پاکستان میں بحران اب صرف حکومت اور اپوزیشن کا بحران نہیں رہا۔ یہ بحران سیاست سے نکل کر معیشت تک پہنچ چکا ہے اور معیشت سے ریاستی نظام تک آ گیا ہے۔ کئی برسوں سے ہم حکومتیں بدلتے دیکھ رہے ہیں۔ چہرے اور نعرے بدلتے دیکھ رہے ہیں لیکن عام آدمی کی زندگی میں وہ تبدیلی نہیں آ رہی جس کا وعدہ ہر سیاسی دور میں کیا جاتا ہے۔ شاید اسی لیے اب سوال صرف یہ نہیں کہ اگلی حکومت کس کی ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ اگلا پاکستان کیسا ہوگا۔میرے خیال میں پاکستان اس وقت ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں تین راستے ہمارے سامنے ہیں۔ ممکن ہے ان میں سے کوئی ایک راستہ اختیار کیا جائے یا تینوں ایک دوسرے سے جڑ جائیں۔پہلا راستہ نئے صوبوں کا ہے۔ ہزارہ اور جنوبی پنجاب میں نئے صوبوں کی بحث برسوں سے جاری ہے۔ بلوچستان میں بھی انتظامی تقسیم کی ضرورت پر بات ہوتی رہی ہے۔
ان مطالبات کے پیچھے ایک احساس موجود ہے کہ بڑے صوبوں کے دور دراز علاقوں کے مسائل وہاں بیٹھ کر حل نہیں ہو سکتے جہاں سے ان علاقوں کا فاصلہ کئی سو کلومیٹر ہو۔جنوبی پنجاب کا شہری پوچھتا ہے کہ اس کے علاقے کا فیصلہ لاہور میں کیوں ہوگا۔ ہزارہ کا شہری پوچھتا ہے کہ اس کے مسائل پشاور میں بیٹھ کر کیوں طے ہوں گے۔ یہی احساس وقت کے ساتھ سیاسی مطالبے میں تبدیل ہوتا ہے۔سیکریٹریٹ، نئی اسمبلی، نئی وزارتیں اور نئی بیوروکریسی آ گئی لیکن عام آدمی کیلئے اسپتال وہی رہے، تھانے کا رویہ وہی رہے، عدالتوں میں تاریخیں ملتی رہیں اور سرکاری دفتر میں فائل اسی رفتار سے چلتی رہی تو عام آدمی کیلئے کیا بدلا؟اس لیے نئے صوبے کا مقصد نئی حکومتیں بنانا نہیں ہونا چاہیے۔ اصل مقصد حکومت کو شہری کے قریب لانا ہونا چاہیے۔
دوسرا راستہ موجودہ صوبوں کو برقرار رکھتے ہوئے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے۔ پاکستان میں مقامی حکومتوں کی بات ہر دور میں ہوئی ہے۔ ہر حکومت نے بلدیاتی نظام کا وعدہ کیا لیکن جب اختیار واقعی نچلی سطح تک پہنچانے کا وقت آتا ہے تو معاملہ رک جاتا ہے۔وجہ سادہ ہے۔ اختیار تقسیم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ جو شخص اختیار اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے وہ اسے چھوڑنا نہیں چاہتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں میئر اور ضلعی حکومتیں اکثر نام کی بااختیار ہوتی ہیں۔ پیسہ صوبے کے پاس ہوتا ہے، فیصلہ صوبے کے پاس ہوتا ہے اور ذمہ داری مقامی نمائندے کے سر ڈال دی جاتی ہے۔اگر پاکستان کو واقعی بدلنا ہے تو ضلع اور شہر کی سطح پر منتخب حکومتوں کو حقیقی اختیار دینا ہوگا۔ شہری کو سڑک بنوانےکیلئے صوبائی دارالحکومت نہیں جانا چاہیے۔ پانی کا مسئلہ حل کرانے کیلئے وزیر سے ملاقات ضروری نہیں ہونی چاہیے۔ صفائی کیلئے کسی ایم پی اے یا ایم این اے کی سفارش نہیں چاہیے۔ یہ کام مقامی حکومت کا ہونا چاہیے۔تیسرا راستہ آئینی تبدیلی اور ایک نئے سیاسی و انتظامی بندوبست کی طرف بڑھنے کا ہے۔ آنے والے دنوں میں صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم، مقامی حکومتوں کے اختیارات، مرکز اور صوبوں کے تعلقات اور عدلیہ کی خودمختاری جیسے معاملات ایک مرتبہ پھر سیاسی بحث کا مرکز بن سکتے ہیں۔لیکن اصل امتحان سیاسی جماعتوں کا ہوگا۔ نئے صوبوں کی بحث عملی شکل اختیار کرتی ہے تو ہر جماعت کو اپنا واضح موقف دینا ہوگا۔ یہ فیصلہ صرف انتظامی ضرورت کے نام پر نہیں ہو سکتا۔ اس کیلئے سیاسی اتفاق رائے بھی ضروری ہوگا۔
اسی لیے نئے صوبوں کی بحث دراصل نقشے کی بحث نہیں۔ یہ طاقت کی تقسیم کی بحث ہے اور جہاں طاقت تقسیم ہوتی ہے وہاں سیاست ضرور ہوتی ہے۔لیکن شاید پاکستان کو اب صرف نئے صوبے نہیں بلکہ نئے سیاسی رویے کی بھی ضرورت ہے۔ مرکز کو دفاع، خارجہ پالیسی اور قومی معاشی پالیسی پر توجہ دینی چاہیے۔ صوبوں کو تعلیم، صحت اور علاقائی ترقی سنبھالنی چاہیے۔ مقامی حکومتوں کو شہری کی روزمرہ زندگی کے مسائل حل کرنے چاہئیں۔
آج عام پاکستانی کا سوال بہت سادہ ہے۔ ہم کہاں جائیں؟ تھانے جائیں تو سفارش چاہیے۔ اسپتال جائیں تو سہولت نہیں۔ عدالت جائیں تو تاریخ ملتی ہے۔ سرکاری دفتر جائیں تو فائل نہیں چلتی۔ سیاست دان کے پاس جائیں تو وعدہ ملتا ہے۔نئے صوبے بنیں یا نہ بنیں اصل سوال یہی رہے گا کہ عام آدمی کی زندگی میں کیا تبدیلی آتی ہے۔ اگر نئے صوبے صرف نئی اسمبلیاں اور نئی وزارتیں پیدا کرتے ہیں تو یہ تبدیلی بے معنی ہوگی۔ لیکن اگر نئے صوبوں کے ساتھ مضبوط مقامی حکومتیں آتی ہیں، عدلیہ زیادہ آزاد ہوتی ہے، وسائل کی تقسیم منصفانہ ہوتی ہے، شہری کو فیصلہ سازی میں جگہ ملتی ہے اور سیاست میں برداشت پیدا ہوتی ہے تو یہ پاکستان کیلئے تاریخی موڑ بن سکتا ہے۔
ہم نے بہت مرتبہ پاکستان کو نیا بنانے کے دعوے سنے ہیں۔ کبھی نیا نظام آیا، کبھی نیا منشور آیا، کبھی نیا سیاسی نعرہ آیا۔ لیکن عام آدمی آج بھی وہیں کھڑا ہے۔شاید آنے والا نیا پاکستان کسی ایک جماعت کے پاس نہیں ہوگا۔ نہ کسی ایک لیڈر کے پاس ہوگا۔ نہ کسی ایک ادارے کے پاس ہوگا۔ نیا پاکستان تب بنے گا جب ریاست شہری کو رعایا سمجھنے کے بجائے اپنا اصل مالک سمجھے گی۔
اس لیے آنے والے دنوں میں اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں کتنے صوبے ہوں گے۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ ان صوبوں میں رہنے والا عام پاکستانی کتنا بااختیار ہوگا۔اگر وہ اپنے حق کیلئے سوال کر سکے گا، اگر اسے انصاف کیلئے کسی طاقتور شخص کی ضرورت نہیں ہوگی، اگر اس کی آواز لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ کے ایوانوں تک پہنچ سکے گی تو پھر سمجھیں کہ پاکستان واقعی بدل رہا ہے۔ورنہ ہمارے پاس نیا نقشہ ہوگا، نئے صوبے ہوں گے، نئی حکومتیں ہوں گی لیکن پاکستان وہی پرانا ہوگا۔