جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو جمہوریت پر شب خون قرار دے دیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ جمہوریت پر شب خون ہے، ہم عوام سے رابطہ کریں گے، پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپنا کردار ادا کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مجھے وزیراعظم نے فون کیا، رات کے کھانے کی دعوت دی، ہم نے جانے کا فیصلہ کیا اور گئے بھی، حکومت کا مطالبہ تھا کہ پہلے لانگ مارچ ختم کیا جائے، پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا کہ پہلے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائی جائے۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ یہ معاملات ان دونوں کے درمیان تھے، جب ہم ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں تو کچھ چیزیں ثالث کے حوالے کردی جاتی ہیں، میں نے وزیراعظم سے کہا کہ میں پہلے پی ٹی آئی سے بات کرلوں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں نے سہیل آفریدی، بیرسٹر گوہر، شہرام ترکئی اور اسد قیصر سے بات کی، انہوں نے کہا، ’ہمارے مطالبات تسلیم ہوتے ہیں تو لانگ مارچ ختم کرنے کیلئے تیار ہیں۔‘