دانیال حسن چغتائی، کہروڑپکا، لودھراں
استاد احمد رضا لکڑی پرکندہ کاری کا گویا آخری تاج دار تھا۔ وہ اپنے کام کو فن، پیشے یا ہنر کے بجائے عبادت سمجھ کر کرتا تھا اور شاید اسی وجہ سے لوگ بھی آج تک اُس پر بھرپور اعتماد کرتے تھے۔ دکان کے باہر لگی لکڑی کی تختی پر اُس کے والد کے ہاتھ سے لکھا ایک جملہ وقت کی گرد کے باوجود اپنی جگہ نقش تھا۔ ’’اپنے ہنر میں ایسے طاق ہو جاؤ کہ دنیا تمہیں نظرانداز کرنے کی جرات نہ کرسکے!‘‘ احمد رضا نے بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے تک کا سفر اِسی جملے کی چھاؤں میں طے کیا تھا۔
اُس کے پاس شیشم، ساگوان اور اخروٹ کی لکڑیاں خام حالت میں آتی تھیں اور جب کندہ کاری کے بعد باہر نکلتیں تو لوگ حیرت سے ٹکٹکی لگا کے دیکھتے تھے۔ استاد جب اپنی چھینی اور ہتھوڑی اُٹھاتا، تو لکڑی کا ریشہ ریشہ اس کے سامنے ہاتھ باندھے محسوس ہوتا۔
وہ اکثر اپنے شاگرد، ارشاد سے کہتا۔ ’’ارشاد! سطحی اور اوسط درجے کا کام کرنا اپنے خداداد ٹیلنٹ کی توہین ہے۔ اگر تم نے دنیا میں گزارہ کرنے کےلیے ہاتھ چلانا ہے، تو یہ تیشہ یہیں رکھ دو اور کوئی دوسرا دھندا پکڑ لو۔ ہنر وہ ہے، جو دیکھنے والے کی آنکھیں چھین لے اور اُسے یہ ماننے پر مجبور کر دے کہ اس کے پیچھے جنون کارفرما تھا۔‘‘
ارشاد بیس اکیس سال کا ایک چُست اور قدرے جلد باز لڑکا تھا۔ وہ اپنے استاد کی عزت تو کرتا تھا، لیکن جدید دَور کی تیزرفتاری کا بھی قائل تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ آج کے دَور میں کوالٹی سے زیادہ مقدار کی اہمیت ہے۔ لوگ سستا اورجلدی بننے والا مال مانگتے ہیں، تو اتنی باریکی میں جانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ایک دن علاقے کے رئیسِ اعظم سیٹھ مختار، کارگاہ پر آئے۔ وہ اپنے نئے لگژری ہوٹل کے مرکزی ہال کے لیے ایک بہت بڑا اور شاہ کار لکڑی کا دروازہ بنوانا چاہتے تھے۔
انہوں نے بہت بڑی رقم کا ایڈوانس میز پررکھتے ہوئے کہا۔ ’’استاد رضا! مجھے یہ دروازہ پندرہ دن کے اندر چاہیے اور کام ایسا ہو کہ بس لوگ دیکھتے رہ جائیں۔‘‘ استاد نے رقم دیکھے بغیر عینک درست کی اور پُرسکون لہجے میں جواب دیا۔ ’’سیٹھ صاحب! کام ایسا ہی ہوگا کہ دنیا نظرانداز نہیں کر سکے گی، لیکن پندرہ دن میں اوسط درجےکا فرنیچر بنتا ہے، شاہ کار نہیں۔
اس دروازے کی تیاری میں کم ازکم تین ماہ لگیں گے۔‘‘ سیٹھ مختار پریشان ہوگئے۔ ’’تین ماہ؟ استاد! آج کل مشینیں چند گھنٹوں میں یہ کام کردیتی ہیں!‘‘ احمد رضا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ ’’تو پھر آپ مشینوں والوں کے پاس ہی چلے جائیے۔ مشین لکڑی کاٹ سکتی، پھول بوٹے بنا سکتی ہے سیٹھ صاحب، لیکن اس میں رُوح نہیں پھونک سکتی۔ میری چھینی کی ہر ضرب لکڑی کے دل کی دھڑکن بنتی ہے۔‘‘ سیٹھ مختار، استاد کے تیور دیکھ کر نرم پڑ گئے اور تین ماہ کی مہلت دے کر چل دئیے۔
اگلے ہی دن سے استاد ایک نئے رُوپ میں نظر آیا۔ اُس نے تو جیسے دنیا و مافیہا سے رشتہ ہی توڑ لیا تھا۔ وہ روز صُبح فجر کے بعد کارگاہ کا شٹر گرا دیتا اور رات گئے تک اندر کڑی محنت میں جُٹا رہتا۔ ارشاد نے دیکھا کہ استاد روزانہ اپنے پرانے اوزار گِھستا، اُنہیں تیز کرتا اور کہتا۔ ’’ہر روز اپنے ہنر کو گڑھو، اسے نکھارو اور اس کی آخری حد تک جاؤ۔ اگر تمہارا آج کا کام تمہارے کل کے کام جیسا ہی ہے، تو تم ہنرمند نہیں، مزدور ہو۔
مزدور تو بہت سے ہوتے ہیں، لیکن دنیا صرف اُن کو یاد رکھتی ہے، جو کوئی منفرد کام کرکے دکھاتے ہیں۔‘‘ دروازے پر بیل بوٹوں کا کام شروع ہوا۔ استاد نے لکڑی کے اوپر پرندے اور پھول تراشنا شروع کیے، جو لکڑی کے اندر سے اُبھرتے ہوئے محسوس ہوتے تھے۔ ایک ایک پتّے کی رگ واضح کرنے کے لیے وہ گھنٹوں باریک سوئی نما چاقو سے کام کرتا۔ اُس کی انگلیاں زخمی ہوجاتیں، بوڑھی کمر جواب دینےلگتی لیکن اس نے جو کام اپنے ذمّے لے لیا تھا، اُسے مکمل کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھ سکتا تھا۔
دو ماہ گزرچُکے تھے۔ ارشاد نے دیکھا کہ استاد رضا بنے ہوئے مور کے پروں کو دوبارہ چھینی سے کاٹ کرصاف کر رہا ہے۔ ارشاد سے رہا نہ گیا، بول اُٹھا۔ ’’استاد جی! یہ آپ کیا کررہے ہیں؟ یہ مور تو پہلے ہی اتنا خُوب صُورت لگ رہا تھا کہ مَیں نے زندگی میں ایسا کام نہیں دیکھا۔ آپ اپنی جان کیوں ہلکان کر رہے ہیں، گاہک کو اس باریکی کا کبھی پتا بھی نہیں چلے گا!‘‘استاد رضا نے چھینی روکی۔
اُس کے چہرے پر کافی تھکن تھی، لیکن لہجہ فولاد کی طرح مضبوط تھا۔ ’’ارشاد! گاہک کو پتا چلے نہ چلے، خدا کو تو پتا ہے۔ اور پھر مجھے خُود پتا ہےکہ مَیں اس سے بہتر کر سکتا ہوں۔ جب تک انسان اپنے ہنر کی آخری حد تک نہ جائے، اُسے چین سےنہیں بیٹھنا چاہیے۔ یہ جو تم اوسط درجے کی سوچ رکھتے ہو ناں، یہ انسان کوعام بنا دیتی ہے اور مَیں عام مرنا نہیں چاہتا۔‘‘ ارشاد خاموش ہوگیا، لیکن اس کےاندر بھی استاد کے جنون نے ایک ہلچل مچا دی تھی۔
کام آخری مراحل میں تھا، جب استاد رضا کی طبیعت ناساز ہو گئی۔ مسلسل جاگنے اور لکڑی کےبرادے کے پھیپھڑوں میں جانے کے سبب اُسے شدید کھانسی اور بخار نے گھیر لیا تھا۔ ڈاکٹر نے مکمل آرام اور احتیاط کا مشورہ دیا، لیکن استاد کے سر پر اپنا کام مکمل کرنے کا جنون سوار تھا۔ دروازے کا چھوٹا سا حصّہ، نچلے کونے کا ایک حاشیہ باقی تھا۔ استاد سے ہتھوڑی تک اٹھائی نہیں جا رہی تھی۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اُس نے ارشاد کو پاس بلایا اور چھینی اس کے ہاتھ میں تھما دی۔ ’’ارشاد…! مَیں نے تمہیں برسوں کام سکھایا ہے، اب تمہارا امتحان ہے۔
اس حاشیے کو ایسے مکمل کرو کہ یہ باقی دروازے سے الگ نہ لگے۔ تم یہ بات بخوبی جانتے ہو کہ مَیں معیار پر کوئی سمجھوتا نہیں کرتا۔‘‘ارشاد نے کانپتے ہاتھوں سے اوزار پکڑے۔ ایک نظر استاد کی طرف دیکھا، جو بستر پر نیم دراز تھے، لیکن نظریں ارشاد کے ہاتھوں پرجمی تھیں۔ اُس نے سوچا، اگر آج اُس نے سُستی دکھائی، تو یہ اُس کے استاد کی عُمر بھر کی محنت کے ساتھ خیانت، اس کے اصولوں کی توہین ہوگی۔
اُس نے آنکھیں بند کیں، استاد کےالفاظ ذہن میں دہرائے۔ ’’فن کی آخری حد تک جاؤ۔‘‘ اور چھینی چلانی شروع کردی۔ وہ رات ارشاد کی زندگی کی سب سے طویل رات تھی۔ اس نے ایک ایک لکیر کو نکھارنے کے لیےاپنی ہمت سے بڑھ کر زور لگایا۔ بخار میں پُھنکتا استاد بیچ بیچ میں کھانستے ہوئے اُسے ہدایات بھی دیتا رہا۔ صُبح کی پہلی کرن نمودار ہوئی تو دروازہ مکمل ہوچُکا تھا۔ ساگوان کا وہ بہت بڑا دروازہ ایک زندہ داستان کی صُورت کھڑا تھا۔ لکڑی پر تراشے گئے پھولوں سے لگ رہا تھا، جیسےاُن سے ابھی خوشبو آنے لگےگی اور پرندے جیسے ابھی پَر پھڑپھڑا کر اُڑ جائیں گے۔
ٹھیک تین ماہ بعد سیٹھ مختار اپنے چند ایلیٹ کلاس دوستوں اور فن کے پارکھوں کے ساتھ کارگاہ پہنچے۔ اور جب دروازے سے کپڑا ہٹایا گیا، تو پوری کارگاہ میں ایک مہیب خاموشی چھا گئی۔ کسی کے منہ سے ایک لفظ نہ نکلا۔ سیٹھ مختار کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
اُن کے ساتھ آیا ہوا ایک نام وَر آرکیٹیکٹ آہستگی سے آگے بڑھا اور کانپتے ہاتھوں سے لکڑی کے ابھاروں کو ہاتھ لگا کے دھیمی آواز میں بولا۔ ’’یہ کسی انسان کا کام نہیں ہو سکتا… یہ عاشقِ شجرکا جنون ہے! مَیں نے یورپ اور ایشیا کے بڑے بڑے عجائب گھر دیکھے ہیں، لیکن لکڑی پر اتنا خُوب صُورت کام آج تک نہیں دیکھا۔‘‘ سیٹھ مختار نے استاد رضا کی طرف دیکھا، جو سخت نقاہت کے باوجود سیدھے کھڑے ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ اور طے شدہ رقم سے دگنے پیسے میز پررکھ کے، استاد کے سامنے سر جُھکا کر بولے۔ ’’استاد جی! مجھے معاف کردینا۔ مَیں آپ کے فن کو پیسوں، مشینوں سے تول رہا تھا، پر آج سمجھ آیا کہ جب ہنر اپنی آخری حد کو پہنچتا ہے، تو دنیا کی ہر دولت اس کے سامنے ہیچ ہوجاتی ہے۔ آپ بےمثل، اَن مول ہیں۔‘‘
سیٹھ مختار دروازہ لے کرچلے گئے۔ کارگاہ میں ایک بار پھر پُرسکون خاموشی لوٹ آئی۔ استاد رضا نے اپنے بوڑھے ہاتھوں سے ارشاد کا کاندھا تھپتھپایا کہ استاد نے نچلے کونے کے اُس حاشیے کودیکھا تھا، جسےارشاد نے تراشا تھا۔ اُس میں وہ مہارت تو شاید ابھی نہیں تھی، جو استاد کے ہاتھ پچاس سال کی ریاضت کے بعد آئی تھی، لیکن اُس میں بدنیتی کی بھی کوئی گنجائش نہیں تھی۔
آج استاد کو ارشاد کے کام میں جنون کی وہی جھلک دکھائی دی، جو خُود استاد رضا کی پہچان تھی۔ ’’تم نے دیکھا ارشاد؟‘‘ استاد نے دکان کے باہر لگی پرانی تختی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’جب تم اپنے کام میں ماہر ہوجاتے ہو، تو دنیا کی جرات نہیں ہوتی کہ وہ تمہیں نظرانداز کرے۔ آج دنیا تمہارے ہنر کے سامنے گُھٹنوں کے بل بیٹھی تھی۔‘‘ ارشاد کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ آج اُس کا سر فخر سے بلند تھا۔
اُس نے اپنے اوزار اٹھائے، انہیں پیار سے صاف کیا اور دل میں عہد کیا کہ اب سے اس کی زندگی کا صرف ایک ہی مقصد ہوگا۔ اپنے ہنر کو روز گھڑنا، نکھارنا اور ہمیشہ آخری حد تک جانا تاکہ جس طرح لوگ آج اس کے استاد کو اپنے ہنر کے عاشقِ صادق کے طور پر مانتے ہیں، کل اُسے بھی ماننے لگیں۔
ناقابلِ اشاعت نگارشات وران کے تخلیق کار برائے صفحہ ’’ڈائجسٹ‘‘
٭ متاعِ جاں، مددگار (روزینہ خورشید) ٭ خمارِگندم (جاوید جواد حسین، گلشن اقبال ٹاؤن، کراچی) ٭ اعتبار کی قیمت (عبدالرشید سولنگی) ٭ بیٹیاں، کہاں کھوگئی (ثناء توفیق خان، ماڈل کالونی، کراچی) ٭ گم شدہ، بکھرا بچپن، آخری خط، یومِ آزادی، سو لفظوں کی کہانی (صبا احمد، کراچی) ٭ والد کے نام پیغام (شری مُرلی چند گوپی چند گھوگھلیہ، شکارپور) ٭ تپتے راستے کا میٹھا آم، تلاشنا ہے وطن کو (منیبہ مختار اعوان) ٭ آزمائش (طوبیٰ احسن، لاہور) ٭ فطرت (زاہد حفیظ شیخ، لاہور) ٭ ہری ڈالی کا نوحہ (رانا محمّد شاہد، بورےوالا) ٭ بدرگاہ قاضی الحاجات، اقوال (محمّد صفدرخان ساغر، راہولی، گوجرانوالہ) ٭ شفق کا گواہ (شگفتہ جہاں، لالہ زار، کراچی) ٭جنگل میں آگ، متفرق (قاسم عباس، ٹورنٹو، کینیڈا)۔
ناقابلِ اشاعت کلام اور اُن کے تخلیق کار
نعتِ رسول مقبولؐ (فیصل کانپوری) ٭مَیں کون ہوں؟ (ارم فاطمہ سڈنی، آسٹریلیا) ٭تم سُکوں سے ہو (جمیل ادیب سیّد، کراچی) ٭قطعہ (سید ذوالفقار حسین نقوی، نیو رضویہ سوسائٹی، کراچی) ٭کھانوں کا ٹھیلا، عشق (صبا احمد، کراچی) ٭مٹی کی کہانی (خیرالنساء بلوچ)۔