عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی بین الاقوامی ایجنسی برائے تحقیقِ سرطان (IARC) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2024ء میں سامنے آنے والے کینسر کے نئے کیسز میں سے تقریباً 12 فیصد کا تعلق 12 مختلف انفیکشنز سے تھا۔
ماہرین کے مطابق مذکورہ نتائج ویکسینیشن، بر وقت علاج اور کینسر سے بچاؤ کے اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
طبی جریدے ’دی لینسیٹ آنکولوجی‘ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں جائزہ لیا گیا ہے کہ مخصوص بیکٹیریا اور وائرس دنیا بھر میں کینسر کی نشو و نما میں کس طرح کردار ادا کرتے ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مخصوص انفیکشنز کی روک تھام اور علاج کے ذریعے کینسر کی متعدد اقسام کے مجموعی بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) کا تعلق کینسر کے تقریباً 4 فیصد نئے کیسز سے پایا گیا، جن میں زیادہ تر سروائیکل کینسر اور سر و گردن کے بعض سرطان شامل ہیں۔
اسی طرح معدے کو متاثر کرنے والے بیکٹیریا ہیلیکوبیکٹر پائلوری (H. pylori) کو بھی کینسر کی تقریباً 4 فیصد نئی تشخیص بالخصوص معدے کے سرطان سے منسلک کیا گیا، اسی طرح ہیپاٹائٹس بی اور ہیپاٹائٹس سی کے انفیکشنز کا تعلق جگر کے سرطان سے پایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ہیپاٹائٹس بی کینسر کے تقریباً 2 فیصد نئے کیسز، جبکہ ہیپاٹائٹس سی ایک فیصد سے کم کیسز سے وابستہ تھا۔
ایپسٹین بار وائرس (EBV) جو دنیا کی 90 فیصد سے زائد آبادی کو متاثر کرتا ہے، کینسر کی تقریباً 1 فیصد نئی تشخیص سے منسلک پایا گیا، ان میں لمفوما (لمفی نظام کا سرطان) اور معدے کے سرطان کی بعض اقسام شامل ہیں۔
سائنس دانوں نے واضح کیا ہے کہ کسی شخص میں انفیکشن کی موجودگی کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ اسے کینسر بھی ہو جائے گا، کینسر کا خطرہ مختلف عوامل پر منحصر ہوتا ہے، جبکہ انفیکشن سے منسلک سرطان کی علامات یا تشخیص سامنے آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کینسر سے بچاؤ کے لیے احتیاطی اقدامات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، ایچ پی وی اور ہیپاٹائٹس بی کی ویکسینز ایسے انفیکشنز سے تحفظ فراہم کر سکتی ہیں جو کینسر کا سبب بن سکتے ہیں، جبکہ اینٹی بایوٹکس کے ذریعے ہیلیکوبیکٹر پائلوری کا خاتمہ کر کے معدے کے سرطان کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ایچ آئی وی کا مؤثر علاج مدافعتی نظام کی کمزوری سے وابستہ کینسر کے خطرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، تاہم رپورٹ میں شناخت کیے گئے تمام انفیکشنز کے لیے فی الحال ویکسین دستیاب نہیں۔
محققین ایپسٹین بار وائرس کے خلاف ممکنہ ویکسینز پر تحقیق کر رہے ہیں، جبکہ متعدد ویکسینز تیاری یا طبی آزمائشوں کے مراحل میں ہیں۔
سائنس دانوں کو امید ہے کہ ان نتائج سے ویکسینز، علاج اور احتیاطی حکمتِ عملیوں پر مزید سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو گی، جس سے دنیا بھر میں انفیکشنز سے منسلک کینسر کے کیسز کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔