• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

رائے دینے سے قاصر

منیر احمد خلیلی نے جدید استعمار کے کارنامے بیان کیے، آخر میں سارے مضمون کا نچوڑ ایک جملے میں سمو دیا کہ ’’جنگ ختم ہونے کے بعد بھی امریکا کے استعماری عزائم اور مزاج میں تبدیلی آنے کے امکانات نہیں‘‘ اور ہمارا بھی یہی خیال ہے، لیکن دُعا ہے کہ ایسا نہ ہو۔ ثاقب صغیر نے امریکا اور میکسیکو کی سرحد کے نیچے سُرنگوں کے جال کا انکشاف کیا، جو کم ازکم ہمارے لیے بڑی حیران کُن بات تھی۔

ثانیہ انور نے پلاسٹک بیگز کے فوائد، نقصانات گنوائے اور استعمال میں کمی لانے کی تجاویز پیش کیں۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا نے ایران، امریکا جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اور پاکستانی حُکم رانوں کو پاکستان کے مفاد میں کام کرنے کا مشورہ دیا۔ ڈاکٹر شکیل احمد پیروں کے زخموں کے علاج کے ضمن میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا ذکر لائے۔ فریحہ تحریم نے گندم سے الرجی کے مرض کو خطرناک قرار دیا اور علاج، پرہیز سے آگاہ کیا۔

افروز عنایت والدین کے لیے ایک تربیتی مضمون کے ساتھ آئیں۔ دانیال حسن کا افسانہ ’’کچی عُمر‘‘ بہترین تھا۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں ہمارا خط صفحے کے ماتھے کے جھومر کی طرح نظر آیا، لیکن بے کارملک کے خط کی کمی محسوس ہوئی۔ اگلے شمارے میں شائع شدہ رابعہ فاطمہ کے مضمون ’’رائے سازی کا سفر‘‘ پر ہم کوئی رائے دینے سے قاصر ہیں۔

ڈاکٹر سکندر اقبال نے ’’ویپنگ‘‘ پر تفصیلی مضمون تحریر کیا۔ طلعت عمران نے ’’ویلکور‘‘ نامی فلم پر زبردست رپورٹ تیار کی۔ محمد ریاض ایڈووکیٹ کا مضمون ’’عالمی یومِ آبادی‘‘ کے موضوع پر تھا۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس نے ایک اور شخصیت، ڈاکٹر حامد عتیق کا شان دار تعارف کروایا۔

پروفیسر ڈاکٹر محمود غزنوی نے واقعۂ کربلا کو دورِ حاضر کےحالات کی روشنی میں بہترین اندازمیں بیان کیا۔ اسرار ایوبی شپ یارڈ کے الیکٹریشن کے مسندِ صدارت تک پہنچنے کا احوال لائے۔ افسانہ ’’گولڈ ہوم‘‘ اچھا تھا۔ آخر میں رحمان فارس سے درخواست ہے کہ ممکن ہو تو منصور آفاق کا بھی خاکہ تحریر فرمائیں۔ (سید زاہد علی، شاہ فیصل کالونی، کراچی)

ج:اصولاً آپ کو یہ اعتراف کہ ’’رائے دینے سے قاصر ہوں‘‘ اور بھی کئی مندرجات کے ضمن میں کرتے رہنا چاہیے۔ ہر تحریر، ہر ایک کے لیے ہوتی ہے اور نہ ہی ہر ایک پر تبصرہ آرائی لازم ہے، جو مضامین آپ کی ذہنی سطح سے بلند ہوں، اُنہیں پڑھیں ضرور، رائے نہ بھی دیں، کوئی حرج نہیں۔ ہاں، آپ کی فرمائش نوٹ کرلی ہے۔

الفت و رفاقت کا استعارہ

سرزمینِ سندھ، کراچی سے شائع ہونے والا علمی و ادبی، تہذیبی و ثقافتی، اخلاقی و تعمیری، فلاحی و رفاہی، اصلاحی و تبلیغی رسالہ، ’’سنڈے میگزین‘‘ ہر مکتبۂ فکر کے قاری کے لیے گویا معلومات کا خزانہ ہے، جس نے آج کے الیکٹرانک اور سوشل میڈیائی دَور میں بھی پورے وقار کے ساتھ اپنی ساکھ برقرار رکھی ہوئی ہے، خصوصاً خطوط کا صفحہ، قارئین کے ساتھ الف و رفاقت کا استعارہ ہے۔ (شری مرلی چند جی گوپی چند گھوگھیلہ، شکارپور)

ج: آپ کی اس قدر الفت و پذیرائی کا بےحد شکریہ۔

ایسی ہستیوں کا دَم غنیمت

شمارہ موصول ہوا۔ سرِورق پر تبسّمِ عطر کی خوشبو سونگھتے، منیر احمد خلیلی کےجدید استعمارکی حشر سامانیوں تک جا پہنچے۔ ثاقب صغیرامریکا، میکسیکو کی سرحد کے نیچے ہونے والی خفیہ جنگ کا احوال بتا رہے تھے۔ یہ چور، سپاہی کا کھیل تو ازل سے جاری ہے۔ ثانیہ انور پلاسٹک بیگز کے نقصانات سے آگاہ کر رہی تھیں۔ حکومت تو کئی سال پہلے پلاسٹک بیگز پر پابندی لگا کر خوابِ غفلت کے مزے لے رہی ہے، جب کہ یہ بیگز جا بجاپابندی کی دھجیاں اُڑاتے پِھر رہے ہیں۔

بات یہ ہے کہ صرف قوانین بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، اصل کام ان کے نفاذ اور پھر سخت نگرانی کا ہے۔ منور مرزا نے ایران، امریکا مفاہمت کے نئے دَور کے آغاز کی نوید سنائی۔ اللہ کرے، ایسا ہو جائے،پوری دنیا اس تنازعے سے سخت پریشان ہے۔

ڈاکٹر شکیل احمد مصنوعی ذہانت کے ذریعے پیروں کے زخموں کےعلاج کی خوش خبری لائے، تو فریحہ تحریم گندم سے الرجی کے مرض سے خبردار کر رہی تھیں۔ رحمان فارس نے متانت ودیانت کے مردِ میدان، محمّد بلیغ الرحمان سے متعارف کروایا۔

بلاشبہ، اس نفانفسی کےدَورمیں ایسی ہستیوں کادَم غنیمت ہے۔ ’’سنیٹر اسپریڈ‘‘ پہ شائستہ اظہرکا قلم تو آسمانوں پر اُڑان بھر رہا تھا۔ افروز عنایت موسمِ گرما کی تعطیلات میں بچّوں کی تخلیقی صلاحیتیں اجاگر کرنے کی تراکیب لائیں، تو ثناء توفیق خان گرمی کا زور توڑنے کی تراکیب۔ صنوبر خان ثانی اور ڈاکٹر پرویز اقبال راجپوت اپنے اپنے والد کی خوبیاں بیان کررہے تھے۔ ’’کچی عُمر‘‘ اور ’’ادھورا نقشہ‘‘ دونوں افسانے متاثرکُن تھے۔

والد سے متعلق ’’اقوالِ زرّیں‘‘ بھی نصیحت آموز لگے، منور راجپوت نے حسبِ معمول نئی کتابوں پر بے لاگ تبصرہ کیا۔ ’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ میں ابنِ وطن کا قائدِ اعظمؒ کے لیے خراجِ عقیدت بہترین اور حقیقت پرمبنی تھا۔ جب کہ ہمارے صفحے کے چوکھٹے میں ہماری چٹھی جگمگا رہی تھی، بہت شکریہ۔ (شہزادہ بشیر محمّد نقش بندی، میرپور خاص)

آکسیجن کے مترادف

نیاشمارہ ’’خوشبو کی طرح گزرو، مِرے دل کی گلی سے…‘‘ عبارت کے ساتھ ملا۔ ملبوسات میں گہرے نیلے رنگ کا مردانہ لباس بہترین تھا۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ کی تحریر حسبِ سابق شائستہ اظہر صدیقی نے لکھی اور لاجواب لکھی۔ میری نظر میں اس ہفتے کی تمام تحریروں میں یہی اوّل ٹھہری۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ کے تحت لکھی گئی رابعہ فاطمہ کی تحریر ’’رائے سازی کا سفر‘‘ بھی لاجواب تھی۔

مگر انتہائی طویل بھی تھی، جو میگزین کے پورے ڈھائی صفحات پرمشتمل تھی۔ صائمہ صمیم بھی بعنوان ’’ناسٹیلجیا‘‘ بڑی پیاری تحریر لائیں، جب کہ خالدہ سمیع آڑو کے فوائد گنوا رہی تھیں۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی محفل بھی خُوب جگمگا رہی تھی، بمع ہمارے مختصرنامے کے۔ قرأت نقوی کی ای میل شاملِ اشاعت نہ تھی، کمی محسوس ہوئی۔ روبینہ یوسف کی ’’گولڈ ہوم‘‘ اچھی کاوش تھی۔

’’ابابیل‘‘ بھی مُردہ ضمیر جھنجوڑنے کی بہترین کاوش معلوم ہوئی۔ طلعت عمران کی ’’رپورٹ‘‘، ’’ویلکور، کتب خانوں کے احیاء کی ایک منفرد کاوش‘‘ کا احوال پڑھ کر دلی مسرت ہوئی۔ بلاشبہ یہ فلم پرنٹ میڈیا کے زوال کی اِن گھڑیوں، ڈوبتی نبضوں، اُکھڑتی سانسوں میں آکسیجن کے مترادف ہے، جس کے لیےخالد حسن خان اور دیگر ٹیم ممبران تعریف کے حق دار ہیں۔ (محمّد صفدر خان ساغر، نزد مکی مسجد، محلہ شریف فارم، راہوالی، گوجرانوالہ)

ج: شکر ہے، آپ کوبھی ’’اسٹائل بزم ‘‘کے سوا کچھ اور دکھائی دیا۔

دھڑکن تیز ہو جاتی ہے

اس بار کا ’’سنڈے میگزین‘‘ پڑھا، دل بےحد خوش ہوا۔ آپ کے خاص الخاص ایڈیشنز،خصوصاً مدرز ڈے، فاردز ڈے ایڈیشنز کا جواب نہیں ہوتا۔ ویسے توآپ کا ہر شمارہ ہی دل جمعی سے پڑھا جاتا ہے، لیکن آخری صفحہ پڑھتے دل کی دھڑکن بہت تیز ہو جاتی ہے۔

محرم کی مناسبت سے محمود میاں نجمی کی تحریر رُوح پرور تھی، سیدھی دل میں اُتر گئی۔ ثاقب صغیر پاکستان، افغانستان کے حالات پر پریشان نظر آئے، تو ڈاکٹر سکندر اقبال نوجوانوں میں بڑھتی منشیات کی لت کے تذکرے کے ساتھ نہایت فکرمند تھے۔

رؤف ظفر کی کاوشیں بھی خاصی فکر انگیز ہوتی ہیں۔ رحمان فارس ہر ہفتے کسی نہ کسی اہم، شان دار شخصیت سے تفصیلی ملاقات کروا رہے ہیں، یہ اُن کی عنایت ہے۔ سید ثقلین نقوی کا مضمون عزت لکھنوی سے متعلق تھا، جوپسند آیا۔ خطوط میں ڈاکٹر حمزہ خان، محمد صفدر خان ساغر، حافظ عمر عبدالرحمٰن اور نواب زادہ بےکار ملک کے خطوط اچھے تھے، جب کہ ’’ونر‘‘ شہزادہ بشیر ٹھہرے۔ (عائشہ جنڈیالی، میاں چُنوں)

ج: پورا خط ایڈٹ کرتے یہی گمان رہا کہ شمائلہ نیاز کی تحریر ہےاور پھر آخر میں نام دیکھ کر خاصی حیرانی ہوئی، لیکن اب بھی یقین ہے کہ خط شمائلہ نیاز ہی کا تحریر کردہ ہے، صرف نام تبدیل کیا گیا ہے۔اب یہ نہیں معلوم، کیوں…؟

ہلا کر رکھ دیا

یوں تو سنڈے میگزین کے سارے ہی مضامین وقت اورموقعے کے مناسبت سے بہترین ہوتے ہیں، جو آگہی اور معلومات میں خاطرخواہ اضافہ کرتے ہیں، مگر خصوصاً 21جون کی اشاعت میں شامل ڈاکٹر سکندر کے منشیات کے موضوع پر مضمون نے تو جیسے ہلا کے رکھ دیا۔ ایک دُکھ اور درد کی لہر نے پورے جسم کوجکڑ لیا، سرچکرا کے رہ گیا۔ بےشک، نت نئے ناموں سے، بھانت بھانت کی منشیات کا یہ زہر نوجوانوں، بچّوں، طلبہ میں جس تیزی سے عام ہورہا ہے، معاشرے کے لیے ناسور سے کم نہیں۔

ذرا سوچیں، جب اچانک والدین کو پتا چلتا ہےکہ ان کی اُمیدوں کا مرکز ومحور، اُن کا لاڈلا یا لاڈلی ایسی کسی لت کا شکار ہوگئے ہیں، تو اُن کی دنیا کیسے اندھیر ہوتی ہے۔ میرے خیال میں تو اُس کرب واذیت کا بیان بھی ناممکن ہے۔ والدین، اپنا تن من دھن وارکے، اپنے بچّوں کو اچھے سے اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم وتربیت کے لیے بھیجیں اور وہاں بچّے کچھ عاقبت نا اندیشوں کے ہتھے چڑھ کے کسی علّت کا شکار ہو جائیں، تو اس سے بڑا المیہ اور کیا ہوگا۔

اللہ رب العزت ہم سب کو ایسی کسی ناگہانی سے محفوظ و مامون رکھے۔ میری سب والدین سے استدعا ہےکہ خدارا! اپنے بچّوں پر ہر وقت کڑی نظر رکھیں کہ یہ ہمارا سرمایۂ حیات ہیں۔ اور آپ لوگوں، خاص طور پر ڈاکٹر سکندر کا بےحد شکریہ کہ وقتاً فوقتاً ایسےحسّاس موضوعات پر قلم اٹھا کر متنبّہ کرتے رہتے ہیں۔ (شہناز صدیقی، پارک ویو، ہاؤسنگ اسکیم، ملتان روڈ، لاہور)

ج: آپ کا بھی بے حد شکریہ کہ مضمون کو دردِ دل، عمیق نگاہی سے پڑھا ہی نہیں، اُس پر اپنی قیمتی رائے سے بھی آگاہ کیا۔

اس ہفتے کی چٹھی

نرجس بٹیا! سدا خوش رہو، آج اتوار کی صُبح یہ ارادہ کر لیا تھا کہ حسبِ وعدہ میگزین پر تبصرہ کرنا ہے۔ اپنے اسٹڈی روم میں بیٹھا ہوں، سامنے چار، پانچ ماہ کے میگزین دھرے ہیں، ورق گردانی کرتے اچانک5 اپریل کا جریدہ سامنے آگیا اور ڈاکٹر احمد حسن رانجھا کی اسکول سے متعلق خُوب صُورت تحریر پڑھ کے ماضی کے دریچوں سے کئی حسین چہرے جھانکنے لگے۔ ڈاکٹر صاحب اپنے کیریئر کے عروج پررب کے حضور پیش ہوگئے۔

اِسی طرح میگزین کے ایک قاری معراج علی بھی تھے، اسلام آباد سے دُعاؤں کا تحفہ بھیجا کرتے اور اُن کا آخری محبت نامہ، جو انہوں نے وفات سے پہلے لکھا، اُن کے بھتیجے نے پوسٹ کیا ۔ ایک نہایت دل چسپ، باغ و بہار شخصیت سراج الدولہ کالج، کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر مجیب ظفر انوار حمیدی کی بھی تھی، جن کی مدیرہ سےمستقل نوک جھونک رہتی ۔ ان مرحومین سے ہمارا رشتہ میگزین ہی کی وجہ سے تھا۔ اللہ سب کی مغفرت فرمائے۔

مرزا شوق لکھنوی کا شعر ہے ؎ موت سے کس کو رست گاری ہے…آج وہ، کل ہماری باری ہے۔ یادوں کے دریچوں سے چند اورنام بھی جھانک رہےہیں، جن کی سحر انگیز تحریروں کے الفاظ قارئین کو جیسے جکڑ لیا کرتے۔ مثلاً انور سن رائے کتابوں پر بےلاگ تبصرے کے ماہر، رعنا فاروقی، جن کےجانے کے بعد ’’ناقابلِ فراموش‘‘ سنبھل نہ پایا۔ عالیہ کاشف عظیمی اورشفق رفیع، جن کے جانے کے بعد تم پر کام کا بوجھ بہت بڑھ گیا۔

اپنے افسانوی صحرا میں گم، طارق بلوچ صحرائی، سلمیٰ اعوان بھی شاید ابھی تک تین سہلیوں کے ساتھ، مُلکوں مُلکوں سیاحت اور کنول بہزاد اہلِ خانہ میں مصروف ہیں۔ نواب شاہ کے راؤ شاہد اقبال، تحقیقی تحریروں کے خالق بھی خاموش سے ہوگئے، کوئٹہ کے ڈاکٹر عرفان احمد بیگ، غلام علی مندرہ والا، ڈاکٹر محمد رضا کاظمی، ڈاکٹر قمر عباس، میگزین کی کہکشاں کا ایک روشن ستارہ، عرفان جاوید، جس کے ایک ہاتھ میں الہ دین کا چراغ، دوسرے میں جادوئی قلم ہے، سب ہی کی آمدورفت محدود ہوگئی ہے۔

کچھ اور لوگوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں، جیسے میگزین کی مسجد کے پیش امام، ڈاکٹر حافظ محمّدثانی، بہترین آل رائونڈر منور راجپوت، عظیم والد کی عظیم بیٹی، اُمتِ مسلمہ کی خواتین کی ترجمان، ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی اور تحقیق وتحریر میں ایک منفرد نام، نابغۂ روزگار شخصیت، محمود میاں نجمی۔ وہ کیا ہے کہ ؎ ڈھونڈو گے اگر مُلکوں مُلکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔ اس طرح منور مرزا سدابہار پھول ہیں، تو رحمان فارس، ایک پارس ہیرا، شُکر ہے، کسی نے تو زندوں سے متعلق بھی کچھ لکھا۔

ثانیہ انور بہت اچھی دریافت ہیں تو، منیر احمد خلیلی، استادِ محترم۔ اور سب سے بڑھ کر بہترین لیڈر، اعلیٰ ترین منظم، مدیرۂ جریدہ، نرجس ملک، تمھاری نذر اقبال کا ایک شعر ہے؎ نرم دَم گفت گو، گرم دم جُستجو… رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل پاک باز۔ اب کچھ بات ’’آپ کا صفحہ‘‘ کے مستقل قارئین کی، محمد حسین ناز، چچا چھکن، صبیحہ عماد، ریحانہ ممتاز، پروفیسر شاہدہ تبسّم، بےبی گرل (اب توبڑی ہوگئی ہوں گی) نازلی فیصل، شمائلہ ناز، اسماء خان دمڑ، نرجس مختار، اسلم قریشی، ڈاکٹر طاہر رانا، بابر سلیم، محمد سلیم راجا، سید زاہد علی، پرنس افضل شاہین، رونق افروز برقی اور مصباح طیّب…سب کا بہت شکریہ کہ کبھی نہ کبھی مجھے یاد کرلیتے ہیں۔

خادم ملک کی بونگیاں، شری مرلی چند کی مستقل مزاجی بھی قابلِ ستاتش ہے، تو ٹیکساس، امریکا کی قرأت نقوی کی وطن سے محبّت اور خاندان کی یادوں سے جُڑی باتیں اُن لاکھوں لوگوں کے دلوں کی آواز ہیں، جو کسی بھی سبب دیارِغیر رہنے پر مجبور ہیں۔ چلو بٹیا، آج کا نامہ تو بس ماضی نامہ ہی بن کے رہ گیا۔ ’’یار زندہ، صحبت باقی‘‘ باقی باتیں، آئندہ ملاقات پر۔ (پروفیسر سید منصور علی خان، کراچی)

ج: سر! آپ نے تو ہمیں بھی ’’ناسٹلجیا‘‘ کا شکار کردیا کہ ہماری تو اِک اِک نام کے ساتھ ہزار ہزار یادیں جُڑی ہیں۔

گوشہ برقی خطوط

* سوچا تھا، اب کچھ عرصے تک آپ کو زحمت نہیں دوں گی کہ آپ کے پاس میری کافی ای میلز جمع ہوں گی، لیکن شمارے میں راحت فتح علی خان کا نام دیکھ کے خُود کو روک نہیں سکی۔ یاد پڑتا ہے، جب پہلی بار راحت کا گیت سُنا تھا، تو ایک دیوانگی سی طاری ہوگئی تھی۔ آج بھی پلے لسٹ میں زیادہ تر گیت راحت فتح علی ہی کے ہیں، اُن سے متعلق پڑھنا کتنا اچھا لگا، بتا نہیں سکتی۔ منور مرزا انسان کے ایک بار پھر چاند پر جانے کی خبر لائے۔ 

’’اسٹائل‘‘ کی ماڈل عجیب سی تھی، شاید ہیئراسٹائل ٹھیک نہیں تھا، لیکن خیراُجلی نِکھری سی تحریر بہت پسند آئی۔’’آپ کا صفحہ‘‘ میں اس بار کئی لوگوں کے لتّے لیے گئے۔ راجا صاحب واقعتاً ہر بار ہی مسند کے درست حق دارثابت ہوتے ہیں۔ شری مُرلی تو لگتا ہے، خط کسی خُودکار روبوٹ سے لکھواتے ہیں، ہر بار الٹ پلٹ کے وہی باتیں۔ ایک فرمائش بھی کرنی تھی۔ کبھی آپ ’’اسٹائل‘‘ پر سلیبریٹیز کی وارڈروب سے کچھ ڈریسز لےکرشوٹ کروایا کرتی تھیں، ساتھ بات چیت بھی ہوتی تھی، اگر دوبارہ یہ سلسلہ شروع ہوجائے، تو کیا ہی اچھا ہو۔ (قرات نقوی، ٹیکساس، امریکا)

ج: انٹرٹینمینٹ چینلز کے ازدحام، پیسے کی دوڑ نے فن کاروں کو پرنٹ میڈیا سے یک سر غافل ہی کردیا ہے۔ آپ کو لگتا ہے کہ آج کوئی معروف فن کار تو دُور، کوئی نو آموز بھی بغیر معاوضے کے ایسے شوٹ کے لیے آمادہ ہوگا۔

* دل کی اتھاہ گہرائیوں سے آپ کا شکریہ کہ آپ نے مجھ جیسے نوجوان لکھاری کو اپنے میگزین میں جگہ دی اور میرا صحت کے موضوع پر لکھا مضمون شائع فرمایا۔ آپ کی باریک بین ایڈیٹنگ نے تو جیسے میرے مضمون کو چار چاند لگا دیئے۔ اس رہنمائی اور توجہّ سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔

ان شاء اللہ آئندہ میں مزید احتیاط اور محنت کے ساتھ لکھنے کی کوشش کروں گا۔ اسی شمارے میں ایک اور نوجوان محمد عمیر جمیل کو بھی جگہ دی گئی، جو ایک خوش آئند قدم ہے۔ (عبدالماجد، حضرت علی اسٹریٹ، عثمانیہ کالونی، ڈھوک مستقیم پشاور روڈ، راول پنڈی)

ج: ہر لائقِ اشاعت تحریر اپنی باری پرجریدے میں جگہ بنا لیتی ہے، اور اس ضمن میں عُمر کی ہرگز کوئی تخصیص نہیں۔

قارئینِ کرام کے نام !

ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazine@janggroup.com.pk