• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کویت، بحرین کے بعد خلیجی عرب ریاستوں میں رقبے کے لحاظ سے سب سے چھوٹی ریاست ہے۔ اگر متحدہ عرب امارات میں چھے امارتیں اکٹھی نہ ہوتیں، تب بھی ابوظبی کا رقبہ کویت سے کچھ زیادہ ہی ہوتا۔ کویت کے شمال مغرب میں عراق، جنوب مغرب میں سعودی عرب اور مشرق میں خلیجِ فارس ہے۔ یہ ریاست خلیجِ فارس کے سر پر واقع ہے، جس کی وجہ سے اِسے تجارتی لحاظ سے بہت اہمیت حاصل ہے۔ کویت ایک قبائلی ریاست کی صُورت آٹھ سو قبلِ مسیح سے موجود ہے۔

موجودہ حُکم ران قبیلے آلِ صباح سے بہت پہلے اِس پر بنی خالد قبیلہ حکومت کرتا تھا، جس کے سردار کا نام شیخ برّاک بن غریر بن حُمَید الخالدی تھا۔ شیخ برّاک نے’’کوت‘‘ کے نام سے اپنا گھر ایک قلعے کی صُورت’’بہیتہ‘‘ میں تعمیر کروایا، جس کی نسبت سے اِس علاقے کا نام کویت پڑ گیا۔ مرکز البحوث و الدّراسات الکویتیہ) Center for Research and Studies of Kuwait)کے صدر ڈاکٹر عبداللہ الغنیم کی تحقیق کے مطابق، کویت 1613عیسوی میں ایک ریاست کے طور پر موجود تھا۔ آلِ صباح کے ایک سردار شیخ مبارک الصّباح کا 1913ء کا برطانوی پولیٹیکل ریزیڈنٹ کو لکھا خط بھی اِس دعوے کی تصدیق کرتا ہے، جس میں شیخ نے لکھا تھا کہ’’کویت ایک غریب لوگوں کی سرزمین ہے، جس پر ہمارے جدّ ِ امجد، الصّباح 1613ء میں رہتے تھے۔‘‘

بنی خالد کا اقتدار کویت اور قطر دونوں پر قائم تھا۔ عرب قبائل پانی کی ضرورت کے تحت یا موسم کی سختی کی وجہ سے نقل مکانی کرتے رہتے تھے۔ عُتب یا عُتبہ، کویت کے وہ قبائل تھے، جو نجد اور اس کے ارد گرد خانہ بدوشی کی زندگی گزارتے تھے۔ بنی خالد کے زوال کے بعد اُنھیں اپنی حفاظت کی ضرورت پیش آئی، تو اُنہوں نے خانہ بدوشی تَرک کر کے مستقل آبادکاری کا فیصلہ کیا۔ 1718 عیسوی میں آلِ خلیفہ نے قطر پر اپنی حاکمیت قائم کی اور آلِ صباح کے شیخ صباح کویت کے باضابطہ حُکم ران بنے۔

اِس طرح آلِ صباح کی اِس پر حُکم رانی قائم ہوئی اور ابھی تک اِسی خاندان کو اقتدار حاصل ہے۔ خلافتِ عثمانیہ سے اس کا ایک ڈھیلا ڈھالا ماتحتی کا تعلق تھا۔ خلافتی ریکارڈ میں اسے بصرہ کی ولایت کا حصّہ شمار کیا جاتا تھا، لیکن خلیفہ کی عمل داری براہِ راست اس پر کبھی قائم نہیں ہوئی۔ قبائلی تعلقات کے لحاظ سے آلِ صباح نجد کے قبیلے آلِ سعود کے حلیف اور نجد (ہیل) کے ایک بڑے بااثر قبیلے آلِ رشید کے حریف تھے۔

آلِ رشید، خلافتِ عثمانیہ کے وفادار تھے، جب کہ آلِ سعود اور آلِ صباح نے خُود کو برطانیہ کی صوبے داری (governorate)سے وابستہ کر رکھا تھا۔ آلِ سعود کے شروع ہی سے خلافتِ عثمانیہ کی بجائے برطانیہ سے گہرے تعلقات تھے۔ آلِ رشید اور آلِ سعود کے درمیان ایک کشمکش تھی اور اُن کی آپس میں لڑائیاں بھی ہوتی رہتی تھیں۔ آلِ رشید نے آلِ سعود کو1891ء میں ملیداء کی لڑائی میں شکست دے کر اُن کے مرکز، ریاض سے مار بھگایا، تو آلِ سعود نے کویت میں آلِ صباح کے ہاں جا کر پناہ لی۔

کچھ عرصہ بعد کویت کے شیخ مبارک الصباح نے عبدالعزیز بن سعود کو اسلحہ اور ساٹھ، ستّر جنگ جُوؤں کا ایک دستہ فراہم کیا اور مالی مدد بھی دی۔ 1901ء میں عبدالعزیز بن سعود نے آلِ رشید پر شب خون مارا اور اُنہیں شکست دے کر ریاض اُن سے چھین لیا۔ 1902 ء میں کویت کے امیر کی مزید عسکری مدد سے آلِ سعود نے پورے نجد پر قبضہ کر لیا اور اپنی قبائلی حکومت قائم کر لی، جو آگے چل کر’’مملکتِ سعودیہ‘‘ بنی۔

نجد کے قدیم قبیلے، جلاہمہ کی شاخوں میں سب سے نمایاں بنو صباح اور بنو تمیم ہیں۔ بحرین کے بنو خلیفہ بھی نجد سے نکل کر خلیج کے ساحل پر آباد ہونے والے اِن قبیلوں میں سے تھے۔ یہ قبائل خانہ بدوشی تَرک کر کے شہری زندگی میں داخل ہوئے۔ انیسویں صدی کے نصف اوّل میں شیخ عبداللہ بن صباح (عبداللہ اوّل) اور شیخ جابر بن عبداللہ (جابر اوّل) کویت کے حاکم تھے۔1921ء سے 1950ء تک احمد الجابر الصّباح حُکم ران رہے۔

عرب قبیلوں کی معیشت تجارت اور جہاز سازی کے علاوہ موتیوں کی تجارت پر منحصر تھی۔ وہ کم گہرے اور گرم پانیوں والے سمندر سے قیمتی موتی نکالتے تھے۔ اُس زمانے میں اور موجودہ دَور میں بھی بھارت کی بندرگاہ، ممبئی اِن موتیوں کی خرید و فروخت کی سب سے بڑی منڈی تھی۔ 1896ء سے 1916ء تک شیخ مبارک بن صباح کویت کے حاکم رہے۔ اِن نجدی قبائل کی جو بھی حکومتیں قائم ہوئیں، اُنہوں نے خلافتِ عثمانیہ کی ماتحتی سے بچنے کے لیے برطانیہ سے معاہدے کیے۔

شیخ مبارک بن صباح نے برطانیہ کے ساتھ 1899ء میں جو معاہدہ کیا، اُس کی شرائط میں شامل تھا کہ شیخ مبارک اور اُن کے جانشینوں میں سے کوئی بھی برطانوی حکومت کی اجازت کے بغیر کسی غیر مُلکی ایجنٹ یا نمائندے کو قبول نہیں کریں گے۔ برطانیہ کی منظوری کے بغیر کویت کا کوئی علاقہ کسی دوسرے مُلک کو فروخت کیا جائے گا، نہ ہی پٹّے پر دیا جائے گا اور کسی کو کسی بھی طریقے سے منتقل بھی نہیں کیا جائے گا۔

اِس معاہدے کے بدلے انگریزوں نے کویت کی سلامتی اور شیخ مبارک کے اقتدار کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھنے کی ضمانت دی۔ انیسویں صدی کے اوائل میں روس، جرمنی اور برطانیہ وغیرہ کے بحری جہاز دخانی انجنز (Steam engines) سے چلتے تھے، جن کے لیے کوئلے کی ضرورت پیش آتی تھی۔ 1907ء میں کویت پر برطانیہ نے کچھ اور شرائط لاگو کیں، جن میں سے ایک یہ تھی کہ کویت اپنی سرزمین پر کسی دوسرے مُلک کو کوئلے کے اسٹیشن قائم کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

فروری 1938ء میں کویت کے اندر دنیا کے دوسرے بڑے ریتلے پتھر کے میدان، برقان فیلڈ میں تیل دریافت ہوا۔ 1946ء میں تیل کی پہلی کھیپ برآمد کی گئی۔ 1961ء میں مکمل آزادی کے بعد کویت میں تعمیر و ترقّی کا دَور شروع ہوا۔ شان دار اور جدید شہر، اعلیٰ پائے کی سڑکیں اور پُل تعمیر ہوئے۔ کویت، سعودی عرب کے بعد دوسرا مُلک تھا، جو اپنی ترقّی کے علاوہ عالمی سطح پر مسلمانوں کی رفاہی اور تمدّنی ترقّی کے لیے بھی بھاری امداد دیتا رہا۔

اُس عرصے میں کویت کی فی کس آمدنی کی شرح سب سے بلند تھی۔ شخصی حکومت ہونے کے باوجود یہ خلیجی ریاستوں میں پہلا مُلک ہے، جس میں1938 ء میں دستوری پارلیمنٹ کا قیام عمل میں آیا، مختلف سیاسی جماعتوں کی تشکیل ہوئی اور باقاعدہ انتخابات ہوتے رہے اور یہ پہلا مُلک ہے، جس میں 1953ء میں نئی نسل کی ترقّی کے لیے خصوصی فنڈ قائم کیا گیا۔ کویت کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اُس نے خلیجی ممالک میں سب سے پہلے 30جون 1946ء کو خام تیل برآمد کیا۔ علمی، فکری اور ابلاغی شعبوں میں بھی کویت کو پہل کار (pioneer) کی حیثیت حاصل ہے۔

پہلا دینی، علمی، ادبی اور سیاسی رسالہ’’کویت‘‘ کے نام سے 1928ء میں شائع ہونا شروع ہوا، جو مالک اور ناشر و مدیر، شیخ عبدالعزیز الرّشید کی وفات کے بعد بند ہو گیا، لیکن اُن کے بیٹے نے 1950ء کے عشرے میں اسے دوبارہ شائع کرنا شروع کیا۔ کویت میں گزشتہ صدی کے نصف میں فنی و ثقافتی دَور کا آغاز ہو گیا تھا اور اسٹیج ڈرامے دِکھائے جانے لگے تھے۔ وزارتِ اوقاف کے زیرِ اہتمام شان دار علمی و فکری رسالہ،’’الوعی الاسلامی‘‘، کویت کی علامت بن کر شائع ہوتا ہے۔1960ء کے عشرے میں ’’البلاغ‘‘ اور ’’المجتمع‘‘ جیسے وقیع رسالے طبع ہونا شروع ہوئے۔

1979ء میں ایران میں خمینی انقلاب رُونما ہوا۔ ایران کے بادشاہ، رضا شاہ پہلوی پر امریکا اور اُس کے حلیف مغربی ممالک کے گہرے اثرات تھے۔ رضا شاہ پہلوی خُود کو عرب ممالک میں امریکا کا’’پولیس مین‘‘کہلواتا تھا۔ اِسی وجہ سے ایران کی مذہبی اشرافیہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نسل کے دِلوں میں امریکا سے سخت نفرت تھی۔ ایران کا بادشاہ خلیجی ریاستوں پر دھونس بِٹھائے رکھتا تھا، لیکن اسلام کے نام پر آنے والے انقلاب کی دھاک کچھ زیادہ تھی۔ انقلابی عناصر، اپنا انقلاب پڑوسی ممالک میں برآمد کرنے کی باتیں کر رہے تھے اور امریکا بھی اُنھیں ایرانی انقلاب سے ڈرا رہا تھا۔

اِس انقلاب سے متعلق بجا طور پر ایک تاثر تھا کہ یہ خلیجی ریاستوں کے لیے خطرہ ثابت ہوگا۔ اِن ریاستوں نے اپنے دفاع کے لیے امریکا سے ضمانت حاصل کی اور اپنے ہاں امریکی اڈّے قائم کر لیے۔ ایرانی انقلاب کی شدید نفرت کا رُخ امریکا کی طرف تھا اور وہاں سرکاری و عوامی اجتماعات، خطباتِ جمعہ، تہران کی سڑکوں اور بازاروں میں’’مرگ بر شیطانِ بزرگ‘‘ کے نعرے بلند ہو رہے تھے۔ امریکا کے اِس خطے سے مفادات وابستہ تھے۔ روس اور امریکا، دونوں عرب دنیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتے تھے۔

جن عرب ممالک میں فوجی بغاوتوں کے ذریعے آمر اقتدار پر قابض ہوئے، اُنہوں نے کمیونزم اور سوشلزم کے مرکز، روس کے ساتھ تعلقات قائم کر لیے۔ امریکا نہیں چاہتا تھا کہ خلیجی ریاستوں کے سیاسی نظام پر کمیونزم کے اثرات پڑیں۔ صدام حسین، بعث پارٹی کے جس عراقی دھڑے کا لیڈر تھا، وہ سوشلزم کا عَلم بردار تھا، لیکن ڈکٹیٹر کی کوئی کل سیدھی نہیں ہوتی۔ شیعہ کمیونٹی، آبادی کے لحاظ سے عراق میں بہت وزن رکھتی تھی، لیکن صدام حسین نے اِس مسلک کے پیروکاروں کو دَبائے رکھا، یہاں تک کہ اُن پر زہریلی گیسز بھی استعمال کیں۔

ایرانی انقلاب کے بعد عراق کو بھی خطرہ لاحق تھا کہ امام خمینی کے اثرات اُن کے یہاں پھیلیں گے۔ امریکا نے صدام حسین کو یہی تاثر دیا اور اُسے ایران سے جنگ پر اُکسایا۔ یوں 22ستمبر1980ء کو عراق نے ایران پر حملہ کر دیا۔ یہ تباہ کُن جنگ آٹھ سال جاری رہنے کے بعد کسی فریق کی ہار جیت کے بغیر اِس طرح ختم ہوئی کہ دونوں اطراف ایک لاکھ، 80ہزار تک افراد مارے گئے، جب کہ معاشی تباہی اس کے علاوہ تھی۔

سعودی عرب نے جنگ کے دَوران عراق کو کم و بیش پچاس بلین ڈالرز بطورِ قرض دیے اور جنگ کے عرصے میں تیل بھی مفت دیا جاتا رہا۔ کویت نے عراق کو 14بلین ڈالرز بطورِ قرض دیے تھے۔ جنگ ختم ہوئی، تو اُس نے اپنی رقم واپس مانگی۔ صدام حسین کنگال ہو چُکا تھا، سو، اُس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ عراق نے یہ جنگ خلیجی ممالک کی حفاظت کے لڑی اور یہ رقم کویت نے قرض نہیں، بلکہ جنگ کے اخراجات کے لیے بطور امداد دی تھی۔

کویت نے رقم واپسی پر اصرار کیا، تو صدام حسین نے 2دسمبر1990ء کو کویت پر قبضہ کر کے اُسے اپنا صوبہ قرار دے دیا۔ وہاں کی سونے اور ہیرے جواہرات کی دُکانیں لُوٹ لی گئیں۔ بینکس سے سارا سرمایہ نکال لیا گیا۔ کویت کے شاہی خاندان، وزراء اور دیگر نمایاں شخصیات کو مُلک چھوڑ کر سعودی عرب میں پناہ لینی پڑی۔ اِس پناہ سے گویا اُس احسان کا بدلہ دیا گیا، جب الرّشید قبیلے نے آلِ سعود کو ریاض سے نکال دیا تھا اور اُنہوں نے کویت میں پناہ لی تھی۔ 17جنوری 1991ء کو امریکا نے کویت کو آزاد کروانے کے لیے عراق پر حملہ کیا اور28 فروری 1991ء کو کویت، عراقی قبضے سے آزاد تو ہو گیا، لیکن عراق نے اُس کے تیل کے کئی کنویں جلا دیے اور اُس کے انفرا اسٹرکچر کو بھی بھاری نقصان پہنچایا۔ اِسی جنگ کی بنیاد پر امریکا نے کویت اور دیگر خلیجی ممالک میں اپنے مستقل فوجی اڈّے قائم کیے۔

کویت کی احمد الجابر ایئر بیس اور السالم ایئر بیس کے علاوہ زمینی فوج کے متعدّد مقامات پر کیمپ ہیں، جہاں سے امریکی ڈرون اور جنگی طیارے ایران پر بم باری کرتے ہیں۔ 1996ء میں قطر کے اندر خطّے کی سب سے بڑی العدید ایئر بیس قائم کی گئی، جہاں امریکا نے اپنی فوج بِٹھا دی۔ کویت پر دیگر خلیجی ریاستوں کے مقابلے میں شدید اور زیادہ ایرانی حملوں کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ ایران کے سب سے زیادہ قریب ہے اور وہاں بہت آسانی سے ایرانی ڈرونز برسائے جا سکتے ہیں۔

کویت، خلیج عرب کاؤنسل کا رُکن ہے، لیکن عالمی تنازعات میں نہیں اُلجھتا، البتہ امریکا سے گہرے تعلقات کے باوجود، فلسطین پر اسرائیل کے قبضے اور غزہ پر وحشیانہ حملوں کا سخت مخالف ہے اور اِس پر کُھل کر اپنا موقف پیش بھی کرتا ہے۔ حالیہ امریکا، اسرائیل، ایران جنگ میں کویت ایک بار پھر میزائلز اور ڈرونز حملوں کا نشانہ ہے۔ ایران، کویت کے فوجی اڈّوں کے علاوہ تیل صاف کرنے والے کارخانوں(Oil Refineries)، بڑے تجارتی مراکز اور شہری سہولتوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ شہری زندگی بھی تباہ کر رہا ہے۔

ایران نے کویت کی90 فی صد سِول آبادی کے لیے سمندری پانی پینے کے قابل بنانے والا سب سے بڑا آبی پراجیکٹ تباہ کر دیا ہے۔ گویا، کویت ایک بار پھر1991ء کی صُورتِ حال سے دوچار ہے۔ بجلی گھروں پر ایرانی حملوں کی وجہ سے بجلی کی سپلائی میں کمی کرنی پڑی ہے۔ ہوائی سروس کی بار بار بندش، تجارتی مراکز پر خطرات کے بادل، تیل کی برآمد میں تعطّل نے پورے معاشرے پر مالی اور نفسیاتی اثرات مرتّب کیے ہیں۔ حالیہ جنگ میں کویت کی معیشت اور انفرا اسٹرکچر کو خاصا بڑا دھچکا لگا ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش سے اُس کے تیل کی برآمد میں بھی رکاوٹ پیدا ہوئی، جس کی وجہ سے اُس کی خام مُلکی پیداوار میں خاصی کمی آ گئی، لیکن اس کی معیشت زمیں بوس نہیں ہوئی۔ جنگ کی وجہ سے رواں سال بینکنگ سیکٹر میں چھے فی صد کمی آئی۔ بیرونی سرمایہ کاری میں کمی سے معیشت پر منفی اثرات مرتّب ہوئے۔ حکومت پر واجب الادا قرضوں کا بوجھ ہے، لیکن جنگ کا وبال ہٹنے اور تیل کی برآمد شروع ہو جانے کے بعد اِس کی معیشت کے مستحکم ہونے کے روشن امکانات بھی واضح ہیں۔

(مضمون نگار، لگ بھگ 40 برس تک شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہے۔ معروف مذہبی اسکالر اور کئی کتب کے مصنّف ہیں)