• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دُنیا کا سوالی نہ ہونا خُود دار ہونے کی نشانی ہے، خُودداری کی جاگیر اپنی ہو تو فاقے تاج بن جایا کرتے ہیں۔ سائل ہمیشہ دو چیزوں سے پہچانا جاتا ہے، ایک نم سوالی آنکھوں اور دوسرے کشکول سے۔ کشکول کبھی خالی نہیں ہوتا، ویران، سُونے کشکول میں بھی ندامت کے نظر نہ آنے والے بے شمار سکّے پڑے ہوتے ہیں۔ کشکول ہر لمحہ خیرات اور بھیک کا مُنتظر رہتا ہے اور بھیک کا نشتر رُوح زخمی کر دیتا ہے۔

عجب زمانہ آن پڑا ہے، سائل بھی حیران کھڑےہیں کہ لوگ اُن پرانی، بوسیدہ مُقفّل حویلیوں کی طرح منہدم ہورہے ہیں، جن کا واحد اثاثہ اُن سے منسوب داستانیں اور دُکھ بھری یادیں ہیں۔ یہ ماضی کی چشم دید گواہ ہیں کہ اِنہوں نے ایک پُرسکون جہان دیکھا ہوا ہے۔ یہ یادیں بھی عجیب ہوتی ہیں، آنکھ میں ٹھہرے ہوئے پردیسی مہمان کی طرح، یہ اس نگر میں نہیں رہتیں، یہ اپنا جہاں خُود بساتی ہیں۔

جہاں گھر داستانوں کے گارے سے بنے ہوتے ہیں، جہاں پریاں اور تتلیاں سسّی، لیلیٰ، سوہنی، ہیر کے ساتھ کھیلتی ہیں، جہاں چوپال میں بیٹھا کوئی خرقہ پوش داستان گو، ماضی کی کتابوں میں لکھے ہوئے ستاروں اور آسمانوں کے قصّے سُنا رہا ہو۔ شاید ہجر اور پردیس کا دُکھ روزِ اوّل سے ہے اور آخری زمانے تک رہے گا۔ داستان سُننے والے ہجوم میں ایسا کوئی نہ کوئی روایت شکن شخص ضرور ہوتا ہے، جو زیرِ لب بڑبڑاتا ہے اور کہتا ہے۔

سوہنی اور چناب کا سارا حُسن ایک طرف اور کچے گھڑے کی ریاضت ایک جانب، وہ ڈوب جانے کو کنارے پر فضیلت دیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے، رُوم جل بھی جائے، مگر بانسری کو مچلتے رہنا چاہیے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ بچّہ مُسکرا دے، تو باپ دُکھ گِننا بھول جاتا ہے۔ اب ہم نئے عہد کی کشتی میں سوار ہیں، جہاں کا ناخدا بھی عُجلت کا مارا ہوا ہے۔ جہاں مادہ پرستی کی تلاطم خیز موجوں نے طوفان برپا کیا ہوا ہے۔

جہاں سوالی کی آنکھیں پڑھنے کے لیے کسی کے پاس لمحہ موجود نہیں۔ سب ماضی اور مستقبل میں رہ رہے ہیں۔ اب داستان گو بھی ماضی کا حصّہ بنتے جا رہے ہیں، شاید اس لیے بھی کہ اس عہدِ نَو میں جب داستان گو ماضی کی آنکھوں میں چمکتے ستاروں کی باتیں اور آسمانوں کے قصّے سُنا رہا ہوتا ہے، تو لوگ اُس کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچ رہے ہوتے ہیں۔ وقت بدل گیا، پرانی مُقفّل بُلند حویلیاں اُداس ہجر زدہ ماضی کی شال اوڑھے طویل برف زار میں کسی پُرجلال سُورج کی منتظر کھڑی ہیں۔

اب کہیں جا کر اُن کو یقین آیا ہے کہ اس کائنات کا سب سے بڑا سچ دولت نہیں، وقت کو تخلیق کرنے والا وہی لافانی اور بےنیاز ہے، جس کا تعارف رحیم اور رحمان ہے۔ اب جا کر اِن حویلیوں کو علم ہوا ہے کہ رحل کے نیچے سے اگر خون رِس رہا ہے تو سمجھ جائیں، آپ محبّت کی کتاب نہیں پڑھ رہے۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے، مَیں بھی ایک پرانی، خستہ مقفّل حویلی کی طرح ہوں، جس کو دیمک لگ چُکی ہے۔

جس کے مکین کب کے جا چُکے ہیں اور وہ آہٹوں کی پیاس اپنے ہونٹوں پہ سجائے نم سُرخ آنکھوں سے روٹھے مکینوں کی آوازوں کی منتظر ہے۔ موسموں کے نگارخانے میں دُکھی آنکھوں جیسی ایک شام بجھ رہی تھی۔ یہ شام روز ایک سورج نگل جاتی ہے، مگر اس کے اندر سے اُداسی کا اندھیرا ہی نہیں چھٹتا۔ شام کی ستارہ شناس آنکھوں میں نہ جانے ایک نمی سی کیوں رہتی ہے۔

شام ہونے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا۔ مَیں کھیتوں سے گھر لوٹا تو دَر بند تھا۔ دستک دیتے ہوئے مجھے یاد آیا۔ ماں نے ایک بار کہا تھا۔ ’’بیٹا! جب دَر دستک دینے ہی پر کُھلے تو سمجھ جانا گھر ماں کے وجود سے خالی ہوگیا۔‘‘ میری شریکِ سفر نے دروازہ کھولا۔ مَیں بھاگ کر ماں کے کمرے میں گیا۔ ماں بستر پر لیٹی ہوئی تھی۔ مَیں نے ماں کو آواز دی، اُسے ہلایا، مگر شام سے پہلے ہی اُس کی زندگی کی شام ہو چُکی تھی۔

مَیں اُس روز بہت رویا کہ مَیں اُس روز سب کے ہوتے ہوئے بھی تنہا ہوگیا تھا۔ اُس سوالی اور گداگر کی طرح، جو بَھرے شہر میں بھی تنہا ہوتا ہے۔ ماں کے بغیر انسانی وجود اُس نامکمل خاکے کی طرح ہوتا ہے، جس میں ابھی رنگ بَھرے جانے ہوں۔ ماں کے جانے کے بعد میری یادوں نے اِک عجب سا الگ جہاں بسا لیا تھا۔ جہاں مَیں ماں کی گود میں لیٹ کر اُس کا مقدّس چہرہ دیکھتا رہتا۔

اُس کی جھوٹی مُوٹی کی ڈانٹ سُن کر اُس کو چُپ کروانے کے لیے اُس کے ہونٹوں پر اپنی ننّھی سی شہادت کی اُنگلی رکھ دیتا۔ اپنے بالوں کو اُلجھائے رکھتا تاکہ ماں میرے بال بناتی ہوئی میرے سامنے رہے۔ اور پھر مَیں باپ کی چھاؤں میں بیٹھ کر اپنی زمین پر لہلہاتی سرسبز فصلیں دیکھتا رہتا۔

مائیں، اولاد کے جیون کی پوشاک کے چھیدوں کو اپنی دُعاؤں سے رفو کرتی رہتی ہیں۔ اب رفوگر کے ہاتھوں کے چھید مجھے غم زدہ کردیتے ہیں۔ باپ کی چھاؤں میں رہ کر مَیں نے ایک بات سیکھی، جب آپ درد شناس ہوجاتے ہیں تو درختوں کی سرگوشیاں آپ کو لوری کی طرح سُکون دیتی ہیں۔ اشجار کا سب سے بڑا دُکھ اُنہیں گونگا، بہرا اور اندھا سمجھنا ہے۔ کاتبِ تقدیر نے جب میرے وجود کی پتنگ بنائی، تو اُس کی ڈور کا سِرا تین ہاتھوں میں دے دیا اور جب اِن تینوں نے میری زندگی کا نقشہ کھینچا، تو وہ تین نصیحتوں پر مشتمل تھا۔ وہ تین لوگ میری ماں، میرا باپ اور باؤ طیّب تھے۔

ماں نے مجھے نصیحت کی۔ ’’بیٹا! زندگی کی کلائی میں ہمیشہ محبت کا کنگن ہی اچھا لگتا ہے اور محبّت ایک سرمدی لے، رُوح کے اوراق پر لکھی آفاقی داستان ہے۔‘‘ میرے باپ نے نصیحت کی کہ ’’کتاب اور علم کو اپنا اوڑھنا، بچھونا بنانا۔ جہالت بڑی بےوقعت چیز ہے۔ تم دنیا جہاں کی جہالت بیچ کر بھی یونان کا ایک زہر کا پیالا نہیں خرید سکتے۔‘‘ اور باؤ طیّب کی نصیحت تھی۔ ’’بیٹا! معاملات اللہ کے سُپرد کردینا ہی بہتر ہوتا ہے، کیوں کہ وہ تم سے، خُود تم سے بھی زیادہ مخلص ہے اور احسان کو ہمیشہ یاد رکھنا کہ محسن شناس شخص کو اللہ کبھی ضائع نہیں کرتا۔‘‘

باؤ طیّب ہمارے گاؤں ہی میں رہتا تھا۔ وہ شربت بنانے والی فیکٹری میں مینیجر اور ابّا کا دوست تھا۔ جب میرے پاس فیس اور کتابوں کے پیسے نہیں ہوتے تھے، تو وہ چُپ چاپ میرے ہاتھ میں پیسے پکڑا دیتا اور کہتا۔ ’’اِس کا ذکر کسی سے نہیں کرنا، اپنے باپ سے بھی نہیں۔‘‘ اُس کا ایک بیٹا تھا حمزہ، جو میرا ہم جماعت تھا۔ اُس کی ضد تھی کہ وہ باہر جائے گا۔ باؤ طیّب نے اپنا سب کچھ بیچ کر اُسے باہر بھیج دیا اور پھر وہ کبھی لوٹ کر نہیں آیا۔ باؤ طیّب کی بیوی دس سال پہلے ہی فوت ہوچُکی تھی، وہ گھر میں بالکل اکیلا رہتا تھا۔

ہاں اُس کی بہو، جو اُسی گاؤں کی تھی، وہ اپنے والدین سے ملنے آتی جاتی رہتی۔ مَیں اکثر کھیتوں کے کام سے فارغ ہوکر اپنے محسن باؤ طیّب کے پاس جاکر بیٹھ جاتا۔ اور پھر ہم باتوں کی بارش میں بھیگتے رہتے۔ باؤ طیّب بڑا خُوب صُورت شخص تھا۔ اُس کی گفتگو دیکھنے والی اور خامشی سُننے والی ہوتی تھی۔ وہ اکثر اپنے بیٹے کو یاد کرتا اور کہتا۔ جڑ سے اُکھڑنے کا دُکھ کوئی مہاجر ہی جان سکتا ہے۔ اگر مکان ہجرت کرسکتے تو اپنے مکینوں کو ملنے شہر اور پردیس ضرور جاتے اور کہتے۔

اولاد کی جدائی کے بعد انسان اُس دُکھی بوڑھے کی طرح ہوجاتا ہے، جو اپنا نام بھول گیا ہو اور اُسے یاد کرنے کی سخت اذیت میں ہو۔ باؤ طیّب اپنی ذات میں ایک انجمن تھا۔ اُسے میرے باپ کی کہی ایک بات بہت اچھی لگتی تھی کہ ’’اللہ کو راضی کیے بغیر سُکون کی خواہش، شدّاد کی وہ جنّت ہے، جس کے دروازے پر آپ مر تو سکتے ہیں، مگر اندر داخل نہیں ہو سکتے۔‘‘ باؤ کہتا تھا۔ رابطہ آکسیجن ہے، رابطہ زندگی ہے، خیر ہے۔ رابطہ چاہے مخلوق سے ہو یا خالق سے فیض ہی ملتا ہے اور اس جیون منڈی میں رابطوں کی کساد بازاری ہے۔

رابطے میں رہو کہ اگر دِلوں کے درمیان فاصلے بڑھ جائیں تو پھر درختوں پر نام ہی لکھے رہ جاتے ہیں۔ وہ ایک عجیب دُعا کرتا کہ ’’اے مالک! مجھے اس قدر مُفلس نہ کرنا کہ کوئی راہ زن مجھے لُوٹنے آئے اور میرے پاس اسباب نہ پا کر مایوس لوٹ جائے۔‘‘ اکثر کہتا ۔ اگر یہ دیکھنا ہو کہ یہ معاشرہ کتنا معزّز ہے، تو دیکھو یہ ادیب کی کتنی عزت کرتا ہے۔ میرے باپ نے میرے خاندان کی مخالفت کے باوجود شہر چھوڑ دیا۔ وہ کہتے تھے، جہاں لوگ کتابیں خریدنا چھوڑ دیں، کتابوں کی دُکانیں بند ہونے لگیں، وہاں سے ہجرت فرض ہوجاتی ہے۔

جہاں کتابیں نہ بکیں، وہاں مجاوروں، جادوگروں، سنسنی اور جھوٹ پھیلانے والے جعلی دانش وَروں کی اکثریت کی چاندی ہوگی اور لوگ سستی جذباتیت کا شکار ہو کر دھوکے بازوں کے ہاتھوں کھیلنے لگیں گے، وہاں عن قریب خون خرابا شروع ہوجائے گا۔ اور پھر وقت نے ثابت کیا، اُس شہر میں ایسا ہی ہوا۔ ایک بار مَیں نے باؤ طیّب سے خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ، انتشار کی وجہ پوچھی، تو کہنے لگا۔ ’’انا اور رزقِ حرام کے علاوہ اس کی وجہ دین سے دُوری ہے کہ رشتوں کو نبھانا ہی تو اسلام ہے۔ یاد رکھنا، جو بھائی آپس میں دوست نہیں بنتے، وہ ’’برادرانِ یوسف‘‘ بن جاتے ہیں۔

ایک شام وہ بہت اُداس تھا۔ کہنے لگا۔ ’’مجھے ایک دُکھ کھا گیا ہے، میرا بیٹا مجھے پیسے بھیجتا ہے، تو اپنی بیوی کے ذریعے۔ اور اپنی بہو سے پیسے لیتے ہوئے مجھے لگتا ہے، جیسے مَیں ایک سوالی ہوں۔ بچپن میں جب مَیں اُسے پیسے دیتا تھا، تو اُس کی ماں کو بھی علم نہیں ہوتا تھا۔ مجھے لگتا ہے، یہ دُکھ مجھے مار ڈالے گا۔ بہو کے ہاتھ سے پیسے لے کر مَیں شرم سے زمین میں گڑجاتا ہوں۔‘‘ مَیں نے تسلی دینے کی کوشش کی۔ ’’باؤ جی! یہ کوئی بڑی بات نہیں۔

آخر پیسے تو بیٹے کے ہی ہوتے ہیں۔‘‘ باؤ طیّب نے دُکھ سے میری طرف دیکھا اور بولا۔ ’’تم پرانے لوگوں کی خُودداری کا معیار نہیں سمجھ سکتے۔ مجھے سوالی بننا اچھا نہیں لگتا۔ میری رُوح زخمی ہونے لگتی ہے۔ مجھے اُن پیسوں سے کشکول کی ہُمک آتی ہے۔‘‘ اور پھر باؤطیّب چارپائی پر لیٹ گیا۔ اُس نے آسمان کی طرف دیکھا اور کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولا۔ ’’دَر بڑا ہو تو سوالی بھی کھڑا سجتا ہے۔‘‘ اور پھر آنکھیں بند کرکے اپنی جان کی امانت، بڑے دَر والے کے سپرد کردی۔

سنڈے میگزین سے مزید