جمہوریت محض ووٹ ڈالنے یا حکومت منتخب کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا نظامِ حکومت ہے، جس میں عوام کو اپنے مستقبل کے فیصلوں میں شریک ہونے، اپنی رائے کے اظہار اور اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ جمہوری معاشرے میں اقتدار کسی فرد، خاندان یا مخصوص طبقے کی جاگیر نہیں ہوتا بلکہ عوام کی امانت سمجھا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کو عوامی حاکمیت، مساوات، آزادی اور احتساب کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔ جمہوریت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں ہر شہری کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ امیر ہو یا غریب، طاقت وَر ہو یا کم زور، ہر ووٹ کی اہمیت یک ساں ہوتی ہے۔ انتخابات کے ذریعے عوام اپنی پسند کے نمائندوں کو اقتدار میں لاتے ہیں اور اگر وہ اپنی ذمّے داریاں پوری نہ کریں، تو اگلے انتخابات میں انہیں مسترد بھی کر سکتے ہیں۔
یوں اقتدار کی منتقلی پُرامن طریقے سے ممکن ہوتی ہے اور معاشرے میں سیاسی استحکام پیدا ہوتا ہے۔ ایک مضبوط جمہوری نظام میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حُکم رانی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ریاست کے تمام ادارے آئین اور قانون کے تابع ہوتے ہیں اور کسی فرد کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جاتا۔ یہی اصول شہریوں کے بنیادی حقوق، آزادیٔ اظہار، مذہبی آزادی اور جان و مال کے تحفّظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اگر قانون سب کے لیے یک ساں ہو، تو معاشرے میں انصاف اور اعتماد کی فضا پیدا ہوتی ہے۔
جمہوریت کا ایک اہم ستون احتساب بھی ہے۔ حُکم راں عوام کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں اور ریاستی اداروں سے یہ توقّع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے اختیارات کا استعمال قومی مفاد میں کریں۔ آزاد میڈیا، فعال پارلیمان، مؤثر عدلیہ اور مضبوط بلدیاتی ادارے جمہوری نظام کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ احتساب کا مؤثر نظام بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور سیاسی اقربا پروری کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔
دوسری جانب جمہوریت صرف حُکم رانوں کے لیے نہیں بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی سیاسی تربیت کا ذریعہ ہے۔ یہ انسان کو اختلافِ رائے برداشت کرنا، دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا اور مکالمے کے ذریعے مسائل حل کرنا سکھاتی ہے۔ ایک مہذّب جمہوری معاشرے میں اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھا جاتا بلکہ مختلف آراء کو بہتر فیصلوں کا ذریعہ تصوّر کیا جاتا ہے۔ تاہم، جمہوریت کی کام یابی صرف انتخابات کے انعقاد سے ممکن نہیں۔
اس کے لیے باشعور عوام، دیانت دار قیادت، آزاد ادارے، شفاف انتخابات، مضبوط مقامی حکومتیں اور قانون کی یک ساں عمل داری ضروری ہے۔ اگر عوام ووٹ کو ذاتی مفاد، برادری، تعصّب یا وقتی جذبات کی بنیاد پر استعمال کریں اور حُکم ران اقتدار کو قومی خدمت کے بجائے ذاتی مفاد کا ذریعہ بنائیں، تو جمہوریت کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت ایک مسلسل سفر ہے، جس کی منزل ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں عوام بااختیار، ادارے مضبوط، قانون سب کے لیے مساوی اور حُکم راں جواب دہ ہوں۔
گرچہ آج دُنیا میں جمہوریت کے علاوہ کئی دوسرے نظامِ حکومت بھی رائج ہیں، جن میں مطلق العنان بادشاہی، آئینی بادشاہی، آمریت، مطلق العنانیت، یک جماعتی نظام، اشتراکیت / کمیونزم، تھیوکریسی یا مذہبی نظام وغیرہ شامل ہیں، تاہم دُنیا کے زیادہ تر ممالک میں جمہوری نظام ہی رائج ہے، اور ہر سال 15ستمبر کو ’’عالمی یومِ جمہوریت‘‘ بھی منایا جاتا ہے،جس کا مقصد جمہوری اقدار، بنیادی حقوق اور قانون کی حُکم رانی کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔
رواں برس جمہوریت کے عالمی دن کے موقعے پر اس عزم کا اعادہ کیا جائے گا کہ جمہوریت محض ایک سیاسی نظام نہیں، بلکہ ایک ایسا مسلسل عمل ہے، جس میں عوام پالیسی سازی اور اجتماعی فیصلوں میں فعال کردار ادا کرتے ہیں۔ ’’جمہوریت کا عالمی دن‘‘ دراصل جمہوریت سے متعلق ایک عالمی اعلامیہ ہے، جسے 15ستمبر 1997ء کو بین پارلیمانی یونین (آئی پی یو) نے جاری کیا تھا۔ اس کے بعد قطر نے اس عالمی یوم کو فروغ دینے کی کوششوں کی قیادت کی۔
آخرکار 8نومبر 2007ء کو اقوامِ متّحدہ جنرل اسمبلی میں اتفاقِ رائے سے ایک قرارداد منظور کی گئی، لیکن آئی پی یو نے یہ دن 15ستمبر کو منانے کی تجویز پیش کی، کیوں کہ اس سے 10سال قبل اسی دن جمہوریت پر عالمی اعلامیہ جاری کیا گیا تھا۔ بعدازاں، اقوامِ متّحدہ کے سیکریٹری جنرل، انتونیو گوتریس نے اس دن کی اہمیت کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا کہ’’موجودہ دَور میں جمہوریت، قانون کی حُکم رانی اور شہری آزادیوں کو غلط معلومات اورتقسیم جیسے شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔‘‘
اس موقعے پر انہوں نے اُن افراد کے عزم کو سراہا کہ جومشکل حالات میں بھی مکالمے اور باہمی اعتماد کے ذریعے معاشرے کی بہتری کے لیے سرگرم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’جمہوریت کی اصل رُوح اور حُسن یہ ہے کہ اس نظام میں عوام ریاستی معاملات میں محض تماشائی نہیں ہوتے بلکہ فیصلہ سازی کے عمل میں براہِ راست شریک ہوتے ہیں۔ جمہوریت کی حقیقی طاقت عوام کی آواز اور اُن کے بااختیار انتخاب سے منسلک ہے۔‘‘
واضح رہے، جمہوری اقدار کے فروغ، انسانی حقوق کے تحفّظ اور مضبوط جمہوری اداروں کی اہمیت اُجاگر کرنے کے لیے ہر سال منائے جانے والے اس عالمی یومِ جمہوریت کا رواں برس کا موضوع ’’Bring human rights in to focus‘‘ یعنی ’’انسانی حقوق کو توجّہ کا مرکز بنائیں‘‘ ہے اور یہ عنوان بین الپارلیمانی یونین کی جانب سے طے کیا گیا ہے، جس کا مقصد پارلیمانی اور جمہوری اداروں کے ذریعے انسانی حقوق کا تحفّظ اور فروغ ہے اور اس کے تحت دُنیا بَھر میں قانون سازی اور احتساب کے عمل میں انسانی حقوق کو اوّلین ترجیح دینے پر زوردیا جاتا ہے۔
اس ضمن میں اقوامِ متّحدہ کے ذیلی ادارے، یونائیٹڈ نیشنز ڈیموکریسی فنڈ (یو این ڈی ای ایف) کا کردار بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں سے یہ ادارہ دُنیا بَھر میں جمہوری اقدار کے فروغ، شہری شمولیت، انسانی حقوق کے تحفّظ اور قانون کی حُکم رانی مضبوط بنانے کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔ اس حوالے سے یو این ڈی ای ایف نے اپنے قیام سے اب تک ایک ہزار سے زائد منصوبوں کی مالی معاونت کی ہے، جن کے ذریعے سول سوسائٹی کی تنظیموں، آزاد میڈیا، خواتین، نوجوانوں اور محروم طبقات کو بااختیار بنانے میں مدد ملی۔
اس فنڈ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ عوام کو اپنے مستقبل کے فیصلوں میں مؤثر شرکت کا موقع ملے اور جمہوری ادارے زیادہ شفّاف، جواب دہ اورعوام دوست بن سکیں۔ آج جب کہ دُنیا غلط معلومات، انتہاپسندی، محدود ہوتی شہری آزادیوں اور جمہوری چیلنجز کا سامنا کررہی ہے، یواین ڈی ایف کی کاوشیں جمہوریت کے فروغ اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کرگئی ہیں۔ مذکورہ ادارے کی بیس سالہ خدمات اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ مضبوط جمہوریت کا قیام صرف حکومتی اداروں ہی نہیں، فعال شہریوں اور مضبوط سول سوسائٹی کی شمولیت سے ممکن ہے۔
پاکستان میں جمہوریت کی بات کی جائے،تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ قیامِ پاکستان سےلےکر آج تک 79برسوں میں جمہوری نظام کو بار بار سبوتاژ کیا گیا اورنصف سےزائد مدت براہِ راست یا بالواسطہ آمریت کے زیرِ اثر گزری۔ مُلکی تاریخ میں 1958ء، 1969ء،1977ء اور 1999ء میں براہِ راست فوجی مداخلت نے جمہوری عمل کو پٹری سے اتارا۔ اس عرصے میں مختلف غیر جمہوری طریقوں سے منتخب حکومتوں کا خاتمہ اور آئین کو بار بار معطّل یا اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کیا گیا۔
سیاسی عمل میں غیر منتخب قوّتوں کی مداخلت نے پارلیمنٹ اور جمہوریت کو وہ استحکام حاصل نہیں کرنے دیا کہ جو مُلکی ترقّی کے لیے ضروری تھا۔ جمہوریت کے تسلسل میں تعطّل کے سبب سیاسی جماعتیں مضبوط نہ ہوسکیں۔ نتیجتاً قیادت کی فطری نشوونما رُک گئی۔ حتیٰ کہ حکومت کے جواب دہ نہ ہونے کے باعث عوام کے بنیادی مسائل کا مؤثر حل تاحال ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔
پاکستان آئینی طور پر ایک پارلیمانی جمہوری ریاست ہے، جہاں تمام فیصلے منتخب عوامی نمائندے اور پارلیمان کرتے ہیں۔ مُلک کا سرکاری نام، ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ ہے، جس کا نظام 1973ء کےآئین کے تحت چلتا ہے۔ حکومت کی باگ ڈور وزیرِ اعظم اور اس کی کابینہ کے پاس ہوتی ہے۔
تاہم، بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ مُلک کی تاریخ میں باربار جمہوریت کو سبوتاژ کیا گیا۔ گرچہ طویل عرصے بعد سیاسی جماعتوں نے تسلسل کے ساتھ الیکشن میں حصّہ لینا شروع کیا، تاہم سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت کا فقدان ہے اور اقتدار زیادہ ترمخصوص سیاسی گھرانوں کے پاس رہتا ہے اور پھر کم زور معیشت اور منہگائی کی وجہ سے عوام کو ریلیف نہیں ملتا۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، موجودہ صورتِ حال میں پاکستان میں جمہوریت کو سخت دباؤ اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس صورتِ حال میں مُلک میں جمہوری استحکام اور عوامی شمولیت کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں جمہوریت کبھی مثالی نہیں رہی۔ بدعنوانی، اقربا پروری، سیاسی عدم استحکام اور ادارہ جاتی تنازعات نے جمہوری ادوار کو بھی متاثر کیا۔ اس کے باوجود، اس نظام کی اصل رُوح اصلاح اور احتساب کا وہ دروازہ ہے، جو کبھی بند نہیں ہوتا۔
عوام اپنے ووٹ کے ذریعے حُکم رانوں کو منتخب کرسکتےاوراقتدارسے ہٹابھی سکتے ہیں۔ اس کے برعکس آمریت میں فیصلہ سازی محدود ہاتھوں میں مرتکز اور عوامی رائے کی گنجائش کم ہوجاتی ہے۔ جمہوریت کو محض پولنگ کے عمل اور ووٹ ڈالنے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ گرچہ باقاعدگی سے انتخابات کا انعقاد جمہوری تسلسل کی علامت ہے، لیکن جب تک عام آدمی کو دہلیز پر انصاف، معیاری تعلیم، صحت کی سہولتیں اور روزگار کے مواقع فراہم نہیں کیے جاتے، جمہوریت کے ثمرات مکمل طور پر عوام تک منتقل نہیں ہوں گے۔ اس مقصد کے لیے شفّافیت اور گُڈ گورنینس ناگزیر ہے۔
دوسری جانب مُلکی سیاسی منظرنامے میں ایک مثبت تبدیلی یہ دیکھی جا رہی ہے کہ پاکستانی معاشرے بالخصوص مذہبی حلقوں میں جمہوری شعور پختہ ہوا ہے۔ ماضی میں جوعناصر جمہوریت کو ہدفِ تنقید بناتے تھے، آج وہ خود انتخابی سیاست کا حصّہ ہیں اور باقاعدہ سیاسی جماعتیں بنا کر جمہوریت کے دائرہ کار میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ ارتقاء اس امرکا بھی غمّاز ہے کہ جمہوری نظام میں مختلف آراء اورطبقات کو ایک پُرامن سیاسی عمل کے تحت قومی دھارے میں شامل کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
جمہوری روایات کے حقیقی فروغ اور استحکام کے لیے آزاد صحافت، فعال سول سوسائٹی، مضبوط عدلیہ اور فعال مقامی حکومتیں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ اقوامِ متّحدہ کے منشور اور انسانی حقوق کےعالمی اعلامیے کے تحت آزادیِ اظہارِ رائے ایک بنیادی حق ہے۔ جس معاشرے میں صحافی آزاد ہوں اور اختلافِ رائے برداشت کیا جائے، وہاں جمہوریت مضبوط ہوتی ہے۔ سول سوسائٹی کی تنظیمیں عوام اور ریاست کے درمیان مؤثر رابطے کا کردار ادا کرتی ہیں اور مختلف طبقات کے مسائل، حکومتی ایوانوں تک پہنچاتی ہیں۔
مُلک میں جمہوریت کے فروغ کے لیے بلدیاتی اداروں کا استحکام سب سے اہم ہے۔ مقامی حکومتوں کو ’’جمہوریت کی نرسری‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ پینے کے صاف پانی، صفائی سُتھرائی، سڑکوں کی تعمیر اور شہری سہولتوں جیسے روزمرّہ امور مقامی نمائندوں کے ذریعے ہی بہتر اور مؤثرانداز میں پایۂ تکمیل تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔ جب کہ پاکستان میں مقامی حکومتوں کا نظام طویل عرصے سے سیاسی رسّا کشی کا شکار چلا آ رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ ادارے مستقل بنیادوں پر کبھی مضبوط نہیں ہو سکے۔
اقتدار کی کھینچا تانی اور سیاسی مفادات نے بلدیاتی نظام پنپنے نہیں دیا اور مناسب اختیارات و وسائل نہ ہونے کی وجہ سے مقامی ادارے مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔ بااختیار نظام نہ ہونے کے باعث عام شہریوں کو چھوٹے چھوٹے مسائل کےحل کے لیے بھی دُوردراز واقع سرکاری دفاتر کے چکّر کاٹنے پڑتے ہیں۔ اگر بلدیاتی اداروں کوحقیقی معنوں میں بااختیار بنا دیا جائے، تو عوام کو ان کے منتخب نمائندے گھر کی دہلیز پر ریلیف فراہم کر سکتے ہیں۔
عالمی سطح پر جمہوریت کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں دیکھا جائے، تو پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر یہ سوال شدّت سے اُبھر رہا ہے کہ جمہوری سفر کو کس طرح ہم وار اور سُبک رفتار بنایا جائے۔ اس وقت ریاست کے تمام اہم ستونوں کو ایک سنجیدہ اور جامع لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔ سیاسی قوّتوں، ریاستی اداروں اور عدلیہ کو آئینِ پاکستان کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دینے ہوں گے، تاکہ اختیارات کا توازن برقرار رہے۔
جمہوریت کی بنیاد شفّافیت اور عوام کے ووٹ کی طاقت پر منحصر ہے، لہٰذا عوامی فیصلے اور مینڈیٹ کا مکمل احترام ناگزیر ہے۔ سیاسی کشیدگی اور محاذ آرائی کے خاتمے کے لیے سیاسی جماعتوں میں باہمی برداشت، مفاہمت اور پارلیمانی روایات کا فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
جمہوری اقدار کی پاس داری اور شفّافیت کے فروغ میں آزاد میڈیا اور متحرّک سول سوسائٹی کا کرداربھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ واضح رہے، جمہوریت کی اصل کام یابی طاقت کے استعمال میں نہیں، اداروں کےباہمی استحکام، عوام کی مؤثر شرکت اور فیصلہ سازی میں رواداری کے اصولوں پر کاربند رہنے میں پوشیدہ ہے۔
مختصر یہ کہ ’’عالمی یومِ جمہوریت‘‘ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت محض ایک نظام نہیں بلکہ ایک مسلسل اور متحرّک عمل کا نام ہے۔ اس سفر کی کام یابی کا دارومدار عوامی آواز کی تائید، اختلافِ رائے کے احترام اور ریاست کے امور میں عوامی شراکت داری پر ہے۔
ماہرین اور تجزیہ کاروں کی رائے میں پاکستان کی حقیقی ترقّی، استحکام اور خوش حالی کا انحصار ایک مضبوط و فعال جمہوری نظام پر ہے اور جمہوریت ہی وہ واحد راستہ ہے کہ جو مُلک کو سیاسی و معاشی استحکام اور عوامی فلاح و بہبود کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔