ضیاء الحسن، مظفرگڑھ
اس شہر کا نام تاریخ کے کسی ورق پر درج نہ تھا۔ شاید اس لیے کہ وہاں تاریخ لکھی نہیں، مٹائی جاتی تھی۔ وہاں کا آفتاب ہمیشہ نصف النہار پر جم جاتا۔ نہ رات ڈھلتی، نہ دن نکلتا۔ ایک عجیب سا حبس تھا، جس میں ضمیر کی سڑاند،جلے ہوئے خوابوں کا دھواں رچا بسا تھا۔ خُود شہر کے باسیوں کا دستور بھی انوکھا تھا۔ وہ شہر کی بنیاد رکھنے اور ان بنیادوں کو مضبوط کرنے والوں کو قابل اعتنا نہ گردانتے، مگر اس کے درو دیوار پر رنگ و روغن کرنے والوں کو مسندِ اعلیٰ پر بٹھایا کرتے۔
شہر کے ایک کونے میں ایک بوڑھے کیمیا گر نے ڈیرا جما رکھا تھا۔ اُس نے اپنی عُمر کے پچاس برس دھاتیں پگھلانے، کیمیا گری کے جوہر دکھانے اور شہرکی حفاظت کے لیے اَن دیکھی خندقیں بنانے میں صرف کردیئے تھے۔ اُس کی انگلیاں تیزاب اور شورے کی بُو سے جھلس چُکی تھیں۔ اُس کی آنکھوں کی بینائی اس لوہے کو پگھلا کر’’حفاظتی ڈھال‘‘ بناتے دھندلا گئی تھی، جس لوہے سے باہر کی دنیا کے قزّاق خوف کھاتے تھے۔
اس کی داڑھی کے سفید بال اس کی شبانہ روز ریاضت، جان کاہ مشقّت کی گواہی دیتے تھے۔ اُس کا دعویٰ تھا۔ ’’مَیں نے اس شہر کے چاروں طرف ایسی خندقیں کھود دی ہیں کہ باہر کا کوئی قزّاق تمھارے مال پر ڈاکا نہیں ڈال سکتا۔‘‘ اس دعوے کے تھوڑے ہی عرصے بعد، حاکمِ شہر چند سپاہیوں کے ساتھ اس کی دہلیز پر آن دھمکا۔ اس کے بنائے ہوئے نسخے چھین لیے گئے، کتب خانہ نذرِ آتش کر دیااور تجربہ گاہ کو بھی مسمار کردیا گیا۔
شہر میں یہ افواہ پھیلا دی گئی کہ ’’یہ شخص غدّار ہے! یہ باہر کے قزّاقوں کا جاسوس ہے، جس نے شہر کے سادہ لوح عوام کو دھوکا دیا ہے۔‘‘سزا کے طور پر اسے ایک تنگ و تاریک کوٹھری میں بند کر دیا گیا۔ وہ بوڑھا کیمیا گر اس سلگتی ہوئی کوٹھری کی شکن آلود دیواروں سے سر لگائے اپنے حق کے لیے آواز اُٹھاتا رہا۔
شہر کے لوگ اس کی کٹیا کے پاس سے گزرتے، مگر کوئی بھی اس کی صدا پر کان نہ دھرتا۔ جب اُس کی سانس اکھڑنے لگی اور اسے اپنی موت کا یقین ہوگیا تو اس نے شہر کے باسیوں کے نام ایک آخری خط لکھنا چاہا۔ مگر بےبسی نے اس کے لرزتے ہاتھوں سے قلم ڈگمگا دیا۔ وہ کاغذ پر ایک لفظ بھی نہ اتار پایا، اور مفلوج انگلیوں کے ساتھ خاموشی سے ابدی نیند سوگیا۔
اُس کی موت کی خبر نے قاضی کو مسرور کردیا۔ اُس نے شہر بھر میں اعلان کیا۔ ’’ہم نے آج ہم نے ایک خطرناک سائے سے نجات حاصل کرلی۔‘‘ کیمیا گر کے جنازے کی دھول ابھی بیٹھی بھی نہ تھی کہ اس شہرِ بے حس میں ایک اور تماشا سجا لیا گیا۔ شہر کے وسطی میدان میں نئے سال کے آغاز پر ایک شان دار تقریب کا اہتمام کیا گیا، جہاں دُور دُراز شہروں سے آئے نام وَر شہ زوروں میں دوڑ کا ایک کڑا معرکہ برپا ہوا اور آخرکار اسی شہر کے ایک توانا جوان نے حریفوں کو پچھاڑ کر میدان مار لیا۔
’’واہ! شان دار…‘‘ہجوم کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ لوگوں نے فاتح نوجوان کو کاندھوں پر اٹھا لیا۔ قاضیِ شہر آگے بڑھا اور فتح کا ہار اس کے گلے میں ڈال دیا۔ اس کے گلے میں پھولوں کا ہار سجتے ہی بھوکے پیٹ بچّے جن کی کھال ہڈیوں سے چپک چُکی تھی فتح کے سرور میں رقص کرنے لگے۔
تماشائیوں کا شور آسمان چھونے لگا۔ اس شور ہنگامے سے چند گز کے فاصلے پر کیمیا گر کی ویران کٹیا پر اب گہرا سناٹا راج کر رہا تھا۔ وہ مٹی جوکبھی فصیلیں جوڑتی تھی، اب تماشائیوں کے قدموں تلے روندی جا رہی تھی۔ قاضی کے نعرے اور ہجوم کے قہقہے اس شہر کے باسیوں کے گالوں پر آخری طمانچا تھے۔ جہاں اپنے محسنوں کو بُھلائے، نان شبینہ کو ترستے لوگ دوسروں کے پھیلائے جال میں بخوشی پھنسنے کو تیار بیٹھے تھے۔
جشن کا شور تادیر گونجتا رہا اور بھنگڑا ڈالتی ٹانگوں کی اڑائی دھول میں، سورج کا وہ ٹکڑا بھی ہمیشہ کے لیے غائب ہوگیا، جو مدتوں سے نصفالنہار پر جمود کا شکار تھا۔