السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
حرف بہ حرف شایع کیا کریں
ہم سمجھتے ہیں کہ ڈارون کا نظریہ درست ہے، اس وقت مُلک کے جو حالات ہیں، ہمارا دل بھی اکثر درخت پر چڑھنے، چھلانگیں مارنے اور ناریل کھانے کا کرتا ہے۔ ہم یہ بھی سوچتے ہیں کہ انسان کی دُم ہوتی توکتنا اچھا ہوتا۔ ابھی تک کسی ریسٹورنٹ نے ہمیں مفت ڈنر واؤچرز بھی نہیں بھیجے، کیا لوگ ہمیں جانتے نہیں کہ ہم خاندانی نواب ہیں اور سنڈے میگزین کے ایک مستقل نامہ نگاربھی، کچھ تو ہماری عزت کریں۔ سرکاری ملازمت بھی ہمیں نہیں ملتی، اتنی توقیر ہی دے دیا کریں کہ ہمارا خط حرف بہ حرف شایع کر دیا کریں۔ (نواب بے کار ملک، سعید آباد، کراچی)
ج: خط حرف بہ حرف شایع کریں تاکہ ہم نے اتنے سالوں میں، دن رات کی کٹھن ریاضت کے بعد جو عزت و توقیر بنائی ہے، وہ کُھو جا پڑے( کنویں میں جا گرے)۔
روانی میں کچھ زیادہ ہی!!
شمارہ ؎ ’’رنگ ساڑی کا اور نکھرے گا، پھول گیندے کا اِک لگائو تو‘‘ عبارت کے ساتھ ملا۔ ماڈل انمول نےسرِورق تا وسطی صفحات خُوب رونق لگا رکھی تھی۔ ویسے بات تو ساڑی کی ہورہی تھی، گیندے کا پھول لگانے کی کیا ضرورت آن پڑی۔ یوں بھی انمول کے گلاب چہرے کے ساتھ ساڑیوں کا رنگ خُود بخود ہی نکھرسا گیا تھا۔ (مَیں روانی میں شاید کچھ زیادہ ہی کہہ گیا، معذرت)۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ کی تحریر حسبِ معمول شائستہ اظہرنے لکھی اور خُوب لکھی۔
یوں کہیے، اُن کےالفاظ غم زدہ قلوب و اذہان کے واسطے مرہم بن گئے اور ساڑیوں میں شیفون کی سُرمئی رنگ ساڑی بہت ہی اچھی لگی، سونے پہ سہاگا، کانچ کی چوڑیاں اور جُھمکے۔ اللہ اللہ کرکے طویل غیرحاضری کے بعد ثانیہ انور بھی تشریف لے ہی آئیں اور ’’عالمی یومِ والدین‘‘ کی مناسبت سے ایک بہترین تحریر گوش گزار کی۔ ہمارے خیال میں تو مضمون میں بیان کردہ مسائل پورے معاشرے، گھر گھر کے ہیں اور ان کے سدِباب کے لیے ایسے مضامین شاملِ نصاب ہونے چاہئیں۔ دیگر مندرجات میں ’’پیارا گھر‘‘ کے زیرِعنوان میمونہ ہارون کی تحریر ’’حاضری سے حضوری تک کا سفر‘‘مَن کی گہرائیوں میں اُتری۔
افشاں نوید کی ’’وسعتِ دسترخوان‘‘ بھی بہترین نگارش تھی۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں مریم شہزاد کی ’’فہرست‘‘منیبہ مختار اعوان کی ’’آخری گائے‘‘ بھلی لگیں۔ ’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ کے تحت عیدالاضحیٰ کے پُرمسرت موقعے پر پیغامات، مبارک بادوں پر مبنی سلسلے کی دوسری اشاعت کا جواب نہ تھا۔ ماہم، طوبیٰ، بشریٰ، دُعا، لاریب فاطمہ، مشعل فاطمہ، افشاں ظہیر، کرن اکبر، ثمینہ دلدار کے پیغامات بہت پسند آئے۔’’آپ کا صفحہ‘‘ کی رونقیں بھی خوب لگی ہوئی تھیں، خصوصاً معصومہ کی معصومانہ باتیں دل چسپ، آپ کے جوابات دانش وذہانت سے بھرپور تھے۔
محمود میاں نجمی اور منور مرزا کی تحاریر ہمیشہ کی طرح معلومات افزارہیں۔ ہاں، ایک ضروری نشان دہی، ’’سینٹر اسپریڈ‘‘میں جگہ جگہ ’’ساڑھی‘‘ کو ’’ساڑی‘‘ لکھا گیا، کیوں؟ اگلےشمارے کے ساتھ، مَیں زندہ دِلانِ لاہور کے شہرمیں ہوں۔ سامنے آلو بخارے کی پلیٹ دھری ہے اور یہ سطور لکھ رہا ہوں۔ ’’تبسّم عِطرجیسا ہے، ہنسی برسات جیسی ہے‘‘ عبارت کے ساتھ سرِورق سےاسٹائل تک ماڈل ثانیہ جلوہ افروز ہے۔ ویسے توسارے ہی پہناوے اپنی اپنی جگہ خُوب ، مگر سُرمئی و نارنجی پہناووں کا جواب نہیں۔ شائستہ اظہر کا رائٹ اَپ بےمثال، جتنی تعریف کی جائے،کم ہوگی۔
اُس پر، شاعری کا انتخاب بھی انتہائی مشّاقی سے کیا گیا۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی رنگارنگ محفل پر تو کسی میلے کا سماں تھا۔ تمام ہی شرکاء، بمعہ خاکسار مسرتوں، مسکراہٹوں کےگل دستےاٹھائے محسوس ہوئے۔ دُعا ہے، خوشیوں سےلب ریز یہ بزم سدا شاد و آباد رہے۔ یہ سلیم راجا اچانک ہی کیوں غائب ہوگئے، جیسے بنیرے (منڈیر) پہ بیٹھا پرندہ اچانک اُڑ جائے اور ان کے جانے سےشہزادہ صاحب کی گڈی چڑھ گئی ہے۔
ہاں، آج کل ’’آپ کاصفحہ‘‘میں املاکی غلطیاں نظرآرہی ہیں۔ مرکزی چوکھٹے میں شہزادہ بشیر کے خط میں سطر نمبر اٹھارہ، جہاں بیورو کریٹ کا ذکر کیا گیا، ملاحظہ فرمائیں، اِک نقطے نے کیاغضب ڈھایا۔ ٹیکساس، امریکا سے قرات نقوی کی خلوص و محبّت سے لب ریز ای میل شاملِ اشاعت تھی، اللہ ہمیشہ سکھی، شاداب رکھے، آنکھوں میں سدا مسرتوں کے جگنو چمکیں، رستوں میں خوشیوں کے پھول مہکیں۔ ثانیہ انور اس بار ’’پلاسٹک بیگز کے ساتھ آئیں، اندازِ تحریر بہت ہی بھلا لگا۔
گزارش و فرمائش ہے، موبائل فونز پر بھی اِسی طرزپہ لکھیں۔ فریحہ تحریم نے گندم سےالرجی، سلیک پر تفصیلی معلوماتی مضمون لکھا۔ خود ہمارے گھر ایک بچّی اسی مرض میں مبتلا ہے۔ افروز عنایت کی تعطیلاتِ گرما سے متعلق کاوش اچھی تھی، دیگر نگارشات میں ’’کچی عُمر‘‘ اور’’ادھورا نقشہ‘‘ پسند آئیں۔ ’’فادرز ڈے‘‘ کے چاہت ومحبّت واحترام پر مبنی پیغامات کی دوسری اشاعت کا بھی جواب نہ تھا، مگرہمارا بروقت بھیجا گیا پیغام بھی شامل نہ ہو سکا اور یہ ہمارے ساتھ دوسری بار ہوا ہے۔ (محمّد صفدر خان ساغر، نزد مکّی مسجد، محلہ شریف فارم راہوالی، گوجرانوالہ)
ج: ’’ساڑھی‘‘ کو جگہ جگہ ’’ساڑی‘‘ اِس لیے لکھا گیا کہ درست لفظ ہی ساڑی ہے۔ہماری کوشش توحتی الامکان یہی ہوتی ہےکہ جریدے میں غلطی کا امکان کم سےکم ہو، بہرکیف، بندہ بشر ہیں اور سہو و خطا فطرت میں داخل ہے۔ رہی بات، آپ کے روانی میں کچھ زیادہ بول جانے کی، تو یہ روانی سے کہیں زیادہ آپ کی فطرت و طبیعت کی کہانی ہے، وگرنہ احساس ہونے پر، ہمیں بھیجنے سے قبل قلم زد کرنے میں بھلا کیا قباحت تھی۔
اُجلا، مہکتا گل دستہ
اللہ کرے، قارئینِ جریدہ کے لیے ہر آنے والا لمحہ خوشیوں، مسرتوں، محبتوں کا پیام برہو۔ ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں جدید استعمار کی حشرسامانیاں کے عنوان سے منفرد قلم کار منیر احمد خلیلی کے مضمون کا نچوڑ یہ رہا کہ ساری دنیا نے پاکستان کے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے کردار کو مان لیا ہے، مگر معاہدے کے باوجود بے لگام امریکا کے استعماری عزائم میں تبدیلی کاذرّہ بھرامکان نہیں۔ ’’رپورٹ‘‘ میں ثاقب صغیر’’امریکا، میکسیکو سرحد کے نیچے خفیہ جنگ‘‘ کے موضوع پر شان دارنگارش لائے۔
ثانیہ انور جب آتی ہیں، کسی خاص موضوع ہی کے ساتھ آتی ہیں اور معاشرتی بہتری کے لیے بہت کچھ سمجھا بھی جاتی ہیں۔ اس بار ’’پلاسٹک بیگز‘‘ کو موضوعِ سخن بنایا اور سمجھایا کہ اگر ہم کپڑے کے بیگز استعمال کریں، جیسا کہ پہلے تقریباً سب ہی لوگ کرتے تھے، تو کتنے مسائل، ماحولیاتی آلودگی جیسی بڑی اذیت سے بچ سکتے ہیں۔
منور مرزا ’’ایران، امریکا مفاہمت، نئے دَور کا آغاز‘‘ کے عنوان سے بہترین تجزیہ فرما رہے تھے۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘میں ڈاکٹر شکیل احمد کے بقول مصنوعی ذہانت کے ذریعے بھی پیروں کے زخموں کا بہترین علاج کیا جاسکتا ہے۔ فریحہ تحریم نے گندم سے الرجی کے ضمن میں اچھی معلومات فراہم کیں۔ اور ’’احسنِ تقویم‘‘ میں اس بار سابق گورنر پنجاب، محمّد بلیغ الرحمان سے متعلق اچھوتے قلم کار، رحمان فارس نے مہکتے، اجلے پھولوں سےکیا خُوب صُورت دستہ تشکیل دیا کہ شخصیت کے تمام پہلو وا کرکے رکھ دئیے۔’’سینٹر اسپریڈ‘‘ کو بائے پاس کیا اور’’پیارا گھر‘‘ میں افروزعنایت کا شہ پارہ پڑھ ڈالا۔ ثناء توفیق خان بھی گرمی کا کیا شان دار توڑ لے کرآئیں۔
صنوبر خان ثانی کے والد کی داستانِ حیات میں ’’گدڑی کا لعل‘‘ کو سہواً ’’گدڑی کا لال‘‘ لکھ دیا گیا۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں دانیال حسن کا افسانہ ’’کچی عمر‘‘اور وقارالحسن کی کاوش ’’ادھورا نقشہ‘‘لاجواب رہیں۔’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ سلسلہ لائقِ صد ستائش ہے اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ اس بار شہزادہ بشیر محمد نقش بندی کے نام رہا۔ بہت خُوب شہزادے! دیگر نامہ نگاروں کے کھٹے میٹھے خطوط جریدے کو مزید مہکاگئے۔ دُعا ہے کہ آپ اور آپ کی ٹیم پر اللہ مہربان رہے کہ آپ لوگ واقعی قلمی جہاد کررہے ہیں۔ (ضیاء الحق قائم خانی، جھڈو، میرپورخاص)
ج: ’’گدڑی کا لال‘‘ سہواً نہیں، ارادتاً لکھا گیا کہ درست محاورہ اِسی طرح ہے۔ آج تک آپ اِسے غلط طور پرلکھتے، پڑھتے آئے ہیں، تو اب براہِ مہربانی اصلاح فرما لیں۔
بڑی شخصیات کے چھوٹے چھوٹے جملے
’’عید ایڈیشن‘‘ پر تبصرہ لیٹ ہونے کی وجہ عید کی چُھٹیاں تھیں۔ ٹائٹل پر ماڈلز بریانی، کباب، مشروبات سے خُوب لطف اندوز ہوتی دکھائی دیں۔ سنتِ ابراہیمیؑ کی ولولہ انگیز، لازوال تاریخ کو محمود میاں کی تحقیق نےمزید دل نشین بنادیا۔
ان مبارک ایام کی فضلیت و اہمیت پر رانا اعجاز حسین اور محمد ریاض علیمی نےبھی مختصر، مگر موثر لکھا۔ ہمیں ہرکام میانہ روی سے کرنے کا حُکم دیا گیا ہے مگر نہ جانے کیوں، عیدِ قرباں پرگوشت دیکھ کر اعتدال چھوڑ دیتے ہیں اور پھر عید کے فوراً بعد ڈاکٹرز کے ہاں رش نظر آتا ہے۔
ڈاکٹر سکندر اقبال ان ہی تکالیف سے بچنے کے لیے حفظانِ صحت کےاصول بتا رہے تھے۔ رابعہ فاطمہ کا مضمون پڑھتے ہوئے خیال بار بار سڑک کنارے پڑی آلائشوں کی طرف جاتا رہا۔ رحمان فارس، اصغر ندیم سید کی شخصیت کے کئی پہلو سامنے لائے۔ ان کا نام سامنے آئے تو پی ٹی وی کے لیے لکھا ان کا ڈراما ’’غلام گردش‘‘ فوراً ذہن میں آجاتا ہے۔
بڑی شخصیات کے چھوٹے چھوٹے جملے اکثر ذہن میں محفوظ ہو جاتے ہیں، جیسا کہ رحمان فارس کےکئی جملے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ پرآپ نے عیدالاضحیٰ کے مختلف رنگوں سے مزیّن بہت عُمدہ تحریرلکھی۔ نیز،صائب جعفری کا کلام بھی تحریر کی خُوب صُورتی بڑھا گیا، افروز عنایت نےماضی اور آج کی عید کا خوب تقابل کیا، واقعتاً اب عیدین موبائل اورسوشل میڈیا تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ ’’ڈائجسٹ‘‘پر ڈاکٹر عزیزہ انجم کی تحریر ’’تیرے پیروں کے نشاں‘‘ شان دارالفاظ میں گندھی منفرد تحریر تھی۔ (رانا محمّد شاہد، گلستان کالونی، بورے والا)
مفلوک الحال عوام پر ترس
اِس بار بھی دو ہی شماروں پر تبصرہ کروں گا۔ دونوں ہی محرم الحرام اسپیشل ایڈیشنزتھے، تو ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ کے صفحات نور بکھیرتے دکھائی دیئے۔احسن سلسلے’’احسنِ تقویم‘‘ کے ذریعے ڈاکٹر خورشید رضوی اور شاہ نواز زیدی سے تفصیلی ملاقات ہوگئی۔
منور مرزا کا سوال بھی بجا تھا ’’کیا ہم واقعی ترقی کرنا چاہتے ہیں؟‘‘ درست بات ہے، عالمی کردار بھی ضرور نبھائیں، مگر اپنے مفلوک الحال عوام پر بھی کچھ ترس کھائیں، خصوصاً کراچی شہر میں ایمرجینسی نافذ کر کے دیرینہ مسائل کے حل کی راہ نکالی جائے۔
اسٹریٹ کرائمز، ٹینکر مافیا، لوڈ شیڈنگ، خراب انفرا اسٹرکچر، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، بدترین ٹریفک جام اور پھر صفائی سُتھرائی کی ابتر صورتِ حال جیسے ہول ناک مسائل سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ ’’امریکا، میکسیکو اور پاکستان، افغانستان بارڈرز‘‘ سے متعلق ثاقب صغیر کی ’’رپورٹ‘‘ چشم کُشا تھی۔ ’’ایک پیغام‘‘ سلسلے کی دونوں اشاعتوں میں میرا پیغام شامل نہ تھا، حالاں کہ مَیں نے بروقت بھیجا تھا۔ (پرنس افضل شاہین، نادرشاہ بازار، بہاول نگر)
ج: مفلوک الحال عوام پر ترس کھا لیا، تو پھر پاکستانی حُکم ران تو نہ ہوئے۔اورآپ کا پیغام بروقت مِلا ہوتا تو ضرور شاملِ اشاعت ہوجاتا۔
فی امان اللہ
رسالہ موصول ہوا، سرِورق پر خُوب صُورت جوڑی نظر آئی، رابعہ فاطمہ رائے سازی تشکیل دینے والے عناصر کی نشان دہی کررہی تھیں۔ منور مرزا مشرقِ وسطیٰ امن کو عارضی کہہ کر درپیش چیلنجز سےآگاہ کر رہے تھےکہ امریکا، ایران دونوں ایک دوسرے پر بالکل اعتماد نہیں کرتے۔ ڈاکٹر سکندر اقبال نے ویپنگ کے خطرات سے آگاہ کیا۔
طلعت عمران نے’’ویلکور‘‘ سے متعلق اچھی رپورٹ مرتّب کی۔ محمّد ریاض ایڈووکیٹ بڑھتی آبادی اور گھٹتے وسائل پر فکرمند تھے۔ رحمان فارس ’’احسنِ تقویم‘‘ میں ڈاکٹر حامد عتیق کی خوبیوں، خدمات سے آگاہ کر رہے تھے، واقعتاً ایسے دورِ قحط الرجال میں ایسےلوگوں کی موجودگی غنیمت ہے۔
’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں شائستہ اظہر صدیقی نے حسبِ معمول اچھا رائٹ اَپ تحریر کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمود غزنوی ’’حق ہی صداقت ہے‘‘ کا درس دہرا رہے تھے۔ صائمہ صمیم نے ناسٹیلجیا کی جانگسل کیفیت سے آگاہ کیا، تو اسرار ایوبی پولینڈ کے الیکٹریشن کی آمریت کے خلاف جدوجہد کی لازوال تحریک کی کہانی بیان لائے۔
ڈاکٹر معین نواز اسکرین کے نقصانات، خالدہ سمیع آڑو کی افادیت بیان کررہی تھیں اور ہمارے صفحے پر’’اس ہفتے کی اعزازی چٹھی‘‘ کے حق دار رانا شاہد ٹھہرے۔ اگلے شمارے کے سرِورق پر معصوم سی ماڈل کھڑی دکھائی دی، منور مرزا مسلّح تنظیموں سے درپیش خطرات کی نشان دہی کررہے تھے۔
حافظ بلال بشیر ’’یومِ شہدائے کشمیر‘‘ پرمظلوم کشمیریوں کی داستانِ خونچکاں لائے، تو ڈاکٹر نظیر احمد ابڑو سندھ زرعی یونی ورسٹی کےمالی بحران پر نوحہ کُناں تھے۔ ویسے مُلک کی کون سی جامعہ خُودکفیل ہے، سب ہی مالی بحران کا شکار ہیں، کیوں کہ ہمارے حُکم رانوں کی ترجیح تعلیم ہے ہی نہیں۔ رؤف ظفر نے مصنفہ، معلمہ پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ سے بات چیت کی،اُن کے جوابات سے جو شائستگی، برجستگی، فصاحت، بلاغت ٹپک رہی تھی، کم لوگوں ہی میں دیکھی ہے۔ ڈاکٹر سکندر اقبال پٹھوں کی فعالیت کی افادیت سے متعلق بتا رہے تھے۔
’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں شائستہ اظہر نے ساون رُت کے وہ اشعار سنائے کہ بچپن سے اب تک سُنے گیت دل ودماغ میں تازہ ہوگئے۔ بابر سلیم، خاورنیازی، امجدسعید کے مضامین لائقِ مطالعہ تھے۔ نظیر فاطمہ، کلثوم پارس کے فسانے جان دار، تو اختر سعیدی کے تبصرے شان دار لگے۔ ہمارے صفحے پر ہماری طویل چٹھی کو اعزاز ملا، حقیقی تنقیدی جواب کے ساتھ۔ جسے پلّے باندھ لیا ہے، وسیع قلبی کا شکریہ۔ (شہزادہ بشیر محمّد نقش بندی، میرپورخاص)
* مَیں دلی طور پر آپ کے ادارتی عملےکی تحسین کرنا چاہوں گا کہ آپ ہر اتوار، جریدے کی صُورت قارئین کے لیے ایک ایسا بامقصد و بامعنی اور دل چسپ وپُرلطف مجموعہ پیش کرتے ہیں کہ جس میں غورو فکر کا مقام بھی ہے، رنگارنگی بھی، اور تازہ ہوا کے جھونکے بھی۔ بلاشبہ سنڈے میگزین کے صفحات سے سنجیدگی ودل کشی باہم جھلکتی ہے۔ (ثناء اللہ سید)
* اُمید ہے، ایمان اور صحت کی بہترین حالت میں ہوں گی۔ ہمارا اور ’’جنگ‘‘ کا ساتھ برسوں پرانا ہے۔ جب ہم گھر سے باہر اپنی ہم جولیوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلا کرتے تھے۔ جمعے کی چُھٹی ہوا کرتی تھی، تو والد صاحب جمعے کی نماز کے بعد جنگ اخبار کا تفصیلی مطالعہ کرتے اور ہمیں بھی اِس کی جیسے لت لگا دی۔ شادی کے بعد سسرال میں بھی جنگ نے پیچھا نہ چھوڑا، ہاں البتہ جمعے کے بجائے، چُھٹی کا دن اتوار کا ہوگیا تو سنڈے میگزین کے ذریعے’’آپ کا صفحہ، گوشہ برقی خطوط‘‘ سے آشنائی ہوئی۔
کئی باراس کاحصّہ بننےکاسوچا، مگر ایک جھجک آڑے آتے رہی۔ بہرکیف،جب ہماری ایک تحریر کو شرفِ اشاعت ملا، تو کچھ ہمت مجتمع کر کے یہ برقی خط لکھ ہی ڈالا ہے۔ امید کرتی ہوں، جواب سےسرفراز فرمائیں گی اور ہاں، اپنی ایک تحریر ’’پھر بنیں گے آشنا‘‘ سے متعلق بھی دریافت کرنا تھا کہ قابلِ اشاعت ہے یا نہیں۔ جزاک اللہ خیرا۔ (روزینہ خورشید)
ج: بزم میں خوش آمدید۔ تحاریرکی اشاعت، عدم اشاعت کے ضمن میں آپ لوگوں کی پریشانی ہی کے پیشِ نظر’’ ناقابلِ اشاعت تحاریر کی فہرست‘‘ وقتا فوقتاً شایع کی جا رہی ہے۔
* جنگ، سن ڈے میگزین اور خصوصاً’’ ڈائجسٹ‘‘ کے صفحات آپ کی گراں قدر محنت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ میری طرف سے بھی ایک غزل کی سوغات ارسالِ خدمت ہے۔ التماس ہے کہ کسی قریبی اشاعت میں شائع فرما کرممنون فرمائیں۔ (معین فخر معین)
قارئینِ کرام کے نام !
ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk