ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دے دیا۔
کراچی کے علاقے کورنگی میں رابطہ مہم سے خطاب میں مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک کی بقاء اور بہتر انتظامی نظام کے لیے نئے یونٹس بنانا ناگزیر ہے، 6 ہفتے بعد شارع فیصل پر ہر زبان بولنے والا اپنے انتظامی یونٹ کے مطالبے کے لیے نکلے گا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں کراچی کے نوجوانوں کے حقوق مارے جا رہے ہیں اور جعلی ڈومیسائل کے ذریعے شہری کوٹے پر بھی حق تلفی کی جا رہی ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ 18 سال میں سندھ کو 22 ہزار ارب روپے ملے، 22 ہزار ارب روپے اتنے ہوتے ہیں کہ 50 بار سندھ کو بلڈوز کر دیں اور پھر بنا لیں، یہ رقم صوبے کی ترقی پر خرچ ہوتی تو سندھ کی صورت بدل سکتی تھی۔
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ پورے صوبے میں 80 فیصد پینے کا صاف پانی نہیں، کراچی میں پینے کا صاف پانی نہیں، ٹینکر کہاں سے پانی لے کر آ رہے ہیں؟ افغانستان سے لا رہے ہیں؟ ہیروئن بیچنے والوں نے کاروبار بند کر کے ٹینکر کا کام شروع کر دیا ہے، ہیروئن کے کاروبار میں لوگ پکڑے جاتے تھے، ٹینکر کا کام کر کے سینیٹر بن جاتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جن کے ہاتھوں میں پانی فراہم کرنا ہے، وہی ٹینکر چلا رہے ہیں، اب بھی ہم بچوں کو کتوں کے کاٹنے سے نہیں بچا سکتے، ہم اب بھی بچوں کو گٹر میں گرنے سے نہیں بچا سکتے۔