السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
لسٹ پوری پڑھ لی
’’حالات و واقعات‘‘ میں ہمیشہ کی طرح منور مرزا موجود ہیں اور بتا رہے ہیں کہ ’’مسلم دنیا خطرے میں ہے‘‘، اللہ خیر کرے ۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس کا پیرزادہ قاسم پر خاکہ بہت ہی پسند آیا۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں نظیر فاطمہ کے افسانچے ’’اس حمام میں‘‘ اور کلثوم پارس کے افسانے ’’شکوہ بدہن‘‘ کا جواب نہ تھا۔ آپ کی ناقابلِ اشاعت کی لسٹ بھی پوری پڑھ لی۔ فہرست میں ہمارے، شری مرلی چند جی بھی نظر آرہے تھے۔ اور ہاں، کافی عرصے سے سلیم راجا کا خط پڑھنے کو نہیں مل رہا، خیریت …؟ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)
ج: جس قدر اشتیاق سے آپ ناقابلِ اشاعت تحاریر کی فہرست کا مطالعہ کرتے ہیں، اتنے ذوق و شوق سے تو غالباً شاملِ اشاعت مضامین بھی نہیں پڑھتے۔
رونق بخشنے کا شکریہ
تازہ شمارہ ’’رنگ، دھنک یہ مہکا بادل، سب تصویریں تیری ہیں…‘‘ عبارت کے ساتھ وصول پایا۔ ’’ٹائٹل‘‘ سے ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ تک کشادہ پیشانی، روشن چہرے، جھیل سی آنکھوں والی ماڈل چھائی ہوئی تھی، خوش آمدید، میگزین کو رونق بخشنےکا شکریہ۔ نئی وضع قطع کے ملبوسات بھی خُوب بہاردِکھا رہے تھے، وسطی صفحات کی تحریر حسبِ معمول شائستہ اظہرنے لکھی اور حسب سابق بےمثال، موضوعِ تحریر برکھا رُت، ساون تھا۔ نصرت عباس داسو کی تحریر ’’ڈگری، تعلیم یافتہ ہونے کی سند نہیں‘‘ قابل تعریف تھی۔
ڈاکٹر سکندر اقبال کی ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ کے لیے قلم آرائی ’’پٹّھے، ہمارے جسم کی چُھپی طاقت‘‘ نے معلومات کے کئی بند دَر کھولے۔ نظیر فاطمہ بعنوان ’’اس حمام میں‘‘ بڑی پیاری تحریرلائیں، بلاشبہ اُن کی تحریروں میں انفرادیت پائی جاتی ہے، کلثوم پارس کی ’’شکوہ بدہن‘‘ بھی زبردست نگارش تھی، بہت ہی متاثر کیا، بلکہ میرے خیال میں جریدے کی نمبرون تحریر یہی تھی۔ پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ کا انٹرویو بہت پسند آیا۔
مہر منظور جونیئر کی ’’حکمت کی باتیں‘‘ بھی دل چُھو گئیں، تبصرۂ کتب کے مطابق ’’پاکستان کا استحکام اور ترقی‘‘ بہترین کتاب معلوم ہوئی، آخر میں بات ہوجائے’’آپ کا صفحہ‘‘ کی، بزم رنگ برنگی چٹھیوں سے خوب سجی سنوری دکھائی دی۔ کئی ستارے جگمگارہے تھے، اِک جشن سا بپا تھا، سب ہی مہمان خوش گپیوں میں مصروف تھے، جب کہ شہزادہ بشیر محمّد نقش بندی اعزازی کرسی پربراجمان پائے گئے۔ قرات نقوی کی ای میل شاملِ اشاعت نہ تھی، انتظار ہی رہا۔ (محمّد صفدر خان ساغر، نزد مکی مسجد، محہ شریف فارم، راہوالی، گوجرانوالہ)
ج: ماڈلز کے ماموں جان! آپ یقین رکھیں، آپ کی تعریف و توصیف، دلی تشکّر ہر ہفتے بحفاظت آپ کی منہ بولی بھانجیوں تک پہنچ جاتا ہے۔
تبصرے میں تشنگی
طنزومزاح پر مشتمل ہمارے چھٹے مجموعے’’تخلیقیے‘‘ پہ تبصرہ آرائی پر اختر سعیدی کا دلی شکریہ، لیکن کیا ہی اچھا ہوتا، اگر مذکورہ مجموعے کے اکتیس مضامین سے اپنے مطالعہ شدہ ایک یا دو مضامین کے صرف عنوان ہی کا ذکر فرما دیتے تو ہمیں تبصرے میں تشنگی محسوس نہ ہوتی۔ بہرکیف، اچھی تحریر کی انشاء پردازی قاری کو تبصرے پر مجبور کر ہی دیتی ہے۔ اب جیسے منور مرزا کے تجزیاتی اور تحقیقی مضامین بہت دل چسپ ہوتے ہیں۔
اِس دفعہ خُود کومسلمانوں اوراسلام کا دوست سمجھنے والی نام نہاد مسلّح تنظیموں پر شان دار قلم آرائی کی۔ تمام اسلامی ممالک کواس مسئلے پرنہ صرف غور بلکہ اس کا بھرپور تدارک کرنا چاہیے۔ نصرت عباس داسو کا مضمون بھی تلخ حقیقت پر مبنی تھا۔ ’’ڈگری تعلیم یافتہ ہونے کی سند نہیں‘‘ اور دنیا بھری پڑی ہے، مثالوں سے۔ جارج ایڈیسن نے انسان کے فائدے، آسانی کے لیے ایک سو چیزیں ایجاد کیں، لیکن اس کے پاس میٹرک کی سند بھی نہ تھی۔
ہمارے مُلک کے ایک بڑے اسلامی اسکالر، جن کی کتب دنیاکی قدیم ترین اور بڑی جامعات کے نصاب میں شامل ہیں۔ مطالعے میں یدِطولی رکھتےتھے،مگران کےپاس کوئی ظاہری سند نہ تھی۔ افسانوی دنیا کے بادشاہ سعادت حسن منٹو میٹرک میں تین مرتبہ فیل ہوئے۔ چکوال سے حافظ بلال بشیر کا یوم شہدائے کشمیر پرمضمون بھی بروقت تھا۔ ’’تخلیق کا زوال، اردو ادب کا سب سے بڑا بحران ہے‘‘رؤف ظفرکی پروفیسرڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ سے گفتگوقابلِ غورباتوں پر مشتمل تھی۔
ڈاکٹر سکندر اقبال عملی خدمات کےعلاوہ تحقیقی و تجزیاتی مضامین کے ذریعے بھی عوام کو معلومات بہم پہنچارہے ہیں اور یہ ایک اہم، بڑا کام ہے۔ رحمان فارس، ڈاکٹر پیرزادہ قاسم جیسی بلند پایہ شخصیت کے ساتھ موجود تھے۔ یہ اپنےایسے خاکوں میں ذاتی تجربات اور اشعار کے علاوہ غیرضروری ’’ہیرے، موتی‘‘ بھی جڑ دیتے ہیں، جو بارِ نظر محسوس ہوتے ہیں۔
اُن سے درخواست ہی کرسکتے ہیں کہ افسانوی تصورات و تخیلات سے کہیں بہتر ہے کہ حقیقی شخصیت اجاگر کرنے کی کوشش فرمائیں، خاکہ خاکہ ہی رہے ’’قصیدۂ نثر‘‘ نہ نظر آئے۔ (ہم تبصرہ کرتورہے ہیں، لیکن کاٹ چھانٹ کے بعد بھی،خط کا شاملِ اشاعت ہونا محلِ نظرمعلوم دیتا ہے) یہ ایک سادہ اور سیدھا فارمولا ہے، کوئی بھی مضمون لکھنے کے لیے بہت سامطالعہ ازبس لازم ہےاوریہ کمال (خوشامد نہیں) ہمیں صرف آپ کی ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ کی تحاریر میں محسوس ہوتا رہا ہے۔ اس بارکی ماڈل میں سب کچھ تھا، مگر کسی پوز میں بے ساختہ پن نظر نہیں آیا۔
نظیر فاطمہ کا افسانہ ’’اس حمام میں‘‘ مبنی برحقیقت تھا اور ’’شکوہ ٔبدہن‘‘ خصوصاً اُن بیٹوں کی بے حسی کا آئینہ لگا، جو بھول جاتے ہیں کہ والدین نے اُنہیں کس قدرمشقت سے پروان چڑھایا، کسی قابل بنایا۔ کتابوں پر تبصرے کا ابتدا میں ذکر کرچکے اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ کا میدانِ کارزار، اللہ اللہ، جو دِلوں کو فتح کرلے، وہی فاتحِ زمانہ۔ (حقیر فقیر، پُرتقصیر، جمیل ادیب سیّد)
ج: کئی لوگوں کواُن کی عُمر، بڑھاپےکا مارجن دینا پڑجاتا ہے کہ ہماری دینی ومعاشرتی اقدار روایات یہی سکھاتی ہیں، وگرنہ ہمیں ادھار رکھنےکی عادت نہیں۔ سو، فی الوقت آپ کی تمام تر بدگمانیوں، حاشیہ آرائیوں کا صرف ایک ہی جواب ہے، اور وہ ہے، خط کا نسبتاً کم کاٹ چھانٹ کے ساتھ شاملِ اشاعت ہونا۔
زبردستی مسند پر بٹھا دیا
ایک ماہ بعد محفل کا حصّہ بننے کی جسارت کررہا ہوں، منور مرزا نے مسلّح تنظیموں کو مسلم دنیا کی بقا کے لیے خطرہ قرار دیا۔ اُن کی بات بجا، مگر یہ تنظیمیں صرف مسلم دنیا ہی کے لیے نہیں، ہر ملک اور تہذیب کے لیے خطرہ ہیں، کیوں کہ جنونی، انتہا پسند افراد کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو، سماج کی جڑیں کھوکھلی کردیتے ہیں۔ ہمارے یہاں بھی اسی سبب بعض مقامات ’’نوگو ایریاز‘‘ بن گئے ہیں۔
نصرت عباس داسو نے اہم موضوع کا انتخاب کیا، ڈگری اگر تعلیم یافتہ ہونے کی سند ہوتی، تو سعادت حسن منٹو دوبار فیل ہونے کے باوجود اردو کا سب سے بڑا افسانہ نگار ہوتا۔ اہم ایام کی مناسبت سے حافظ بلال بشیر بڑی دل جمعی سے لکھ رہے ہیں۔ 22 کشمیریوں کو اذان دینے کی پاداش میں جس طرح شہید کیا گیا، وہ ایک لازوال داستان ہے۔ ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ کی تحریریں ادبی رسائل و جرائد میں پڑھتے رہتے ہیں، خوشی کی بات ہے کہ گزشتہ سال ان کی تخلیقات پر 15 مقالات لکھے گئے۔
’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس نے بزرگ ادیب، شاعر ڈاکٹر پیرزادہ قسم کا بہت دل چسپ خاکہ تحریر کیا۔ ویسے فارس صاحب نثر ہی میں نہیں، نظم میں بھی شخصیت پر خُوب ہی لکھتے ہیں جیسا کہ ڈاکٹر صاحب کے متعلق لکھا۔ ؎ اگر وہ جانِ غزل لکھنؤ میں پڑھتا غزل… تو میر بھی ہمہ تن حرفِ داد ہو جاتے… پھراس کےبعد بھلے چاند بھی سُناتا کلام… تو سامعین ذرا بے سواد ہو جاتے۔
ایک شاعروادیب کی زندگی درس و تدریس میں گزرے تواس کے فن میں پختگی اور نکھار کیسے نہیں آئےگا اور واقعی اُردو جب مقاماتِ تہذیب سے ملے گی، تواس کے سنگم سے ڈاکٹر صاحب جیسا میٹھا چشمہ ہی نمودار ہوگا۔ برکھا رُت، ساون مہینے کی خُوب صُورتی، جذباتی کیفیات پر شائستہ نے عُمدہ لکھا، مگر ماڈل کی عُمر ہمیں کچھ زیادہ لگی، یوں لگ رہا ہے، جیسے خاتون کو زبردستی ماڈلنگ کی مسند پر بٹھا دیا گیا ہو۔ اور’’متفرق‘‘ تحاریر میں ارشد مبین، بابر سلیم، خاور نیازی اور امجد سعید نے مختصر مگر موثر لکھا۔ (رانا محمّد شاہد، گلستان کالونی، بورے والا)
ج: کیا آپ سے کوئی زبردستی ماڈلنگ کرواسکتا ہے، وہ بھی بغیر معاوضے کے۔ اور ماڈلنگ کے لیے کم عُمری کی شرط کس نے طے کی؟
فوراً سے پیش تر نوٹس لیں
شہباز شریف سے ایک گزارش ہے کہ ایڈیٹر، سنڈے میگزین کو جنگ اخبار کے مالکان پر دباؤ ڈال کر فوری اُن کے عہدے سے برطرف کروادیں کہ اس پُرفتن دَور میں وہ ایک معیاری جریدہ ’’سنڈے میگزین‘‘ شائع کررہی ہیں، جس میں ہر عُمر کے لوگوں کے لیے معلومات کا خزانہ، خوشیوں کا سامان ہوتا ہے۔ یہ جریدہ دن بہ دن ترقی کررہا ہے، اس لیے آپ فوری نوٹس لیں اور مدیرہ کو برطرف کروائیں تاکہ آئندہ اس مُلک میں کسی کو کوئی اچھا کام کرنے کی جرات نہ ہو۔
ویسے یہ کام آپ 1999ء میں بھی کر چُکے ہیں، جب آپ نے جنگ اخبار پر پابندیاں لگائی تھیں۔ ہم نے مدیرہ پردباؤ ڈالنے کی بہت کوشش کی، مگر وہ چٹان کی طرح ڈٹی رہیں، مجبوراً ہمیں ہی ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں مُرغا بن کر معافی مانگنی پڑی، اب ہم اُن سے اپنا بدلہ لینا چاہتے ہیں، آپ ہی بتایئے کہ اِس مُلک میں کون سا کام ٹھیک ہورہا ہے، نوکریاں سفارش پر ملتی ہیں، سڑکیں ٹوٹی پھوٹی، جا بجا کچرے کے انبار، پانی نہ بجلی، نہ گیس اور یوٹیلٹی بلز آسمانوں پر، ہر شعبہ زوال کا شکار ہے، تو ایسے میں ایک معیاری میگزین کیوں شائع ہورہا ہے، اِس لیے آپ سے درخواست ہے کہ فوراً سے پیش ترسخت نوٹس لے کے مدیرہ کو برطرف کروائیں۔ (نواب زادہ بےکارملک، سعید آباد، کراچی)
ج: آپ نے شہباز شریف کو کچھ زیادہ ہی ہلکا لے لیا، وہ اس وقت ’’عالمی ثالث‘‘ کا کردار ادا کررہے ہیں۔ چھوٹے موٹے مُلکی مسائل کا رونا رونا ہے، تو اپنے جیسے عام لوگوں کے گلے لگ کے روئیں اور رہی بات ہماری برطرفی کی، آپ حُکم کریں، ہم تو خُود ’’رجّے‘‘(تنگ آئے) بیٹھے ہیں۔
فی امان اللہ
شمارہ موصول ہوا، سرِورق پرخوش شکل ماڈل بمع دوپٹا دیکھ کے بہت خوشی ہوئی۔ منیر احمد خلیلی ایران، امریکا معاہدے میں اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کو رکاوٹ قرار دے رہے تھے، بےشک، اسرائیل کو لگام دیئے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں امن کی توقع خام خیالی ہے اور اسے امریکا ہی قابو کر سکتا ہے۔
رابعہ فاطمہ مون سون کے خطرات سے آگاہ کررہی تھیں، مگر ہمارے حُکم رانوں کے کانوں پرتوجُوں نہیں رینگتی کہ غریبوں کی تباہی وبربادی سے اُنہیں کیا فرق پڑتا ہے، ان کے محلات تو اندرون و بیرون مُلک سلامت ہی۔ ڈاکٹر سکندر اقبال صحت مند زندگی کا اسلامی تصوّراجاگر کررہے تھے، جو ہمیں 1500 سال قبل اللہ اور رسولﷺ نے دیا اور ہم نے اسے فراموش کرڈالا۔
منور مرزا پاک و ہند کی 117 معروف شخصیات کےمشترکہ خط کا تذکرہ لائے، جوانہوں نےشہبازشریف اورمودی کولکھا اوراُس میں دونوں سے امن وآشتی کے ساتھ رہنےکی اپیل کی گئی۔ سمجھ نہیں آتا، دنیا کےمعتبرین ظالم، مظلوم کو ایک ہی سطح پر کیوں رکھتے ہیں، پاکستان، بھارتی جارحیت کا شکار ہے، حتیٰ کہ دو ٹکڑے ہوگیا، کشمیر کے معاملے پر ہٹ دھرمی، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں سے انحراف،80 سال سے بربریت کے ذریعے دو لاکھ کشمیریوں کا قتلِ عام(جو ہنوز جاری ہے)، یہاں تک کہ ’’سندھ طاس معاہدہ‘‘ یک طرفہ طور پر ختم کردیا۔ پاکستان تو اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے، عالمی برادری کو چاہیے، اپنی مصلحتوں کے خول سے نکلے اور جارح کی کُھل کر مخالفت کرے۔
ڈاکٹر نازش فاطمہ موٹاپے کےخطرات سے متنبّہ کررہی تھیں مگروہی بات؎ کون سُنتا ہے، فغانِ درویش۔ پاکستانی قوم تو کھانے پینے کو زندگی کا مقصد بنائے بیٹھی ہے۔ پروفیسرمحمّد صادق میمن نےاینڈوسونوگرافی کی افادیت سےآگاہ کیا، جب کہ رحمان فارس سحرانصاری کی ہنرکاری کی تفصیل لائے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں شائستہ اظہر کی پرواز بلند ترہوتی معلوم ہوئی، اشعار کا تڑکا بھی خوب تھا۔ ہما میر اپنے والد پروفیسر وارث میر کی خُوبیاں گِنوا رہی تھیں، بے شک، ایسے آئیڈیل لوگوں کےنقشِ قدم پر چلنے کے فائدے ہی فائدے ہیں، جب کہ معصومہ اپنے پیارے پوتے کی ناگہانی موت پر افسردہ تھیں۔
زینت منظور عمل سے عاری نظامِ تعلیم پر شکوہ کناں تھیں۔ مریم شہزاد نے صحیح نشان دہی کی کہ اولاد کی تربیت صرف ماں کی ذمّے داری نہیں، اہلِ خانہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ محمّد آصف قریشی قرونِ وسطیٰ کے نام وَر سائنس دان ابن الہیثم کے کارناموں، ایجادات کی تفصیل لائے، تو دانیال حسن چغتائی انٹرنیٹ کے بےجا استعمال کے خطرے کی طرف توجّہ مبذول کروارہے تھے۔ طارق بلوچ صحرائی کے سارے فلسفے کا خلاصہ شاید یہ تھا کہ ’’بزرگ خاندان کی چھتری ہوتے ہیں۔‘‘ اور ہمارے صفحے پر رانا شاہد کی چٹھی اعزاز کی مستحق ٹھہری۔
آپ کو، ہمارا ’’صوابدیدی ڈکٹیٹر‘‘ کہنا بُرا لگا، حالاں کہ ہم نے تو آپ ہی کے الفاظ نقل کیےتھے۔ ہمیں تسلیم کہ راجا اچھے لکھاری ہیں، مگر ہم جیسے ٹوٹے پھوٹے الفاظ لکھنے والے بھی تو حوصلہ افزائی کے متمنّی رہتے ہیں۔ آپ ہمارے خطوط کی نوک پلک درست کرکے ہمیں جو اعزازی چٹھی کا اعتبار بخشتی ہیں، ہم دل سے ممنون ہوتے ہیں۔ سچ یہی ہے کہ ہم نے آپ سے بہت سیکھا ہے۔ (شہزادہ بشیر محمّد نقش بندی، میرپوخاص)
ج: آپ کے اور محمّد سلیم راجا کے خطوط میں بڑا فرق یہی ہے کہ اُن کی نوک پلک سنوارنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
* 10 مئی کا شمارہ ’’مدرز ڈے اسپیشل‘‘ دل اداس کرگیا۔ اپنی ماں کے ہاتھوں کا لمس محسوس کیے سالوں بیت گئے۔ اب تو تصویروں میں بھی صُورت پہچانی نہیں جاتی۔ سوچا تھا کہ اُن کو ’’ایک پیغام‘‘ سلسلے کے ذریعے پیغام بھیجوں گی، لیکن وہ میگزین ہی نہیں پڑھتیں۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ کی دونوں تحاریر میں لکھاریوں کا نام نہیں تھا۔ پتا نہیں کس نے بھیجیں۔ آپ کی اسٹائل بزم کی مہمان بسمہ معروف کو دیکھ اور پڑھ کر بہت بہت اچھا لگا، لیکن اگربیٹی کےساتھ بیٹےکا بھی شوٹ ہوتا تو چارچاند لگ جاتے۔
رحمان فارس نے سلیمہ ہاشمی اوریوسف رضا گیلانی سے ملاقات کروائی۔ ڈاکٹر سکندراقبال کی ہر تحریر ہی خاصی معلوماتی ہوتی ہے۔ مئی کےتیسرے شمارے میں قوسِ قزح کا ذکر پڑھ کے حیرت ہوئی کہ ابھی دو دن پہلے ہی مَیں نے بارش کے بعد آسمان پہ حسین رینبو دیکھی اور تصاویر بھی لیں۔ پروفیسر منصور کا خط مسندِ اعلیٰ پر جگمگا رہا تھا۔ دیکھ کے دل باغ باغ ہوگیا۔
مَیں ان کےخیالات سے 100 فی صد متفق ہوں کہ یہاں پردیس میں واقعتاً کسی چیزمیں کوئی ذائقہ، کوئی رونق نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ بس اب یہ سنڈےمیگزین ہی رہ گیا ہے،جس نے مجھے اپنےمُلک، اُس کےکلچر سےجوڑرکھا ہے۔ اس سےمحبت ہی نہیں، اس کی عادت ہوگئی ہے۔ وگرنہ مَیں اتنی بھی ویلی نہیں۔ ہفتے میں6دن نوکری کےساتھ گھر بھر کے سارے کام بھی کرتی ہوں۔ (قرات نقوی، ٹیکساس، امریکا)
ج:پرنٹ ایڈیشن میں’’ڈائجسٹ‘‘کی سب تحاریر پر نام موجود تھے کہ جب سے اس صفحےکی ذمّےداری خود اپنے ناتواں کاندھوں پر اُٹھائی ہے، ایک ایک سطرکئی کئی باربغور چیک کی جاتی ہےاور نیٹ ایڈیشن انچارج کےمطابق مختصر تحاریر پر بھی نام موجود ہوتے ہیں، جو پیج اوپن کرنے سےپہلے ہی دکھائی دے جاتے ہیں، تم غالباً غور نہیں کرتی۔ بسمہ معروف کا بیٹا ابھی بہت چھوٹا ہےاور وہ اُسے میڈیا پرنہیں لانا چاہتی تھیں، سو شوٹ کا حصّہ نہیں بنایا گیا۔
قارئینِ کرام کے نام !
ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk