…نوید اشفاق شیخ…
کیسا فریبِ دل ہے کہ اب بھی گمان ہے
اس دشتِ بے اماں میں کوئی سائبان ہے
پہلے تو آزما کے نکالا بہشت سے
لگتا ہے، اب بھی زیست مِرا امتحان ہے
تقدیر کا قلم بھی جو پوری نہ لکھ سکا
ٹوٹے ہوئے دِلوں کی عجب داستان ہے
وہ آئے جب بھی میرا پتا پوچھتے ہوئے
کہہ دینا اب تلک وہی کچا مکان ہے
میری غزل میں اور تو کچھ بھی نہیں نوید
اِک مرگِ آرزو کا ادھورا بیان ہے
…معین فخر معین …
کمال ایسے دیکھے زمانے نے زر کے
بدل جاتے ہیں رنگ سب ہی بشر کے
بھلا زندگی کو کوئی نام کیا دیں
تماشے ہیں یہ سب ہی شام و سحر کے
تقاضے یہی ہیں محبّت کے اے دوست!
کہ محبوب ہی ہم رہیں تیرے در کے
محبّت نہیں کوئی کاسے کا سکّہ
یہ ملتی ہے دل میں کسی کے اُتر کے
مِلا کرتی ہے منزلِ شوق دل کی
ہزاروں کٹھن امتحاں سے گزر کے
معین اس محبّت کی بازی میں دیکھا
ہیں گھائل سبھی یاں تِری ہی نظر کے
برستی ہیں قلم سے اُن کے، بارش کی طرح غزلیں
اِسی کارن وہ بزمِ شعر میں یوں تن کے بیٹھے ہیں
بھلا اب اُن کی استادی پہ کس کافر کو شک ہوگا
کہ حضرت رات بھر میں سات غزلیں جَن کے بیٹھے ہیں
( مرزا عاصی اختر، سیٹلائٹ ٹاؤن، میرپورخاص)