• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھنے کا حکم

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھنے کا حکم دے کر کیس نمٹا دیا۔

عدالت نے بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو جیل میں قیدِ تنہائی میں رکھنے کے خلاف دائر درخواستیں نصرت بھٹو کیس، بیگم شمیم آفریدی کے فیصلوں کے مطابق قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے جیل حکام کو اہم ہدایات جاری کیں۔

علیمہ خان نے بانیٔ پی ٹی آئی جبکہ مبشرہ خاور مانیکا نے بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو جیل میں مبینہ قیدِ تنہائی میں رکھنے کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران ہدایات کے ساتھ درخواستیں نمٹانے کا فیصلہ سنایا۔

عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت دی کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھیں، جبکہ جیل حکام کو ہدایت کی کہ بشریٰ بی بی سے بانیٔ پی ٹی آئی کی ملاقات کروائیں۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جیل قوانین کے مطابق بانیٔ پی ٹی آئی کی فیملی سے ملاقات کروائی جائے، ان کی بیٹوں سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کروائی جائے۔

عدالت نے کہا کہ بانی کی بیٹوں سے گفتگو کی آڈیوز سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر یہ سہولت واپس لے لی جائے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کو روزانہ کی بنیاد پر اخبارات اور کتابیں فراہم کریں، انہیں جیل رولز کے مطابق طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔

عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت کی ہے کہ 15 دن میں عملدرآمد رپورٹ جمع کرائیں۔

قومی خبریں سے مزید