اردن کے سیاست دان اور سابق وزیرِ داخلہ سمیر حبشنہ نے عرب میڈیا کے لیے لکھے گئے اپنے مضمون میں کہا ہے کہ خلیج میں جاری جنگ کسی فریق کی فیصلہ کن فتح کے بجائے سمجھوتے پر ختم ہونے کا امکان زیادہ ہے۔
عرب میڈیا پر شائع مضمون میں سمیر حبشنہ نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف جنگ کے اپنے بنیادی مقاصد حاصل نہیں کر سکے، ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، اس کا میزائل نظام بھی ختم نہیں کیا جا سکا اور ایرانی حکومت کا خاتمہ بھی ممکن نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا ہے کہ اگرچہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ اور کئی اہم رہنما شہید کر دیے گئے، بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا اور ایرانی فوجی صلاحیت کمزور ہوئی تاہم ایران نے ہتھیار نہیں ڈالے اور اس کی مزاحمت برقرار ہے۔
سمیر حبشنہ کا کہنا ہے کہ سخت معاشی پابندیاں بھی ایران کو آسانی سے پسپائی پر مجبور نہیں کر سکتیں کیونکہ ایران کے متعدد ممالک سے سرحدی اور روس سمیت خطے کے اہم ممالک سے روابط ہیں۔
حبشنہ نے آبنائے ہرمز کی بندش کو جنگ کا سب سے سنگین نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے، کساد بازاری اور بڑے مالی و معاشی بحران کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
انہوں نے اپنے مضمون میں زور دیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان، عمان اور قطر کو ثالثی کی کوششوں کو مزید مضبوط کرنا ہو گا، یورپ اور چین کو بھی مذاکرات میں شامل کیا جائے۔
اردن کے سابق وزیرِ داخلہ کے مطابق ایسا سمجھوتہ ضروری ہے جو آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کر دے، عالمی معاشی بحران کا خطرہ کم کرے اور جنگ میں براہِ راست شامل نہ ہونے والی عرب ریاستوں کی سلامتی اور خودمختاری کا تحفظ یقینی بنائے۔