امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے اخراجات 1 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکے ہیں، پیٹرول پر 107 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے، حکومت اپنے اخراجات میں 30 فیصد اضافہ کر کے عوام سے قربانی مانگ رہی ہے۔
منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ اس کے علاوہ بھی کئی طرح کے ٹیکس عائد ہیں، پیٹرولیم لیوی کے بھتے کا کوئی جواز نہیں، حکومت اپنی کرپشن اور لوٹ مار چھپانے کے لیے یہ بھتہ ٹیکس وصول کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر ٹیکس اہداف پورے نہیں کر رہا اور حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کو تیار نہیں، حکومت آئی ایم ایف کا بہانہ بنا کر عوام کو ریلیف نہیں دے رہی جبکہ نام نہاد ریلیف دراصل عوام کے لیے خیرات ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا کہ حکومت مذاکرات میں ہم سے تجاویز مانگتی ہے حالانکہ ہم تجاویز دے بھی چکے ہیں لیکن حکومت انہیں ماننے کو تیار نہیں، کئی اجلاس ہو چکے ہیں اور حکومت ہر مرتبہ وقت مانگتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم کہتے ہیں کہ سود 3 فیصد کر دیا جائے، حکومت کہتی ہے کہ اسٹیٹ بینک خود مختار ہے، حالانکہ اسٹیٹ بینک میں تقرریاں حکومت ہی کرتی ہے۔
امیرِ جماعتِ اسلامی نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کی تحریک اب پوری قوم کی آواز بن چکی ہے، ہم کل سے اپنا مارچ شروع کر رہے ہیں، پیٹرولیم لیوی ہر صورت ختم کرنا ہو گی، اگر حکومت لیوی ختم کرتی ہے تو بات ہو سکتی ہے، بصورت دیگر لانگ مارچ کسی صورت ختم نہیں کریں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اگر باقاعدہ تجویز کے ساتھ آئے گی تو مذاکرات کیے جائیں گے۔