• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مترجم: پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد شیخ

صفحات: 112، قیمت: 800

ناشر: عکس پبلی کیشنز، گرائونڈ فلور، میاں چیمبر-3، ٹیمپل روڈ، لاہور۔

فون نمبرز: 36280600 - 042, 4827500 - 0300

حمزہ علوی (2005-1921ء) برِعظیم کےنام وَر مارکسی، سماجیات دان، سیاسی مفکراورنظریہ ساز تھے، جنہوں نے مابعد نوآبادیاتی ریاست، طبقاتی ساخت اور قومیت کے مباحث میں ایک مستقل اور بااثرمقام حاصل کیا۔ وہ اُن اہلِ فکرمیں شمار ہوتے تھے، جنہوں نے جنوبی ایشیا، خصوصاً پاکستان اور بنگلا دیش کی ریاستی تشکیل کو استعماری وَرثے، عالمی سرمایہ داری اورمقامی طبقاتی قوتوں کے باہمی تعلق کے تناظر میں سمجھنے کی نظری بنیاد فراہم کی۔

سندھ مدرستہ الاسلام، ڈی جے کالج کراچی، واڈیا کالج پونا اور بمبئی یونی ورسٹی سے تعلیمی مدارج طےکرنےکےبعد علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے معاشیات میں ایم اے کیا۔ تقسیمِ ہند کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے منسلک ہوگئے۔ 1950ء کی دہائی میں انگلستان منتقل ہوئےاور تدریس کے شعبے سے وابستگی اختیار کی۔

یونی ورسٹی آف کیلی فورنیا، لاس اینجلس، یونی ورسٹی آف ڈینیور، یونی ورسٹی آف سسئس، یونی ورسٹی آف مانچسٹر، یونی ورسٹی آف لیڈز، یونی ورسٹی آف ملائیشیا، کوالالمپوراورمشی گن اسٹیٹ یونی ورسٹی میں تدریسی فرائض انجام دیئے۔ 1968ء سے 1969ء کے دوران پنجاب کے ایک گاؤں میں اینتھروپولوجی کی فیلڈ ریسرچ کی۔ ان کی اہم تصنیفات اور مقالات میں "The State in Post-Colonial Societies: Pakistan and Bangladesh" (1972) ،" "The Army and Bureaucracy in Pakistanاور "Class and State in Pakistan" کے علاوہ جنوبی ایشیا میں قومیت، کسان تحریکوں اورسرمایہ دارانہ ارتقاء پر متعدد تحقیقی مضامین شامل ہیں۔

ان کی تحریریں بلاشبہ آج بھی سیاسیات اور سماجیات کے طلبہ اورمحققین کے لیے بنیادی مراجع کی حیثیت رکھتی ہیں۔ زیبسٹ کے پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد شیخ نے حمزہ علوی کے ایک مقالے کا آسان اُردو میں ترجمہ کیا ہے، جو ’’ریاست، پاکستان اور مقتدرہ کا کردار‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے اور اِسی ضمن میں اہم بنیادی سوالات کا نہایت گہرا، معروضی، سائنسی تجزیہ پیش کرتا ہے۔ مصنف نے ثابت کیا ہے کہ مابعد نوآبادیاتی معاشروں میں ریاستی ڈھانچا، بالخصوص مقتدرہ اور سول بیوروکریسی، استعماری عہد ہی سے غیرمعمولی طاقت اور خُود مختاری کا حامل تھا،چناں چہ آزادی کے بعد بھی اقتدار کاحقیقی مرکز عوامی نمائندگی کے بجائے یہی ادارے بنتے چلے گئے۔

کتاب کے اہم مباحث کی تفصیل کچھ یوں ہے:٭استعماری ریاستی وَرثے اور پاکستانی سیاست کے پیچیدہ تاریخی وسماجی پس منظرکی فکری توضیح۔ ٭مقتدرہ، سول بیوروکریسی، جاگیردار اشرافیہ اور سرمایہ دار طبقے کے مفاداتی اتحاد کی طبقاتی اور تاریخی تحلیل۔٭جنرل ایوب، جنرل یحییٰ اور ذوالفقارعلی بھٹوکے ادوار میں طاقت کے ارتکاز، ریاستی کشمکش اور سیاسی تضادات کا معروضی جائزہ۔٭پاکستان میں جمہوری عمل، ریاستی تشکیل اور طبقاتی سیاست کے باہمی تعلقات کی نظریاتی تفہیم۔

سچ تو یہ ہے، نام وَر ماہرِ عمرانیات، دانش وَر پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد نے اس اہم اور فکری اعتبار سے گراں قدر مقالے کو جس علمی دیانت، فکری بصیرت اورشستہ اردو اسلوب کےساتھ منتقل کیا ہے، یہ اسے محض ایک ترجمہ نہیں بلکہ ایک قابلِ قدرعلمی خدمت بنا دیتا ہے۔