• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محمّد علی اشرف

جب بھی دیکھوں پار سمندر

تپ تپ جائے یار سمندر

کیسے تجھ کو پار کروں گا

ہے رستہ دشوار سمندر

تیرے اندر اِک دریا ہے

اور مجھ میں دو چار سمندر

اس کی آنکھوں کا اِک آنسو

ڈوبے گا اِس بار سمندر

قید ہے مٹی کی سرحد میں

کہنے کو سنسار سمندر

باہر کتنی خاموشی ہے

اندر روئے زار سمندر

خُود میں برپا ایک تصادم

کیسی یہ تکرار سمندر

ایک حسیں کی ضد کے آگے

ہار گیا خُود دار سمندر