پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن نے حیران کن طور پر پاکستان میں غیر مقبول اور نہ کھیلنے جانے ایونٹ سافٹ ٹینس کی ایشین گیمز کیلئے 14رکنی ٹیم کا اعلان کر دیا۔
ٹیم میں بیشتر کھلاڑی وہ ہیں جنہوں نے شاید ہی کبھی ٹینس کھیلی ہو، پاکستان ٹینس فیڈریشن کے سربراہ اعصام الحق بھی حیران ہیں کہ پاکستان میں سافٹ ٹینس ٹیم کس کی اجازت سے گیمز میں شرکت کیلئے جارہی ہے، اس کی ایسوسی ایشن بھی ہے۔
جاپان کے ایچی ناگو میں 19 ستمبر سے 4 اکتوبر تک ہونے والے ایشین گیمز کیلئے قومی ٹیم 14ستمبر کو اسلام آباد سے جاپان روانہ ہوگی۔ امکان ہے کہ غیرمعروف کھلاڑی سلپ ہوجائیں۔
گزشتہ 19ویں ایشین گیمز ہانگجو (چین) میں ستمبر اور اکتوبر 2023 میں منعقد ہوئے وہاں بھی پاکستان کی کارکردگی مجموعی طور پر انتہائی مایوس کن رہی اور یہ ایشین گیمز کی تاریخ میں پاکستان کی بدترین کارکردگی میں سے ایک تھی۔
اس بار بھی پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن نے غیر معروف کھلاڑیوں کی بڑی کھیپ بھیجنے کا اعلان کیا ہے جس میں سافٹ ٹینس کا 14رکنی دستہ شامل ہے۔
سافٹ ٹینس کا پاکستان میں وجود ہی نہیں ہے، نہ تو اس کے ایونٹس ہوتے ہیں اور نہ ہی اس کی کوئی ایسو سی ایشن ہے۔
جنگ نے سافٹ ٹینس ٹیم کے بارے میں موقف جاننے کیلئے خالد رحمانی، نوشاد احمد اور پی او کے سیکریٹری خالد محمود سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن رابطہ نہ ہوسکا۔
تاہم پاکستان ٹینس فیڈریشن کے سربراہ اعصام الحق نے سافٹ ٹینس کیلئے بڑی ٹیم بھیجے جانے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پتہ ہی نہیں سافٹ ٹینس کا پاکستان میں وجود ہے، چیک کروں گا کہ اس کو چلانے والے کون لوگ ہیں؟ اور کس کی اپروول سے یہ ٹیم جا رہی ہے۔
انھوں نے کہ اتنے تو ایونٹ بھی نہیں ہیں جتنے لوگ بھیجے جا رہے ہیں۔ پاکستان اسپورٹس بورڈ کھیلوں کو تباہ کر رہا ہے، ان کا کہنا ہے کہ جو پیسے دے سکتا ہے وہ کسی بھی ایونٹ میں چلا جائے۔ ایشین گیمز میں ٹینس کی دو کھلاڑی ایک کپتان اور ایک کوچ (چار افراد) جا رہے ہیں۔