• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پولیس والے مجبوری میں نوکری کرتے ہیں، ان کی بھی حفاظت ہونی چاہیے، انور مقصود

انور مقصود۔فوٹو: فائل
انور مقصود۔فوٹو: فائل 

بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈراما نگار اور کمپیئر انور مقصود نے کہا ہے کہ پولیس والے مجبوری میں نوکری کرتے ہیں اور حکم کے منتظر رہتے ہیں، شہروں کی حفاظت پولیس کرتی ہے، اس کی بھی حفاظت ہونی چاہیے،  وہ بیچاری کیا کرے۔

داور محمود کے نئے ڈرامے کی تعارفی تقریب میں جنگ ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے انور مقصود نے کہا کہ اپنی زندگی کا آخری اسٹیج ڈراما لکھا ہے، اس ڈرامے کے کسی جملے اور سین کو تبدیل نہیں کرنے دوں گا۔ میری کسی سے لڑائی نہیں ہے، سب میرے دوست ہیں۔

لیجنڈری فنکار انور مقصود نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے پنجاب میں بہت اچھے کام کیے ہیں، لاہور اب بدل گیا ہے۔ میں نے تھانے کے کلچر کے بارے میں نیا ڈراما، تھانہ نہ دھیم تھانہ، لکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے 90 منٹ کا ڈراما لکھا ہے، اس کے لیے بہت محنت کی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انور مقصود کا کہنا تھا کہ تھیٹر کے فروغ کے لیے پروڈیوسر کو مضبوط کرنا ہوگا۔ داور محمود کے ساتھ کئی ڈرامے کرچکا ہوں۔یہ ڈراما بھی کامیاب ثابت ہوگا۔

انور مقصود کا پولیس کے بارے میں کہنا تھا کہ پولیس بیچاری کیا کرے، پولیس والے مجبوری میں نوکری کرتے ہیں اور حکم کے منتظر رہتے ہیں۔ان کو جو حکم ملتا ہے، وہ وہی کرتے ہیں۔اپنی طرف سے کچھ نہیں کرسکتے۔

رائٹر انور مقصود نے دلچسپ واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ ایک زمانے میں، میں ایک میوزک کمپنی  میں ملازمت کرتا تھا۔ واپسی پر میوزک کے سلسلے میں ہیرا منڈی بھی چلا جاتا تھا، تو پولیس پکڑ لیتی تھی اور تھانے میں بٹھا دیتی تھی۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید