• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سنا تو یہ تھا کہ دنیا میں جو بھی نومولود آتا ہے وہ یہ پیغام لیکر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے مایوس نہیں ہوا ۔مگر یہ 15نومولود تو کچھ اور ہی پیغام دے گئے ۔رحمان و رحیم نے انہیں اپنے پاس واپس بلا لیا۔ کیا ہم سب کو لرز جانا نہیں چاہیے کہ کہیں قادر مطلق اسلام آباد سےخفا تو نہیں ہو گیا ۔اس خوف اور کپکپاہٹ کے بجائے حکمران تو مظلوم غم زدہ ماؤں باپوں کو للکار رہے ہیں۔ سامنے آؤ۔ سب کچھ درست تھا ۔سب ڈاکٹر نرسیں اور دوسرا عملہ موجود تھے، الرٹ تھے۔

آسمان دیکھ رہا تھا ،کیمرے نگراں تھے،سب نے اپنی ذمہ داریاںنبھائیں ۔اگر سب موجود تھے تو علاقے کی ماؤں کی تمنائیں ،باپوں کی مرادیں، نانا کی آرزوئیں، دادا کی منتیں اپنی پیدائش کے چند گھنٹوں بعد ہی اس اچانک بھڑکنے والی آگ کی نذر کیوں ہو گئیں۔ ہمارا مستقبل کیوں جھلس گیا ۔ان کی موجودگی تو پھر اعانت جرم بن سکتی ہےکہ موقع پر موجود ہوتے ہوے غفلت کی گئی۔ کیونکہ حقیقت تو یہ ہے کہ 15 نومولود پاکستانی آگ میں دم توڑ گئے ۔اکیسویں صدی میں جہاں ٹیکنالوجی اڑتی چڑیا کے پر گن لیتی ہے۔ اسکی سونگھنے کی صلاحیت سلگتی چنگاری کی تپش محسوس کر لیتی ہے ۔خطرے کی گھنٹیاں بج اٹھتی ہیں۔

حکمرانی سخت ہوتی جا رہی ہے سفاکی اور شقی القلبی اعلیٰ ترین عہدوں سے درجہ بدرجہ سرکاری دفتروں کے نچلے عملے تک پہنچ رہی ہے۔ جن کیلئے ریاست کو سخت ہونا چاہیے تھا۔ انہیں تو بڑے بڑے عہدے تفویض کیے جا رہے ہیں ۔عام پاکستانیوں سے غریب ماؤں بہنوں سے بات کرتے ہوئے وزرا کے منہ سے جھاگ نکلنے لگتی ہے۔ کمپریسر پھٹ گیا آگ بھڑک اٹھی۔ اب تو کمپریسروں کا زمانہ نہیں رہا ۔سب کچھ سینٹرلی ایئر کنڈیشنڈ ہوتاہے ۔انتخابات سینٹرل ایئر کنڈیشننگ میں ہوتے ہیں پھر حسن انتخاب رات کے اندھیرے میں کرتے ہیں۔ کمپریسر لگاتے ہیں ۔لیکن انہونی سب کچھ بے نقاب کر دیتی ہے۔

اسلام آباد کی علاج گاہ کی آگ نے واہگہ سے گوا در تک سب کو خبردار کر دیا۔ اللہ تعالیٰ قوموں کو جھنجوڑتا رہتا ہے لیکن حکمران کمپریسروں کے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔ کیا قیامت ہے کہ زندگی کی نوید دینے والی سانسوں کی محافظ آکسیجن اور شفاف آکسیجن ہی آگ بڑھاتی رہی۔ زندگی کو موت کے حوالے کرتی رہی۔انہونیاں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ ہم حادثے سے پہلے بالکل بے خبر لاعلم اور بے حس ہوتے ہیں ۔حادثہ ہوتے ہی ،لاشیں سامنے آتے ہی ہمارے پاس دلیلوں ،منطقوں اور اسباب کا بے حساب ڈیٹا ہوتا ہے ۔ہم اپنے پاس رکھی امانتوں کو بچانے کیلئے اگر اتنی توانائی لگا دیتے جو اپنے آپ کو بچانےکیلئے صرف کر رہے ہیں تو یہ سانحہ برپا ہی نہ ہوتا ۔

اسلام آباد دیوار گریہ بنتا جا رہا ہے ۔کسی نے سوچا کہ حادثات اسکینڈل راجدھانی میں ہی کیوں ہوتے ہیں۔ یہ مائیں یہ باپ یہ میری اور آپ کی بہنیں جن کی نسل ختم کر دی گئی۔ جن کے خواب جل کر راکھ ہو گئے جن کے آنگن کی کھلکھلاہٹیں انکیوبیٹرز میں دفن ہو گئیں۔ انکیوبیٹر تو مستقبل کی پرورش کرتا ہے۔ دروازوں پر تالے لگے تھے۔ سب سے بڑے ہسپتال کے وارڈ نے ثابت کر دیا کہ ہم مستقبل کو پالنا ہی نہیں جانتے۔ ہم اسے لاوارث چھوڑ کرمقفل کر کے چلے جاتے ہیں۔ ہم دن رات سیکورٹی کی فکر کرتے ہیں مگر جہاں نئی سانسیں لی جا رہی ہیں جہاں سب سے زیادہ سلامتی کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہاں ہم حفاظت سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔

یہ15بچے کسانوں کے، مزدوروں کے، دکانداروں کے بچے تھے جو نہ ہو ں تو زمانے کی سانس رک جاتی ہے۔ انھوں نے ہی پاکستان صدی 2047 ءمیں 21سال کا ہونا تھا ۔ حکمران اپنے بچے بچیوں کو تو صدر ،وزیراعظم، وزیراعلیٰ بنانے کے خواب پالتے ہیں مگر غریب اکثریت کے بچے بچیوں کو یوں مقفل وارڈوں میں لاوارث چھوڑ دیا جاتا ہے۔

یہ تشخیص تو کر دی گئی کہ سسٹم نہیں چل رہا ہے، سسٹم گر چکا ہے، فرسودہ ہو چکا۔ اسلئے نئے صوبے بننے چاہئیں۔ اپنی ناک تلے اسلام آباد میں ہسپتالوں میں امانتوں کی حفاظت نہیں ہو سکتی۔ اسلام آباد تو اسی طرح وفاقی انتظام میں رہنا ہے ۔جہاںنیا صوبہ نہیں بننا ہے۔ وزارت داخلہ کے تحت برسوں سے ہے آئندہ بھی رہے گا۔ یہاں پاکستان کے آئندہ کی حفاظت سیکرٹری صحت کے ساتھ ساتھ سیکرٹری داخلہ کی ذمہ داری بھی تھی۔

ہم انگریز کے دور کی مذمت تو کرتے رہتے ہیں لیکن حکمرانی کا ہنر تو انگریز کو ہی آتا تھا ۔اس کا قائم کردہ سسٹم جب تک چل رہا تھا ان ہونیاں کم ہوتی تھیں۔ خلق خدا سے تعلق رکھنے والے ہر شعبے میں ایک انسپکٹریٹ کا سسٹم تھا۔ تعلیم ،صحت ،بازار، خوراک ،زراعت، مواصلات، پبلک ڈیلنگ والے دفتروں اداروں کی انسپکٹروں کے ذریعے روزانہ انسپکشن ہو جاتی تھی۔ سفاکی تھی نہ شقی القلبی بندہ پروری تھی۔ شہریوں کی دادرسی میں جہاں بھی رکاوٹ تھی۔ انسپکٹر ان کی نشاندہی کرتے تھے۔ ان کی رپورٹ متعلقہ اعلیٰ افسروں تک روزانہ پہنچ جاتی تھی محکموں میں آگ بجھانے کا عمل کب جانچنا ہے۔ اس کی ریہرسل کب کرنا ہے سب کیلئے اوقات مہینے اور وقفے متعین تھے۔ ایک محکمہ شہری دفاع کا تھا جسکے رضا کاروں کے ذریعے شہریوں سے روزانہ کا رابطہ رہتا تھا۔ یہ رضاکار محلوں علاقوں میں گھومتے رہتے تھے۔ خبرداری کا سسٹم تھا آڈٹ اور انسپکشن کے صوبائی محکمے پورے صوبے میں افسروں اور ملازمین کی کارکردگی کا ایمانداری سے جائزہ لیتے تھے۔ منصوبوں کی انسپکشن وقفے وقفے سے ہوتی رہتی تھی۔ انسپکٹر کسی کی دعوت قبول نہیں کرتے تھے ۔

جمہوریت اور آمریت دونوں نے مل کر انگریز کے اس سسٹم کو دیدہ دانستہ ناکارہ بنا دیا۔ انگریز کی عطا کردہ جاگیریں خطابات القاب تو رکھے لیکن انگریز نے عام لوگوں کی خدمت اور ان کے مسائل کے حل کیلئے جو نظام قائم کیا تھا اس کو نیست و نابود کر دیا ۔

کہا جا رہا ہے کہ پمزصرف اسلام آباد نہیں آس پاس کے علاقوں کے بیماروں اور نومولودوں کا علاج بھی کرتا تھا ۔سوال تو یہ ہے کہ ان سب علاقوںمیں اپنے اپنے میٹرنٹی ہوم ہوتے تھے ہماری نسل کے بیشتر لوگوں نے وہیں آنکھ کھولی وہ کیا ہوئے۔ اٹک۔ پنڈ دادن خان، مردان ،بنوں سے کسی کو اسلام آباد کیوں آنا پڑتا ہے بلدیاتی اداروں کے میٹرنٹی ہوم زچہ و بچہ خانہ معیاری کیوں نہیں رہے۔

ریاست سخت ہونی چاہئے ان ڈاکٹروں اور عملے کے خلاف، ان اعلیٰ افسروں کے خلاف جنہوں نے خود کو تو آگ سے بچا لیا مگر 15خاندانوں کی برسوں کی دعاؤں سے عطا ہونیوالی خوشیوں کو جھلسنے دیا۔

انکوائری کمیٹیاں ہسپتالوں کے گرد پانی کے ذخیرے اور بہت سی دلیلیں، مشورے، تجزیے اپنی جگہ مگر سب سے زیادہ ضروری پورے ملک میں بلدیاتی اداروں کو با اختیار بنانا اور شہری دفاع کے محکمہ کو بحال کرنا ہے۔ ہر بیماری کا علاج اسلام آبادمیں نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اسےاب خود علاج کی ضرورت دکھائی دیتی ہے۔

تازہ ترین