• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حرا خان

مرد کا رونا یا اُداس ہوجانا ہمارے معاشرے میں معیوب کیوں سمجھا جاتا ہے، کیا مرد انسان نہیں۔ ہمارے یہاں یہ ایک عام معاشرتی غلط فہمی ہے کہ مرد کو اپنے جذبات کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔ مرد اگر خاموش رہے تو باوقار اور اگر رو پڑے تو اُس کے آنسوؤں پر قہقہے لگائے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا مرد انسان نہیں، اُس کے سینے میں دل نہیں؟ مرد بھی ٹوٹتا ہے، بکھرتا، ہارتا اور تنہا ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اُسے ٹوٹنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

اس کے آنسوؤں پر قفل لگا دیا جاتا ہے، اس کے دُکھ کو صبر یا حوصلہ کہہ کر دبا دیا جاتا ہے اور یہی دبے ہوئے جذبات آہستہ آہستہ اُسے اندر سے کھوکھلا کر کے شدید اذیت میں مبتلا کردیتے ہیں۔ مرد کارونا اس کی ہار نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ بھی زندہ ہے۔ محسوس کرتا ہے، درد کو پہچانتا ہے۔

مرد بھی اِسی معاشرے کاحصّہ ہے، جہاں دکھ، محرومیاں، جدائیاں اور ناکامیاں عام ہیں۔ وہ بھی سہارا چاہتا ہے، مگر افسوس صدیوں سے ہمارے معاشرے میں مَردوں سے یہ توقع کی جاتی رہی ہے کہ وہ مضبوط، سخت دل اور جذبات سے عاری رہیں، وگرنہ وہ کم زور کہلائیں گے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مرد بھی ایک جیتا جاگتا انسان ہے۔

اُن سے کیوں اُمید کی جاتی ہےکہ وہ مشکلات کا سامنا بغیر کسی شکایت کے کریں اور اگر وہ روئیں دھوئیں تو اُنھیں کم زور یا بزدل سمجھ لیا جاتا ہے، حالاں کہ رونے کا عمل ایک قدرتی اور ضروری جذباتی رہائی ہے، جو مرد و عورت دونوں کے لیے ضروری ہے۔ رونا جذبات کے اظہار کا ایک فطری اور صحت مندانہ طریقہ ہے، تب ہی مرد جب اپنے احساسات دبانےکی کوشش کرتے ہیں، تو اُن میں ذہنی دباؤ، اور اضطراب پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

بلاشبہ رونے سے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے، جس سے تناؤ کم ہوجاتا ہے اور انسان خود کو ذہنی طور پہ پُرسکون محسوس کرتا ہے۔ نیز، اس طرح جسم میں جمع ہونے والےمنفی جذبات کا اخراج بھی ہوجاتا ہے، لہٰذا رونا کوئی انسانی کم زوری نہیں بلکہ زندگی کی علامت ہے۔

یاد رکھیں، مرد بھی اس دنیا میں اُن تمام چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں، جن کا سامنا خواتین کرتی ہیں۔ اُنہیں بھی دُکھ، درد، مایوسی، ناکامی اورجدائی کاسامنا ہوتا ہے۔ سو، مَردوں کو بھی رونے کا پوراحق حاصل ہے اور اُنہیں اپنے جذبات کے اظہار میں شرمندگی یا کسی قسم کا خوف محسوس نہیں کرنا چاہیے۔

ایک صحت مند معاشرہ وہی ہوتا ہے، جہاں مرد وعورت دونوں کو اپنے جذبات و احساسات آزادانہ طور پر ظاہر کرنے کا حق حاصل ہو کہ یہ انسان کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے۔ تومان لیں کہ مرد بھی رو سکتے ہیں اور اُنھیں رونےدینا چاہیے تاکہ وہ اپنی اندرونی تکالیف سے آزاد ہوں اور ایک صحت مند زندگی گزار سکیں۔

ناقابلِ اشاعت نگارشات اور اُن کے تخلیق کار برائے صفحہ ’’ڈائجسٹ‘‘

٭سو لفظی کہانی، بھولی، روزنامچہ، قربانی، ریل گاڑی (صبا احمد، کراچی) ٭مجھے اس طرح نواز دے (ماریہ حسّان) ٭خدمت یا قربت، ابو کی سائیکل (رانا محمّد شاہد، بورے والا ) ٭شفق کا گواہ، ایثار کی خوشبو (شگفتہ جہاں، کراچی) ٭فادرز ڈے(شہزادہ بشیر محمد نقش بندی، میرپور خاص) ٭کھوکھلی جڑ (جاوید جواد حسین، گلشنِ اقبال ٹاؤن، کراچی)٭خط (محمد شاکر لبانہ، بستی اللہ بخش، جندوپیر) ٭کانچ کی عمارت (ایس ناز گل، کراچی) یادِ ماضی (طوبیٰ احسن، لاہور)۔

برائے صفحہ ’’متفرق‘‘

٭چڑیل، والد ،قول و فعل، چِٹھی، سوئی گیس، کتاب (شری مُرلی چند گوپی چند گھوگھلیہ، شکارپور) ٭ ساندل بار اسپورٹس میلہ (شیخ عبدالنعیم، سیدوالہ)٭بند آنکھوں کے پیچھے (رحمت عزیزخان چترالی) ٭علامہ ہشام الٰہی ظہیر (عمران سلفی) ٭وقت کی قدروقیمت (صبااحمد، کراچی) ٭ہراسمنٹ، لڑکوں کا لڑکیوں کودھوکا (اقراء الیاس علی خان، نارتھ کراچی، کراچی)٭روحانی ترقّی اور نمک (محمّد کاشف، کراچی) ٭مَیں شیطان ہوں (ڈاکٹر افشاں طاہر، گلشنِ اقبال، کراچی) ٭ بابائے ہومیوپیتھی(بابرسلیم خان، سلامت پورہ، لاہور) ٭ قانون، رِٹس، حُکم نامہ جات،خفقان، نفسیات(محمّد صفدر خان ساغز، راہوالی، گوجرانوالہ) ٭پاکستان کے لیے ویٹو پاور (صغیرعلی صدیقی، کراچی) ٭عالمی یومِ ہیپاٹائٹس (محمّد ریاض ایڈووکیٹ) ٭ مثنوی (ارسلان اللہ خان، حیدرآباد) ٭کراچی: روشنیوں سے مسائل کے شہر تک کا سفر (محمّد رمضان مغل، کراچی)٭ ہیپاٹائٹس کا عالمی یوم( ڈاکٹر شاہد ایم شاہد، واہ کینٹ)٭ شبیہ (زریں اختر) ٭ ماہِ صفر سے منسوب غلط تصورات، دوست (رانا اعجاز حسین چوہان)٭ قومی خزانے کو اربوں کا نقصان (زاہد رؤف کمبوہ، گوجرہ) ٭ امیرالعظیم کی وفات (حنا شاہ)۔