آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
قرآن کریم میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ ’’جنگ کیلئے اپنے گھوڑے تیار رکھو‘‘۔ آئی ایس آئی ‘جسے پاکستان کی دفاعی افواج کا ہراول دستہ کہئے یا اس کے کان اور آنکھیں قرار دیجئے‘ جو دشمن کی ہر آہٹ کو سنتی اور چھوٹی سے چھوٹی حرکت پر نظر رکھتی ہے۔ پاکستان کے مالی وسائل اور افرادی قوت اپنے دشمنوں کے مقابلے میں خاصے محدود ہیں، نزدیک ترین حریف بھی تنہا‘ آبادی‘ رقبے اور وسائل میں چھ گنا زیادہ ہے۔ پھر دنیا بھر میں ہمارے حاسدین کا تعاون ان کی قوت میں اضافہ کرتا رہتا ہے لیکن خفیہ ایجنسی ’’آئی ایس آئی‘‘ نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت‘ خلوص نیت اور جذبہ حب الوطنی کے سہارے ان سب کی ریشہ دوانیوں کا کامیابی سے مقابلہ کرتے ہوئے‘ ان کی سازشوں کو بے نقاب اور کوششوںکو بے اثر بنا دیا۔ امریکہ جو دنیا کی واحد سپر پاور خیال کیا جاتا ہے اس کے ذرائع ابلاغ کا ایک بڑا حصہ پاکستان کی مخالفت میں پیش پیش رہتا ہے۔ ان میں زیادہ مشہور ہفت روزہ ’’نیو زویک‘‘ بھی ہے جو کثیرالاشاعت اور دنیا بھر میں سب سے زیادہ اور شوق سے پڑھا جانے والا ’’میگزین‘‘ ہے ۔ اس نے کچھ عرصہ پہلے اپنی ٹائٹل اسٹوری میں دنیا بھر کی دس بڑی خفیہ ایجنسیوں کے بارے میں تبصرہ کیا ہے جن میں امریکہ کی سی آئی اے‘ روس کی کے جی بی‘ برطانیہ کی ایم آئی 6‘اسرائیل

کی موساد‘ انڈیا کی را‘ جرمنی‘ چین‘ جاپان کے علاوہ پاکستان کی آئی ایس آئی بھی شامل ہے۔ ان میںا یسی خفیہ ایجنسیاں بھی ہیں جن کا بجٹ پاکستان کے قومی بجٹ سے بھی کئی گنا ہے لیکن ان کا تجزیہ پاکستانیوں کیلئے باعث اطمینان اور آئی ایس آئی کیلئے قابل فخر ہے۔ ’’نیوز ویک‘‘ کے تجزیہ کار لکھتے ہیں کہ دنیا بھر کی بھاری بھرکم دولت و وسائل کی کثرت رکھنے والی ایجنسیوں کو پاکستان کی چھوٹی‘ کم وسیلہ آئی ایس آئی نے دھول چٹا دی ہے۔ آئی ایس آئی اپنی تھوڑی تعداد اور کم وسائل کے باوجود‘ تربیت‘ چابک دستی اور پیشہ ورانہ مہارت کی وجہ سے بلاشبہ پوری دنیا میں نمبر ایک خفیہ ایجنسی قرار دی جا سکتی ہے۔ اس نے اپنے ملک کے دفاع میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے۔ افغانستان پر روسی حملے کے بعد پاکستان کو دو طرفہ خطرے سے محفوظ رکھنا‘ امریکہ کو افغانستان میں براہ راست مداخلت سے روک دینا‘ اس دوران پاکستان کی ایٹمی قوت بننے میں مدد کرنا‘ روس جیسی بے رحم قوت کو پاکستانی سرحدوں کی ہمسائیگی سے دور رکھنا‘ اس کی اعلیٰ مثالیں ہیں۔ یہ ایجنسی دنیا بھر میں اپنے دشمنوں پر نظر رکھتے ہوئے اپنے عزائم کی بھنک تک نہیں پڑنے دیتی۔
برس دو برس ہوتے ہیں‘امریکہ کی صحافی نے جسے پاکستان کے بحری جنگی جہاز میں رہنے اور نیوی کے جوانوں کو پیشہ ورانہ امور نمٹاتے دیکھنے کا موقع ملا‘ اس نے اعتراف کیا ہے کہ یہ ’’منی سی نیوی‘‘ جو اپنے قریبی حریف کا دسواں حصہ ہے‘ اور بڑی طاقتوں کے مقابلے میںشاید قابل ذکر بھی نہ ہو لیکن ان کے جوانوں کی پھرتی‘ مہارت‘ جذبہ اور لگن اس قدر متاثر کن ہے کہ بڑی طاقتور سمندری طاقتیں اس کے مقابلے میں محض گوشت کا پہاڑ نظر آتی ہیں۔ بلاشبہ یہ چھوٹی سی نیوی‘ اپنے ساحلوں کے دفاع کے ساتھ‘ دشمن کے سمندری علاقے میں گھس کر انہیں نقصان پہنچانے اور بڑے بڑے دیوہیکل جہازوں کو غرق کرنے میں بڑی چست ہے۔ اب تو اس کی ایٹمی آبدوزیں طویل عرصے تک گہرے پانیوں میں چھپے رہنے اور دشمن کو ایٹمی میزائلوں کا نشانہ بنانے کے قابل بنا دی گئی ہیں۔
1990ء کی دہائی میں ایئر فورس ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں ’’سینیٹ‘‘ کی دفاعی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے ایئرفورس کے سربراہ نے بتایا تھا کہ ’’پاکستان کی فضائی افواج کے مقابلے میں دشمن ایئرفورس کی تعداد اور اسلحہ کی مقدار تین گنا ہے‘ پاکستان کے ایک جنگی جہاز کو تین دشمن جہازوں کا سامنا کرنا ہوتا ہے ‘ جن کی اکثریت روسی اور فرانسیسی ساختہ ہے۔‘‘ سوال کیا گیا ہم اتنے بڑے فضائی بیڑے کا مقابلہ کس طرح کرتے ہیں؟ ایئر فورس کے سربراہ نے کہا کہ ’’جنگ کے دوران مخصوص فضا دستیاب ہوتی ہے‘ جس میں طیاروں کی محدود تعداد اڑ سکتی ہے‘ سارے طیارے بیک وقت میدان جنگ میں نہیں اتارے جاتے‘ جتنے طیارے اس فضا میں بھارت اڑا سکتا ہے تقریباً اتنے ہی جہاز ہم بھی میدان میں لے آتے ہیں۔ ہمار ے پائلٹس کی مہارت اور تربیت دشمن سے کہیں بہتر ہے‘ ہم جہازوں کے مقابلے میں ان کو اڑانے والے جنگجو پائلٹ تعداد میں تین گنا رکھتے ہیں۔ اس طرح دشمن دن میں ایک جہاز کو ایک مرتبہ فضا میں لے جائے تو ہم اس جہاز کو تازہ دم پائلٹ کے ذریعے بار بار فضا میں بھیج سکتے ہیں‘ یوں ہم ان کی اکثریت کو بے اثر کر دیتے ہیں۔ اس وجہ سے جہازوں کی قلت ہمارے لئے پریشانی پیدا نہیں کرتی‘ جوانوں کا جذبہ اور مہارت اس کے سوا ہے۔ یہ کیفیت آج سے برسوں پہلے کی ہے۔ چند دن پہلے انڈیا کی ایئرفورس کے کمانڈر انچیف اپنے ملک کی قیادت کو ایئرفورس کی تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دے رہے تھے۔ اب انڈین ایئرفورس کے سربراہ کی سنئے‘ وہ کہتے ہیں ’’شروع دن سے پاکستانی ایئرفورس کے مقابلے میں‘ انڈین ایئرفورس کے طیاروں کی تعداد ایک کے مقابلے میں 2.6تھی یعنی ڈھائی سے تین گنا۔ ہمارے طیاروں کی کوالٹی بھی بہتر ہوا کرتی تھی‘ آہستہ آہستہ پاکستان نے اپنی ایئرفورس کو بہتر کرنا شروع کر دیا‘ امریکہ سے جہاز ملنا بند ہوئے تو چین کے تعاون سے جہاز بنانے کا کام شروع کیا۔ آج 2015ء میں پاکستان کی ایئرفورس کی طاقت اتنی بڑھ گئی ہے کہ اب پاکستانی ایک جہاز کے مقابلے میں ہماری برتری1.6 رہ گئی ہے‘ جو اگلے چار سال میں ایک کے مقابلے میں 1.2 رہ جائے گی یعنی ہماری اور ان کے جنگی جہازوں کی تعداد تقریباً برابر ہو جائے گی۔ چین سے جنگی تعاون اور ان کے جنگی جہازوں میں یکسانیت کی وجہ سے جنگ کی صورت میں انہیں بڑی سہولت ہو جائے گی۔
اس لئے مستقبل قریب میں جہاں تک فضائی جنگ کا تعلق ہے تو پاکستان کے مقابلے میں ہماری برتری ختم ہو چکی ہے ‘ ہمیں فوری طور پر آنے والے خطرے سے نمٹنے کیلئے جنگی بنیادوں پر کچھ کرنا ہوگا۔‘‘ یہ واویلا کسی دل جلے اور انتہا پسند صحافی کا نہیں بلکہ بھارتی ایئرفورس کے سربراہ کا ہے۔چند دن پہلے نومبر 2015ء کے آخری عشرے میں انڈیا کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘‘ کے سابق سربراہ ’’ایس کے دلت‘‘ نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ’’دنیا بھر میں آئی ایس آئی سب سے زیادہ طاقتور تنظیم ہے‘ کیونکہ وہ زیادہ ہی گمنام ہے‘ پاکستان کی ایجنسی کے علاوہ روس کی خفیہ تنظیم ’’کے جی بی‘‘ کا نام آتا تھا لیکن اب وہ موجود نہیں۔‘‘ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے ’’را‘‘ کے سابق سربراہ نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ’’انڈیا کی ایجنسی ’’را‘‘ کے پاس تکنیکی صلاحیتوں کی شدید کمی ہے۔‘‘
اس سال اکتوبر کے آخری ہفتے میں برطانیہ میں منعقد ہونے والے ایک سو ملکوں کی افواج کے درمیان ہونے والے مقابلے میں پاکستان نے ایک مرتبہ پھر پہلی پوزیشن حاصل کر کے گولڈ میڈل جیت لیا۔ یہ پاکستان کی مسلسل تیسری کامیابی ہے۔ یہ نامساعد حالات‘ مشکل موسمی صورتحال میں سخت جانی کا مقابلہ ہے‘ جسے دنیا بھر میں سب سے مشکل اور سخت ترین فوجی ’’ایکسرسائز‘‘ مانا جاتا ہے‘ جس میں پاکستان مسلسل پہلی پوزیشن حاصل کرتا چلا آرہا ہے۔ ہر پاکستانی کو اپنی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر فخر ہوناچاہئے پھر انڈیا میں شائع ہونے والا جریدہ ’’فورس نیوز میگزین‘‘ پہلے ہی اعتراف کر چکا ہے کہ ’’انڈیا کے پاس پاکستان کے مقابلے میں ہوائی جہاز‘ بحری جنگی جہاز‘ ٹینک‘ توپیں اگرچہ تعداد میں کہیں زیادہ ہیں لیکن یہ کثرت اسے پاکستان پر فتح نہیں دلا سکتی۔
جبکہ پاکستان کو تزویراتی سطح پر‘ کمانڈ‘ کنٹرول‘ افواج میں بہتر ہم آہنگی کی وجہ سے انڈیا پر نمایاں برتری حاصل ہے۔پاکستان کی فوج کو روایتی‘ غیرروایتی اور نیم روایتی جنگی محاذوں کے علاوہ منصوبہ بندی‘ حکمت عملی میں بھی انڈیا پر سبقت حاصل ہے۔ میدان جنگ میں استعمال ہونے والے چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں نے اسے ناقابل شکست بنا دیا ہے۔ دشمن کے اعتراف او رغیرجانبدار تجزیہ کاروں کی ماہرانہ رائے کے بعد ہم پاکستانی بجا طور پر اطمینان کا اظہار کر سکتے ہیں کہ ’’ہمارے گھوڑے تیاراور شہسوار ہر وقت چوکس ہیں۔ ‘‘
1987ء کی ’’براس ٹیکس ‘‘مشقوں میں پسپائی‘ حالیہ کولڈ اسٹارٹ دھمکیوں کی رسوائی کے بعد‘ انڈیا کے پاس کرکٹ کا میدان رہ گیا ہے جہاں یہ کھسیانی بلی ’’کھمبا‘‘ نوچ سکتی ہے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کا رویہ ’’اس بازار کی طرحدار اور طناز حرافہ کا ہے‘ جو سادہ لوح امیرزادے ‘ تماش بین کے جذبات سے کھیلتی رہتی ہے۔‘‘

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں