• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میر رضا کیس: رجسٹرار جوڈیشل کمیشن کو شہریوں سے معلومات ملنے لگیں

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

میر رضا کیس کے جوڈیشل کمیشن کے رجسٹرار عبد الماجد کو شہریوں کی جانب سے معلومات ملنا شروع ہو گئیں۔

رجسٹرار کمیشن عبدالماجد کا کہنا ہے کہ عوام کی جانب سے 5 ای میلز اور واٹس ایپ پیغامات ملے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایک شہری نے میر رضا کے ڈیجیٹل اکاؤنٹس سے متعلق معاونت کا کہا ہے جبکہ ایک شہری نے ڈیجیٹل فٹ پرنٹس سے متعلق معلومات دی ہیں۔

رجسٹرار کمیشن نے بتایا کہ شہریوں کی دی گئی معلومات انویسٹی گیشن ٹیم کے ساتھ شئیر کی جائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ ایک شہری کی جانب سے ایک مشکوک شخص کی نشاندہی کی گئی ہے، شہری کا کہنا ہے کہ مشکوک شخص سے بھی تحقیقات کی جائیں۔

رجسٹرار کا کہنا ہے کہ کمیشن سے رابطہ کرنے والے شہریوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔

عبد الماجد کے مطابق ایک شہری نے کلاؤڈ لاگ ان کرنے سے متعلق بھی اہم معلومات دی ہیں۔

ڈاکٹر اسامہ کا شوکاز کا جواب جمع

علاوہ ازیں میر رضا کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کی جانب سے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرا دیا گیا۔

شوکاز نوٹس کا جواب ڈاکٹر اسامہ کے والد نے جمع کرایا ہے۔

دوسری جانب کمیشن نے وزیرِ داخلہ سندھ ضیاء لنجار کو بھی آج طلب کر رکھا ہے۔

کیس کا پس منظر:

خیال رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔

پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی تھی، اس کے سینے میں گولی لگی تھی، لاش ملنے سے 1 روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔

مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح ہونا تھا اور وہ اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔

قومی خبریں سے مزید