• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگر دیکھا جائے، تو اِس وقت سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والا لفظ اور جنگ و فساد کا سبب’’آبنائے ہُرمز‘‘(Hurmuz Strait)ہے، جس کی ملکیت پر ایران کا اصرار ہے اور امریکا اسے اپنی تحویل میں رکھنا چاہتا ہے یا اُسے ایران کے کنٹرول سے نکال کر ایک آزاد بحری تجارتی راستے کے طور پر کُھلا رکھنا چاہتا ہے تاکہ وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں سے کوئی چُنگی یا ٹیکس نہ لیا جائے، جیسا کہ حالیہ جنگ سے پہلے اس آبی راستے سے گزرنے والے جہازوں سے کوئی محصول نہیں لیا جاتا تھا۔

آبنائے کا مطلب تنگ بحری راستہ ہے، جو خشکی کے دو آمنے سامنے کے بڑے حصّوں کو الگ کرتا ہو۔ ’’آبنائے ہُرمز‘‘ خلیجِ ایران اور خلیجِ اومان کو ملاتا ہے۔ زمینی لحاظ سے اس کے ایک طرف ایران ہے، تو دوسری طرف، وہ اومانی حصّہ ہے، جو متحدہ عرب امارات کو اومان سے جُدا کرتا ہے۔

یہ167 کلو میٹر لمبی گزرگاہ ہے، جس کی عمومی چوڑائی33 سے97 کلومیٹر ہے، لیکن ایران اور اومان کے درمیان سب سے تنگ مقام پر یہ33 سے39 کلومیٹر چوڑی رہ جاتی ہے۔ دنیا بَھر کے سمندروں میں 200کے قریب قدرتی آبنائیں ہیں، جن میں سب سے لمبی) 900کلو میٹر) اور مصروف ترین،’’ آبنائے ملاکا‘‘ ہے، جو دنیا کی40فی صد سمندری تجارت کا مرکز ہے اور چین، جاپان، جنوبی کوریا کو تجارتی لحاظ سے مشرقِ وسطیٰ سے جوڑتی ہے۔ آبنائے ہُرمز اندازاً20 فی صد سمندری تجارتی گزرگاہ ہے۔ دنیا کی 290 کلو میٹر سب سے چوڑی’’ آبنائے ڈنمارک‘‘ ہے اور سب سے تنگ تُرکیہ کی’’آبنائے باسفورس‘‘ ہے۔

لفظ’’ہُرمز‘‘ کے کئی تاریخی اور اساطیری ماخذ بھی بتائے گئے ہیں۔ یہ قرونِ ِ وسطیٰ میں ایک آزاد اور خوش حال ریاست تھی، جو خلیجِ فارس اور بحیرۂ عرب کے درمیان واقع تھی۔ تاریخ دانوں کی ایک رائے کے مطابق، یہ لفظ زرتشتی مذہب کے ایک بڑے دیوتا ’’اَہُورا مزدا‘‘ کے نام سے ماخوذ ہے، جسے زرتشتی مذہب کے پیروکار عقل و دانش کا سب سے بڑا دیوتا مانتے تھے۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مسلمانوں نے’’کاظمہ‘‘ کے معرکے میں ایرانیوں کو شکست دے کر عراق فتح کیا تھا، اُس وقت مسلمان فوج کی قیادت حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کر رہے تھے اور اُن کے مقابلے میں ایرانیوں کا متکبّر و مغرور سپہ سالار، ہُرمز تھا۔ اِس فتح کے بعد ہُرمز کے نام سے یہاں ایک مسلم ریاست قائم ہوئی، جو گیارہویں سے چودہویں صدی عیسوی تک قائم رہی۔

سولہویں صدی کے اوائل میں اِس جزیرے پر پُرتگیزیوں نے قبضہ کر لیا اور 1515ء میں اسے اپنی جاگیر ریاست کا درجہ دے دیا۔ صفوی سلطنت، انگریزوں کی معاونت سے قائم ہوئی تھی اور انگریزوں نے صفوی سلطان شاہ عباس اوّل کی مدد سے پُرتگیزیوں کو یہاں سے نکال بھگایا اور یوں ہرمز پر صفوی سلطنت کا اقتدار قائم ہو گیا۔

صفوی سلطان نے بدلے میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو اِس راستے تجارت کے لیے بہت سی مراعات دیں۔ پھر مراعات سے آگے بڑھ کر انگریزوں نے ہُرمز پر تجارتی اور عسکری کنٹرول حاصل کر لیا اور خلیجِ فارس پر اپنی تجارتی اجارہ داری قائم کر لی۔ اُدھر مشرقِ بعید میں آبنائے ملاکا سمیت متعدّد تنگ بحری راستے بھی انگریزوں کے قبضے آگئے۔

دنیا کی تمام قدرتی آبنائیں ٹول فِری ہیں، یعنی ان سے گزرنے والے جہازوں سے کوئی محصول یا ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا۔ البتہ جو آبی گزرگاہیں انسانی محنت سے بنی ہیں، اُن سے گزرنے والے جہازعائد کردہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ انسانی ہاتھوں سے بننے والی آبناؤں کو آبنائے نہیں، نہر کہا جاتا ہے، جیسے نہر سوئیز اور نہر پاناما ہیں۔

دنیا میں آبنائوں کی کُل تعداد دو سو کے قریب ہے، جن میں سے بیس سے پینتیس ایسی ہیں، جو دنیا کی تجارت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ آبنائے مَلاکا سے گزرنے والے جہازوں سے کچھ ٹیکس وصول کرنے کی بات ہوئی تھی، لیکن عالمی تجارتی اداروں کے احتجاج پر انڈونیشیا کی حکومت نے وضاحت کی کہ یہ محض ایک تجویز تھی، نہ کہ کوئی فیصلہ۔

اِس وقت ایران اور امریکا، دونوں آبنائے ہُرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹیکس وصول کرنے کی باتیں کر رہے ہیں، لیکن عالمی سمندری قوانین کی رُو سے دونوں ممالک اس کے مجاز نہیں ہیں اور اقوامِ عالَم اس کی اجازت نہیں دیں گی۔ رہی دھونس اور دھمکی، تو دونوں مُلک جنگ میں مصروف ہیں اور اُن کا خیال ہے کہ’’جنگ اور محبّت میں سب کچھ جائز ہے‘‘۔ جس دنیا کی بیس فی صد تجارت اِس آبنائے سے ہوتی ہو اور تیل، گیس کی دنیا تک رسائی جس پر منحصر ہے، وہ کیسے اس جبری ٹیکس کی وصولی جائز قرار دے گی؟ برطانیہ، فرانس اور آبنائے ہُرمز کا دوسرا شراکت دار مُلک، اومان کسی ٹیکس کی وصولی کی مخالفت کر چُکے ہیں۔

ایرانی حکومت اور امریکی انتظامیہ کے مابین کشمکش، جو کُھلی جنگ میں بدل چُکی ہے، دونوں کو ایسے اقدامات کی طرف دھکیل رہی ہے، جو اخلاقی اور عالمی قوانین کے منافی ہیں۔ حالیہ ایران، امریکا جنگ سے پہلے سمندر سے نکلنے والا تیل اور مائع قدرتی گیس کا ایک چوتھائی اِسی آبنائے کے ذریعے دنیا تک پہنچتا تھا۔ اِس وقت دو ممالک کی باہمی کشیدگی کی وجہ سے آبنائے ہُرمُز سے آبی ٹریفک تقریباً معطّل ہے۔

خام(برینٹ) تیل، ریفائن آئل اور اس کی دیگر مصنوعات اور کھاد اِسی راستے دنیا کے بڑے حصّے میں برآمد ہوتی ہیں۔ زراعت، صنعت اور دواسازی جیسے بنیادی شعبوں کو مطلوب توانائی گیس اور تیل ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ بجلی کی پیداوار میں بھی تیل اور گیس کی ضرورت ہوتی ہے۔ غرض، یہ چیزیں اب انسان کی بنیادی ضرورت بن گئی ہیں، جن کے بغیر گاڑیاں چل سکتی ہیں اور نہ ہوائی جہاز پرواز بھر سکتے ہیں۔

گزشتہ دنوں آبنائے ہُرمز کی بندش کے مضرات اور نتائج پر اقوامِ متحدہ کے ادارے’’UN trade & development ‘‘ کی ایک تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ دونوں ممالک کی طرف سے مسلسل پیدا کی جانے والی رکاوٹوں نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ تھوک کی تجارت کے لیے گاڑیوں اور تھوک کے بھائو فروخت ہونے والی اشیاء کے لیے گوداموں کے کرائے اوپر جارہے ہیں، جن کی وجہ سے اِن اشیاء کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں۔ موجودہ دَور میں دو ممالک کی جنگ کے اثرات صرف اُن ہی تک محدود نہیں رہتے۔

یوکرین، روس جنگ نے پہلے ہی دنیا کو متاثر کر رکھا ہے۔ وہ جنگ ابھی تک جاری تھی کہ ایران پر اسرائیل اور امریکا نے حملہ کر دیا، جس سے ایک نیا عالمی بحران پیدا ہو گیا۔ جیو پولیٹیکل کشیدگی کے اِن دو سرچشموں نے اشیائے ضرورت کی فراہمی کے ذرائع مسدود کر رکھے ہیں اور اشیائے خوردنی کی قیمتوں کا رُخ بھی آسمان کی طرف کر دیا ہے۔ کھاد کی بندش سے زراعت بُری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ زرعی اجناس کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

جنگ کے سبب خلیجی ممالک کی ہوائی سروس بار بار منقطع یا محدود ہوجاتی ہے۔ پاکستان جیسا مُلک، جو پہلے ہی توانائی کے بحران اور گرانی کے بوجھ تلے دَبا ہوا ہے، آبنائے ہُرمز کے بحران کی وجہ سے مزید پیچیدگیوں کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ اِسی لیے ایران، امریکا جنگ رکوانے کی سب سے زیادہ اور مخلصانہ کوششیں پاکستانی وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر نے کیں۔ اِن کوششوں سے مصالحت کے امکانات پیدا ہوتے ہیں، تو دونوں طرف موجود ایسے عناصر، جن کا مفاد جنگ جاری رہنے میں ہے، سب کچھ سبوتاژ کر دیتے ہیں۔

چین اپنی تیل کی ضروریات کا 37فی صد اِسی آبنائے ہرمز کے راستے درآمد کرتا ہے۔ بھارت مائع پٹرولیم گیس اور قدرتی گیس، کھاد اور دیگر معاون پٹرولیم اشیاء کا چالیس سے پینتالیس فی صد اِسی آبنائے کے راستے حاصل کرتا ہے، جب کہ آسٹریلیا کا انحصار بھی اسی راستے پر ہے۔ ان کے علاوہ سنگاپور، فلپائن، سوڈان، سری لنکا، تنزانیہ، صومالیہ، پاکستان، تھائی لینڈ، کینیا، نیوزی لینڈ اور موزمبیق کی کھاد اور زرعی ترقّی کی معاون اشیاء کی درآمد کا انحصار آبنائے ہُرمز پر ہے۔ یوں اِس آبنائے کی بندش اِن ممالک کی زراعت و تجارت اور مجموعی معیشت پر بہت بُرے اثرات مرتّب کر رہی ہے۔

ہُرمز کی بندش سے اربوں افراد کی زندگیاں بحران کا شکار ہو رہی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ممالک غریب اور ترقّی پذیر ہیں۔ امیر خلیجی ممالک میں سے سعودی عرب، قطر اور عرب امارات کی تیل برآمدات کا انحصار آبنائے ہُرمز پر ہے۔ البتہ، سعودی عرب نے کچھ متبادل اقدامات بھی کیے ہیں، جن کے تحت بارہ سو کلومیٹر لمبی پائپ لائن بچھا کر مشرقی ساحل کے شہر، بقیق میں پراسیسنگ پلانٹس سے بحرِ احمر کے کنارے، مغربی ساحل پر شاہ فہد صنعتی بندرگاہ ینبوع تک تیل پہنچا یا جا رہا ہے۔

یہ کوئی سَستا کام نہیں ہے۔ بحرِ احمر کے جنوب میں اریٹیریا اور جبوتی کے سامنے، خلیجِ عدن پر باب المندب کی انتیس سے پینتیس کلومیٹر چوڑی آبی پٹّی ہے۔ آج کل یمنی حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان سخت کشیدگی اور کُھلی جنگ کی سی حالت ہے۔ ایران دھمکی دے رہا ہے کہ وہ اپنے ہم عقیدہ حوثی عسکریت پسندوں کے ذریعے یا خود باب المندب کو بند کر دے گا۔ اگر یہ دھمکی بروئے عمل آ گئی، تو سعودیہ کا یہ بہت منہگا منصوبہ اُس کے گلے پڑ جائے گا۔

خلیجی ممالک کو اللہ تعالیٰ نے سمندروں اور صحرائوں سے تیل کی دولت دی ہے، لیکن تیل کی برآمد کے علاوہ باقی تجارتی گہما گہمی اور رونق اُن کی اپنی صنعتی پیداوار پر منحصر نہیں ہے۔ اُن کی مارکیٹس اور شاپنگ مالز کی رونق درآمد شدہ مال ہی سے ہے۔ اِس لیے اُنھیں تیل، گیس اور ان سے متعلقہ مصنوعات کی برآمد اور مالِ تجارت درآمد کرنے کے لیے آبنائے ہُرمز پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے مُلک امریکا، روس، کینیڈا، چین، برازیل اور میکسیکو ہیں۔ ان میں سے چین کے سِوا کسی مُلک کو تیل، گیس، کھاد وغیرہ برآمد کرنے کے لیے اِس آبنائے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ اِس لیے اس کے بند ہونے سے اُن ممالک پر کوئی بڑے اثرات مرتّب نہیں ہوتے۔ مشرقی اور جنوبی ایشیا کے ممالک زیادہ تر اِسی آبنائے ہرمز پر انحصار کرتے ہیں، جب کہ امریکا اور یورپ کو اِس کے بند ہونے سے کوئی بڑا معاشی جھٹکا نہیں لگتا۔

ہمارا موضوع ایران، امریکا جنگ کے واقعات نہیں، بلکہ آبنائے ہُرمز کی بندش اور اس کے مضرات ہیں۔ امریکا اور ایران اِس جنگ میں بہت سے عالمی قوانین، اخلاقی معیارات اور انسانی مفادات کو مجروح کر رہے ہیں۔ امریکی بحریہ کا ایک ماٹو’’Keeping seas open and free ‘‘ہے، لیکن امریکا اِس معاملے میں اب تک نہ صرف ناکام رہا ہے، بلکہ اس نے خود ایسے بلنڈر کیے ہیں، جن کی وجہ سے کم از کم آبنائے ہُرمز کو کھلا اور آزاد نہیں رکھا جا سکا۔

امریکا بنیادی طور پر ایک سمندری مُلک ہے کہ خلیجی ریاستوں کی طرح اِس کے چاروں طرف سمندر ہے۔ اِسی لیے امریکا کی آزادی کے وقت سے اس کی افواج کا سربراہ ہمیشہ بحریہ ہی سے لیا جاتا ہے۔ ایران کا آبنائے ہرمز کو بند کرنا سمندروں سے متعلق عالمی کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔ تاہم، جب امریکا خود عالمی اداروں کے بہت سے ضابطے اور قوانین پامال کرتا ہے، تو وہ ایران کو کس اخلاقی اصول کے تحت روک سکتا ہے۔

ایران نے بحری جہازوں کو گزرنے سے روکنے کے لیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا دی تھیں اور امریکی نیوی، صدر ٹرمپ کے بہت سے دعووں کے باوجود اُنہیں سُرنگیں بچھانے سے روک سکی اور نہ ہی سمندر کو سرنگوں سے صاف کر سکی۔ گویا، اِس پہلو سے امریکی بحریہ سمندروں کو کُھلا اور آزاد رکھنے میں ناکام ہے۔ جس آبنائے کو روزانہ تقریباً 100بحری جہاز عبور کرتے تھے، اب بمشکل دس جہاز وہاں سے گزرتے ہیں۔ گویا، یہ آبنائے نوّے فی صد بند ہے۔  (مضمون نگار، لگ بھگ 40 برس تک شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہے۔ معروف مذہبی اسکالر اور کئی کتب کے مصنّف ہیں)