• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’ایران اپنے حوثی اتحادیوں کو قابو کرے‘: پاکستان نے سعودی عرب کا پیغام پہنچا دیا

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کے بعد پاکستان نے سعودی عرب کی جانب سے ایران کو ایک انتباہی پیغام بھیجا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ایران اپنے اتحادی یمنی حوثیوں کو قابو کرے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے کی وجہ سے ایران کو دیا گیا پاکستان کا یہ انتباہ خاصی اہمیت کا حامل ہے۔

رائٹرز نے اپنے خفیہ ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کوئی بھی فوجی کردار صرف سعودی حدود کے دفاع تک محدود رہے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کا سعودی عرب کی جانب سے ایران کو دیا گیا پیغام واضح ہے کہ یا تو وہ حوثیوں کو لگام دے یا ایک پراکسی تنازع کو وسیع تر علاقائی سیکیورٹی بحران میں تبدیل کرنے کا خطرہ مول لے۔

رائٹرز کے مطابق ایک سینئر علاقائی سفارت کار نے بتایا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کو یہ پیغام پہنچایا ہے جس میں ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے رکوانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

خبر رساں ایجنسی نے بتایا ہے کہ پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاض میں سعودی حکام نے سینئر پاکستانی اور ترک فوجی نمائندوں سے ملاقات کر کے اپنے ردِعمل کو مربوط بنانے پر غور کیا ہے اور تینوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ان کی فوجیں یمن میں داخل نہیں ہوں گی اور کسی بھی قسم کا جوابی عمل سعودی حدود سے ہی دیا جائے گا۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایک اور پاکستانی ذرائع نے کہا ہے کہ جوابی حملوں میں شامل ہونے کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

رائٹرز کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان اور ترکیہ کا فوجی معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور سعودی سر زمین کی حفاظت تک محدود ہے۔

خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ پاکستانی فورسز سعودی عرب کے اندر فوجی، تکنیکی، زمینی یا فضائی مدد فراہم کر سکتی ہیں لیکن غیر ملکی سر زمین پر جنگی کارروائیوں میں حصہ نہیں لیں گی۔

واضح رہے کہ حوثیوں نے منگل کے روز سعودی عرب میں خمیس مشیط میں ایک ایئر بیس اور قریبی شہروں میں تیل کی تنصیبات پر حملے کیے تھے جس کے نتیجے میں 73 افراد زخمی ہوئے تھے۔

یہ رواں سال فروری میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کی  مشترکہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے سعودی عرب پر ہونے والے سب سے بڑے حملوں میں سے ایک ہے۔

قومی خبریں سے مزید