ایلون مسک کی جانب سے متعارف کرائی گئی اڑنے والی ٹیسلا روڈسٹر گاڑی اصل ہے یا نہیں اس حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی۔
مصنوعی ذہانت کے معروف سائنس دان یان لیکون نے حساب کتاب کی بنیاد پر سوال اٹھایا ہے کہ آیا یہ گاڑی چند سیکنڈ سے زیادہ دیر تک فضا میں رہ سکتی ہے یا نہیں۔
یان لیکون نے یہ سوالات 15 اکتوبر کو ٹیکساس میں اسپیس ایکس کی تنصیب پر ٹیسلا روڈسٹر کے مظاہرے کے بعد اٹھائے۔
مظاہرے کے دوران گاڑی کو الٹی حالت میں چلتے، فضا میں قلابازیاں لگاتے اور کمپریسڈ ایئر تھرسٹرز کی مدد سے دوبارہ پہیوں پر اترتے دکھایا گیا ہے۔
یان لیکون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں اندازہ ظاہر کیا ہے کہ اگر گاڑی کے نصف وزن کے برابر حصہ کمپریسڈ ایئر پر مشتمل ہو تب بھی یہ نظام 5 سے 10 سیکنڈ تک ہی مؤثر قوت فراہم کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مظاہرے میں استعمال ہونے والی گاڑی ممکنہ طور پر ایک ہلکا خول ہو سکتی ہے جس میں کمپریسڈ ایئر کے بڑے ٹینک نصب ہوں، نہ کہ عام مسافروں کے لیے تیار کی گئی عملی گاڑی۔
ایلون مسک نے اس حساب کتاب کا براہِ راست جواب دینے کے بجائے مزاحیہ انداز اپنایا، جس پر یان لیکون نے بھی طنزیہ ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
سائنس دان نے گاڑی کے نظام کا موازنہ ہائی پریشر گیس کے محض 3 سیکنڈ کے اخراج سے کیا ہے اور 600 لیٹر کے ایسے ٹینک کی مثال دی ہے جو 700 بار دباؤ پر کام کرتا ہو۔
اس حساب کتاب سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ٹیسلا کا مظاہرہ جعلی تھا، اس تقریب کو براہِ راست نشر کیا گیا اور وہاں موجود افراد نے بھی اسے دیکھا، جبکہ آزادانہ طور پر بنائی گئی ویڈیوز بھی اس مظاہرے کی تصدیق کرتی ہیں۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ ٹیسلا اس ٹیکنالوجی کو ایسی گاڑی میں تبدیل کر سکے گی یا نہیں جو مسلسل پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
روڈسٹر کے مظاہرے میں مختصر فضائی کرتب دکھائے گئے تھے، البتہ طویل فاصلے تک معمول کی پرواز نہیں دکھائی گئی۔
ٹیسلا نے 2028ء میں اس گاڑی کی پیداوار شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم اڑنے والے ماڈل کو عوامی سڑکوں پر استعمال کرنے کی منظوری نہیں ملی ہے۔
