• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکہ کی جانب سے پاکستان سمیت 60تجارتی شراکت دار ممالک پر جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر 10فیصد ٹیرف کے نفاذ نے پاکستانی برآمدی شعبے میں سب سے زیادہ شیئر کی حامل ٹیکسٹائل انڈسٹری کیلئے ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ اگرچہ یہ ٹیرف بظاہر صرف دس فیصد ہے لیکن اس کے اثرات اس سے کہیں زیادہ گہرے ہو سکتے ہیں کیونکہ پاکستان کی امریکہ کو برآمدات میں 90 فیصد شیئر ٹیکسٹائل مصنوعات کا ہے۔ اس حوالے سے اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ٹیرف کے نفاذ سے رواں مالی سال میں پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں تقریبا 564 ملین ڈالر کی کمی ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں اگر اس ٹیرف کے نفاذ سے پہلے پاکستان کو برآمدی آرڈرز دینے والے امریکی گاہکوں کے آرڈرز کم لاگت والے ممالک کی طرف منتقل ہو گئے تو پاکستان کی امریکہ کو برآمدات میں مجموعی طور پر دو ارب ڈالر سے زائد کی کمی ہو سکتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صورتحال صرف ایک تجارتی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کے امریکہ سے تعلقات، سفارتی استعداد، برآمدی حکمت عملی اور صنعتی مسابقت کا بھی امتحان ہے۔اس لئے حکومت کی پہلی ترجیح امریکہ کے ساتھ اعلیٰ سطحی سفارتی مذاکرات کا آغاز ہونا چاہیے تاکہ پاکستان پر ٹیرف کے نفاذ کو ختم کروایا جا سکے۔ حکومت کو کھل کر یہ موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کے ملکی قوانین پہلے ہی جبری مشقت کو ممنوع قرار دے چکے ہیں جبکہ برآمدی صنعت اس سلسلے میں ملکی قوانین کی سختی سے پابندی کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی لیبر قوانین پر عملدرآمد بھی یقینی بنا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ایک حکمت عملی یہ ہو سکتی ہے کہ اگر امریکہ نے جبری مشقت کی روک تھام کے نفاذ کے نظام میں بہتری کی نشاندہی کی ہے تو پاکستان کو اس حوالے سے قابلِ پیمائش اصلاحات کا روڈمیپ پیش کرنا چاہیے۔ اسکے ساتھ ساتھ تجارت، خارجہ اور انسانی حقوق کی وزارتوں، ایف بی آر، اوورسیز پاکستانیوں اور ٹیکسٹائل سیکٹر کو ایک مشترکہ ٹاسک فورس تشکیل دینی چاہیے جو صرف امریکی مارکیٹ کے حوالے سے کام کرے اور مستقل بنیادوں پر امریکی تجارتی نمائندوں، امریکی درآمد کنندگان اور کانگریس کے متعلقہ حلقوں سے رابطے کرکے انکے اعتراضات دور کرے۔اگرچہ پاکستانی برآمد کنندگان بین الاقوامی اصولوں کے مطابق کام کر رہے ہیں لیکن ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ امریکہ کی تشویش نفاذ کے نظام پر ہے۔ اس لیے حکومت کو لیبر انسپکشن، سپلائی چین ٹریس ایبلٹی، مزدوروں کی رجسٹریشن اور فیکٹری آڈٹس کے نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی صورتحال سے بچا جا سکے۔ علاوہ ازیں یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف امریکی ٹیرف کا نفاذ ہی پاکستان کی برآمدی صنعت بالخصوص ٹیکسٹائل انڈسٹری کا مسئلہ نہیں ہے۔ پاکستانی صنعت پہلے ہی مہنگی بجلی، گیس، بلند شرح سود، زیادہ ٹیکسوں اور مہنگی لاجسٹکس کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے جسکی وجہ سے اسکی مصنوعات خطے کے دیگر ممالک سے مہنگی ہیں۔ اسلئے بنگلہ دیش، بھارت یا ویتنام کی مصنوعات 10 فیصد اضافی ٹیرف لگنے کے بعد بھی امریکی خریداروں کیلئے پاکستان کی نسبت سستی ہونے کی وجہ سے زیادہ پرکشش ہو سکتی ہیں۔لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ برآمدی صنعت کیلئے توانائی کے نرخ علاقائی حریف ممالک کے برابر کرے، برآمدی شعبے کو سستے قرضوں کی فراہمی کیلئے شرح سود کم کی جائے، ریفنڈز کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے اور بندرگاہوں، کسٹمز و ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم کئے جائیں۔ اس طرح برآمدی صنعتوں کی مقامی پیداواری لاگت میں آٹھ سے دس فیصد کمی ممکن بنا کر اضافی امریکی ٹیرف کے اثرات کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے برآمدکنندگان کو صرف حکومت پر ہی انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ انہیں چاہیے کہ خود بھی اپنی کاروباری حکمت عملی کو تبدیل کریں۔ اس سلسلے میں کم قیمت مصنوعات کی بجائے ویلیو ایڈڈ مصنوعات، فیشن گارمنٹس، ٹیکنیکل ٹیکسٹائل، برانڈڈ مصنوعات اور خصوصی مارکیٹس پر توجہ دینی چاہئے جہاں قیمت کی بجائے معیار اور جدت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں امریکی خریداروں کے ساتھ طویل المدت سپلائی معاہدے، مشترکہ لاگت کی تقسیم اور مصنوعات کی بہتر برانڈنگ پاکستانی برآمدات کی مسابقت برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی مانگ میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ اس حوالے سے ایک اور اہم اقدام یہ ہو سکتا ہے کہ امریکہ سمیت پہلے سے موجود برآمدی منڈیوں میں اپنا شیئر بڑھانے کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، افریقہ، جنوب مشرقی ایشیا اور یورپی یونین کی نئی منڈیوں میں بھی پاکستانی مصنوعات کی موجودگی بڑھانا ضروری ہے۔ اس اقدام سے برآمد کنندگان کو کسی ایک مارکیٹ پر حد سے زیادہ انحصار کی وجہ سے درپیش خطرات سے بچایا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان گزشتہ مالی سال میں تجارت کا توازن چار ارب ڈالر سے زیادہ رہا جو پاکستان کے حق میں ہے۔ اس سے پاکستان کے امریکہ کے ساتھ معاشی تعلقات کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس لئے اگر پاکستان نے امریکی ٹیرف کے نفاذ کو منسوخ کروانے میں کامیابی حاصل نہ کی تو اسےشاید پاکستان کی تجارتی سے زیادہ سفارتی کمزوری سمجھا جائیگاجسکی وجہ سے پہلے سے مشکلات کا شکار برآمدی شعبہ مزید دباؤ کا شکار ہو جائے گا۔ اس لئے حکومت کو فوری سفارتی رابطے، لیبر قوانین کے مؤثر نفاذ، پیداواری لاگت میں کمی اور برآمدی شعبے کیلئے مراعات فراہم کرنے جبکہ برآمدکنندگان کو ویلیو ایڈیشن، جدت، نئی منڈیوں اور عالمی معیار کی کمپلائنس پر سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔ اس چیلنج کا سامنا کرنے کیلئے بہتر حکمت عملی یہ ہو سکتی ہے کہ حکومت اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرکے ایک مشترکہ حکمت عملی اختیار کرے۔ اس طرح امریکی ٹیرف کے نفاذ سے پیدا ہونیوالے چیلنج کو برآمدی شعبے میں اصلاحات اور مسابقت بڑھانے کے ایک موقع میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

تازہ ترین