• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاہور ہائیکورٹ: 18 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی غیر قانونی قرار دینے کا حکمنامہ جاری


— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

لاہور ہائی کورٹ  کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کم عمر بچی کے ساتھ رضامندی کے باوجود ازدواجی زندگی گزارنا چائلڈ ابیوز ہو گا۔

جسٹس منور اقبال دوگل نے 18 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی غیر قانونی قرار دینے سے متعلق 11 صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کر دیا۔

عدالت نے کم عمری کی شادی اور جعلی نکاح نامے کے الزامات کی تحقیقات کا بھی حکم دے دیا اور جسٹس آف پیس قصور کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت نے تھانہ بی ڈویژن قصور کے ایس ایچ او کو قانون کے مطابق مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی۔

لاہور ہائی کورٹ کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ لڑکی کی مستقل تحویل کا فیصلہ گارڈین جج کرے گا۔

عدالت نے کہا ہے کہ 18 سال سے کم عمر کے ساتھ شادی چائلڈ میرج کے زمرے میں آتی ہے، چائلڈ میرج کے نتیجے میں کم عمر سے ازدواجی تعلق پر 5 سے 7 سال قید ہو سکتی ہے، چائلڈ ابیوز کے جرم پر کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔

جسٹس منور اقبال دوگل کا کہنا ہے کہ کم عمر لڑکی کی رضامندی اسے بالغ شخص کے ساتھ رہنے کا قانونی حق نہیں دیتی۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق موجودہ کیس میں لڑکی کی عمر نکاح کے وقت تقریباً 15 سال 2 ماہ تھی، نادرا ریکارڈ کے مطابق لڑکی کی تاریخِ پیدائش یکم مارچ 2011ء ہے، لڑکی کو مبینہ شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کم عمر لڑکی کو چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی محفوظ تحویل میں رکھا جائے، والدین یا مبینہ شوہر سے بچی کی ملاقات صرف نگرانی میں کرائی جائے۔

عدالت کے مطابق لڑکی نے 18 مئی 2026ء کو پسند کی شادی کی جبکہ لڑکی کے والد نے لڑکے کے خلاف اغواء کا مقدمہ درج کروایا اور لڑکی نے مجسٹریٹ کے روبرو بیان دیا کہ اس نے مرضی سے شادی کی۔

لاہور ہائی کورٹ کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ میونسپل کمیٹی نے بتایا کہ نکاح کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں، لڑکی کے والد نے کم عمر شادی کی بنیاد پر اندراجِ مقدمہ کے لیے درخواست دی، پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا جس کے بعد جسٹس آف پیس کو درخواست دی گئی۔

حکم نامے کے مطابق جسٹس آف پیس نے بھی اندراجِ مقدمہ کی درخواست خارج کر دی، درخواست گزار نے جسٹس آف پیس کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔

عدالت کا کہنا ہے کہ پولیس کم عمری کی شادی کے الزام کی تحقیقات سے انکار نہیں کر سکتی۔

قومی خبریں سے مزید