حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ حرم کی پاسبانی کو وسیع تر تناظر میں لے کر اسلامی ممالک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کریں۔ جو او آئی سی کے تحت بھی ہو سکتی ہے جس میں مسلم اسکالرز محققین آج کی جدید دنیا میں حرم کی باسبانی کا تصور واضح کریں۔ پھر صرف دفاعی ہی نہیں اسلامی ملکوں میں تجارتی اقتصادی معدنی تعلیمی اشتراک بھی ہو۔ مسلم نوجوان کسی بھی ملک میں ہوں بہت ذہین اور بصیرت سے سرشار ہیں۔ ان کی صلاحیتوں کو حرم کی پاسبانی کیلئے بروئے کار لانے کے منصوبے بنائے جائیں۔ آپس میں تجارت بڑھائی جائے ۔یورپ نے ایک کرنسی بنا لی ہے تو مسلم ملکوں کی ایک کرنسی کیوں نہیں ہو سکتی۔ عالمی بینک کی طرح اسلامی دنیا کا اپنا بینک کیوں نہیں اور آئی ایم ایف کی طرح مسلم ملکوں کا مالیاتی فنڈ کیوں نہیں ۔ایک خبر رساں ایجنسی ایک انٹرنیشنل ٹیلی ویژن کیوں نہیں ۔ اسلامی ممالک کی یونیورسٹیوں کا آپس میں اشتراک کیوں نہیں۔
اسلامی اسکالرز مصنفین کیلئے نوبل پرائز کی طرح کا ایک اسلامی پرائز بھی ہونا چاہیے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرح اسلامک نیشنل کمپنیاں کیوں نہیں ہیں۔ یہ واضح ہونا چاہیے کہ دشمن ہمیں مسلمان ہونے کی وجہ سے آگے نہیں بڑھنے دیتا اور مسلمان ملکوں پر جارحیت بھی ہوتی رہتی ہے۔ لیکن ہم مسلمان ہو کر بھی ایک دوسرے سے تعاون نہیں کرتے۔ یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں ۔
پاکستان ترکیہ سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ بہت خوش آئند ہے یہ اسلامی ملکوں کے درمیان ایک وسیع البنیاد اشتراک کی بنیاد بن سکتا ہے۔