جاپان کے شہر، فوکوکا میں ہر سال ایک ایسا منفرد اور یادگار سمر کیمپ منعقد ہوتا ہے، جو دُنیا کے مختلف ممالک کے بچّوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور انواع و اقسام کی تہذیب و ثقافت سے رُوشناس کروانے کا خُوب صُورت ذریعہ بن چُکا ہے۔ ’’ایشین پیسیفک چلڈرنز کنوینشن‘‘ کے زیرِاہتمام منعقد ہونے والے ’’بِرج سمر کیمپ‘‘ میں دُنیا بَھر کے بچّے شرکت کرتے ہیں، جنہیں چند روز جاری رہنے والے اس کیمپ میں مختلف ثقافتوں، زبانوں، روایات اور معاشروں کو قریب سے جاننے کا موقع ملتا ہے۔
مذکورہ کیمپ میں 11 سال کی عُمرکے 200 سے زائد بچّے جونیئر ایمبیسیڈرکے طور پر اپنے اپنے مُلک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ چُوں کہ پاکستان بھی اس عالمی پروگرام کا حصّہ ہے، اس لیے ہر سال پاکستان سے4 طلبہ (دو طلبا اور دو طالبات) کو جونیئر ایمبیسیڈر کے طور پر منتخب کیا جاتا ہے، جو پاکستان کے سفیر کے طور پر جاپان کے شہر، فوکوکا کا سفر کرتے ہیں۔
یہ بچّے صرف اپنے مُلک کے نمائندے بن کر نہیں جاتے بلکہ پاکستان کی ثقافت، روایات اور اقدارکودُنیا کےدوسرے بچّوں تک پہنچانے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ گزشتہ برس یعنی 2025ء میں اس عالمی پروگرام میں ہمارے علاوہ الوینہ گل، ریان عاطف سولنگی اور لقمان عادل نے پاکستان کی نمائندگی کی اور نورین سرور ان بچّوں کے ساتھ بطور چیپرون جاپان گئیں، جب کہ رواں سال اویس شہزاد، عبدالحسیب، آئمہ ماہم خان اور علیزہ خان کو جونیئر ایمبیسیڈر کے طور پر فوکوکا بھیجا گیا، جب کہ ان کے ساتھ چیپرون کے طور پر وفاقی وزارتِ تعلیم کے ڈپٹی سیکریٹری، ذوالفقار علی ثمین نے شرکت کی۔
بِرج سمر کیمپ‘‘ کے لیے جونیئر ایمبیسیڈر کا انتخاب ایک طویل اور نہایت صبرآزما مرحلہ ہوتا ہے، جس میں قابلیت اور صلاحیت کی بنیاد ہی پر بچّوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن سال کے آغاز میں شرکت کے خواہش مند امیدواروں سے درخواستیں وصول کرتا ہے اور لگ بھگ 700طلبہ اس دوڑ میں شامل ہوتے ہیں۔
سب سے پہلے تحریری امتحان ہوتا ہے اور پھر انٹرویو کے دوران بچّوں کی خود اعتمادی اور کمیونی کیشن اِسکلز کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس مرحلے سے گزرنے والے امیدواروں کا دوبارہ ٹیسٹ لیا جاتا ہے اور آخر میں کم و بیش 25 اہل ترین امیدواروں کو شارٹ لسٹ کر کے حتمی انٹرویو کےلیے طلب کیا جاتا ہے اور پھر ان میں سے بھی چار خوش قسمت ترین طلبہ کو جونیئر ایمبیسیڈر کے طور پر منتخب کیا جاتا ہے۔
منتخب کردہ جونیئر ایمبیسیڈرز جولائی کے دو ہفتے جاپان میں گزارتے ہیں اوراس دوران انہیں نہ صرف وہاں کےتعلیمی اداروں میں جا کر اُن کے نظامِ تعلیم کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے بلکہ وہ وہاں چند دن کسی جاپانی فیملی کے ساتھ ان کے گھر میں بھی گزارتے ہیں تاکہ ان کا رہن سہن اور طرزِ زندگی سمجھ سکیں۔
اس دوران دُنیا بَھر سے آئے جونیئر ایمبیسیڈرز کے درمیان نہ صرف مختلف مقابلے ہوتے ہیں بلکہ انہیں اپنی تہذیب و ثقافت کے اظہار کے لیے اسٹیج پرجاکر پرفارم بھی کرنا ہوتا ہے۔ ’’بِرج سمر کیمپ‘‘ کی سب سے خُوب صُورت بات یہ ہے کہ یہاں بچّوں کو محض کتابوں یا لیکچرز کے ذریعے مختلف ممالک کے حوالے سے معلومات فراہم نہیں کی جاتیں بلکہ انہیں ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے، کھیلنے کُودنے، گفتگو کرنے، مختلف سرگرمیوں میں حصّہ لینے اور اپنی ثقافت کے اظہار کا بھرپور موقع بھی ملتا ہے اور یوں مختلف ممالک سے آنے والے بچّے چند ہی دنوں میں ایک دوسرے کے دوست بن جاتے ہیں۔
پاکستانی جونیئر ایمبیسیڈرز کے لیے یہ تجربہ کئی اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس دوران وہ جاپان کی ثقافت اور طرزِ زندگی کو قریب سے دیکھتے ہیں، جاپانی خاندانوں بالخصوص بچّوں سے میل جول رکھتے ہیں اور دُنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے اپنے ہم عُمر بچّوں سے دوستی کرتے ہیں۔ کیمپ کے دوران اُنہیں یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ زبان، لباس، رنگ اور ثقافت کے فرق کے باوجود بچّوں کے خواب، خوشیاں اور جذبات تقریباً ایک سے ہوتے ہیں۔
اس پروگرام کا ایک اہم پہلو بین الاقوامی ہم آہنگی اور امن کا پیغام بھی ہے۔ آج جہاں دُنیا کے مختلف معاشروں کے درمیان فاصلے اور غلط فہمیاں بڑھ رہی ہیں، تو ایسے پروگرامز نئی نسل کو یہ سکھاتے ہیں کہ ایک دوسرے کو سمجھنے، احترام کرنے اور اختلافات کے باوجود ساتھ چلنے سے ایک بہتر دُنیا تشکیل دی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب پاکستانی بچّوں کے لیے یہ سفر محض بیرونِ مُلک کا دورہ نہیں بلکہ سیکھنے، خُود اعتمادی پیدا کرنے، اپنی شناخت کو سمجھنے اور دُنیا کے سامنے پاکستان کا مثبت تعارف پیش کرنے کا موقع بھی ہے اور وطن واپسی پر یہ بچّے اپنے ساتھ صرف یادگار تصاویر اور خُوب صُورت یادیں ہی نہیں لاتے بلکہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے بچّوں سے دوستیاں، نئی سوچ، نئے تجربات اور دُنیا کو دیکھنے کا وسیع نقطۂ نظر بھی لاتے ہیں۔
تاہم، اس سفر کی اصل خُوب صُورتی ان بچّوں کی اپنی زبان میں بیان کیےگئے تجربات ومشاہدات کےذریعے ہی سامنے آتی ہے کہ انہوں نے جاپان میں کیا دیکھا؟ کن ممالک کے بچّوں سے دوستی ہوئی؟ جاپانی خاندانوں کے ساتھ وقت گزارنے کا تجربہ کیسا رہا؟ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اُنہیں کن مواقع پر فخر محسوس ہوا؟ اور اس سفر نے ان کی سوچ اور شخصیت پر کیا اثر ڈالا؟
مثال کے طور پر ہمیں جاپانی باشندوں کی دو عادات خاصی دِل چسپ لگیں۔ پہلی یہ کہ وہ جوتوں سمیت گھر میں داخل نہیں ہوتے بلکہ اُنہیں گھر کی دہلیز ہی پر اُتار کر رکھ دیتے ہیں اور دوسری یہ کہ وہ ہماری طرح صُبح اُٹھنے کے بعد نہانے کی بجائے دفتر، اسکول یا کام سے واپسی پر شام کو یا پھر سونے سے پہلے نہاتے ہیں، کیوں کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دِن بَھر کام کاج کے بعد تھکاوٹ دُور کرنےاوربستر پر دراز ہونے سے پہلے جسم کو گرد وغبار اور دُھول مٹی سے پاک کرنا ضروری ہوتا ہے۔
’’بِرج سمر کیمپ‘‘ درحقیقت بچّوں کو دُنیا دیکھنے سے زیادہ، دُنیا کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ دِل چسپ بات یہ ہے کہ سمر کیمپ سے واپسی کے بعد ان بچّوں کا سفر ختم نہیں ہوجاتا بلکہ یہ ’’بِرج کلب پاکستان‘‘ کے پلیٹ فارم کی مدد سے ایک دوسرے سے جُڑے رہتے ہیں۔
واضح رہے، ’’بِرج کلب پاکستان‘‘ میں، جو عالمی بِرج کلب کی ایک شاخ ہے، جاپان کا سفر کرنے والے 100 سے زاید بچّے شامل ہیں اور کلب اپنے ممبرز کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف غیر نصابی سرگرمیوں کا اہتمام کرتا رہتا ہے۔