• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سانحۂ پمز پر وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے اپنا استعفیٰ وزیرِ اعظم کو بھیجا یا نہیں؟

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال— فائل فوٹو
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال— فائل فوٹو

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے پمز اسپتال سانحے سے متعلق استعفے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کی تردید نہیں کی۔

’جیو نیوز‘ کے پروگرام ’کیپٹل ٹاک‘ میں میزبان حامد میر نے وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال سے سوال کیا کہ آپ نے وزیرِ اعظم کو اپنے ہاتھ سے لکھا استعفیٰ بھجوایا مگر وزیرِ اعظم نے استعفیٰ قبول نہیں کیا۔

اس سوال پر مصطفیٰ کمال نے تردید نہیں کی اور کہا کہ جب آپ کو معلوم ہے تو آپ مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں؟

میزبان حامد میر نے کہا کہ یعنی وزیرِ اعظم سے پوچھنا چاہیے؟

اس پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جہاں سے آپ کو معلوم ہوا ہے وہیں سے پوچھ لیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا تھا کہ میں نے سانحۂ پمز اسپتال پر خود کو احتساب کے لیے پیش کر دیا ہے۔

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے استعفیٰ دینے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ احتساب کے لیے سب سے پہلے خود کو وزیرِ اعظم کے آگے پیش کیا ہے، وزیرِ اعظم میرے باس ہیں، وہ جو بھی فیصلہ کریں۔

واضح رہے کہ 26 اگست کو اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے گائناکولوجی وارڈ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے نتیجے میں نرسری میں موجود 14 نومولود بچے جاں بحق ہو گئے تھے۔

قومی خبریں سے مزید