آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارتی آرمی چیف نے برملا اظہار کیا ہے کہ ایٹمی قوت جنگ سے باز رکھنے کی ضمانت نہیں ہے۔ بھارت کو چین اور پاکستان سے بیک وقت جنگ کیلئے تیار رہنا ہوگا۔ یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ بھارتی آرمی چیف نے اس قسم کا بیان دیا ہے۔ پاکستان کی طرف سے بھی جنگجویانہ بیانات سامنے آتے رہتے ہیں۔ لیکن چین بیانات جاری کرنے کی حد تک بہت محتاط رہتا ہے۔ چین کی پالیسی ہے کہ اپنا کام پورا کرو لیکن کوئی ایسی متنازع بات کرو نہ کام جس سے اسکی قومی ترقی کا سفر متاثر ہو یا پھر جس سے چین کی توجہ خواہ مخواہ ترقی کے سفر سے ہٹ جائے۔
چین کو اب ایک سپر پاور مان لیا جائے تو شاید زیادہ غلط نہ ہو گا۔ اسکی مثال بہت دلچسپ ہے کہ اس نے صرف چند عشروں میں ایک غریب ترین اور بے یارومددگار ملک سے سپر پاور اور امیر ترین ملک بننے کا سفر طے کیا ہے۔ چین ایک عرصے سے اپنی فوجی قوت کو تیزی سے بڑھا رہا ہے لیکن وہ کبھی دھمکی آمیز یا جنگجویانہ انداز نہیں اپناتا۔ موجودہ چین نے جب اپنے سفر کا آغاز کیا تو اسکی بنیاد فوجی کامیابیوں پر تھی۔ مائوزے تنگ کے منظر پر آنے سے قبل چین کو یورپی طاقتوں اور جاپان نے آپس میں بانٹا ہوا تھا۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی نے مائوزے تنگ کی قیادت میں ایک جنگی حکمت عملی سے ہی چین کو آزاد کرایا اور اپنی حکومت قائم کی لیکن اسکے بعد چین نے

عسکریت پسندی اور عسکریت کو اپنی قومی تعمیر کی بنیاد ہر گز نہیں بنایا۔ بلکہ اپنی تمام تر توجہ اپنی معیشت پر صرف کی اور معیشت کے ساتھ ساتھ اس نے ہر میدان میں خود انحصاری کی پالیسی اپنائی۔ اگر چین نے ان چند عشروں میں دنیا کی جدید ترین فوج کھڑی کی ہے تو وہ دوسروں سے جہاز اور ٹینک مانگ کر کھڑی نہیں کی۔ بلکہ دیگر شعبوں کی طرح چین نے عسکری شعبے میں بھی اپنے مقامی سائنسدانوں اور انجینئرز کو وہ ماحول فراہم کیا ہے کہ جدید ترین ہتھیار وہ خود بنانے کے قابل ہوئے۔ اور ایسا ماحول پیدا ہو ہی نہیں سکتا جب تک معیشت مضبوط نہ ہو۔ سو چین کی ترقی اور عسکری قوت کا راز اسکی معیشت میں مضمر ہے۔
چین کی طرح بھارت کی مثال بھی کم دلچسپ نہیں ہے۔ اس نے بھی چین کے ساتھ ہی اپنے سفر کا آغاز کیا۔ لیکن چین کے برعکس اسکی آزادی ایک سیاسی تحریک کا نتیجہ تھی جس کے نتیجے میں بغیر کسی جنگ کے تاج برطانیہ بھارت سے رخصت ہوا۔ سو قومی تعمیر کیلئے عسکریت کی بنیاد کا کوئی جواز ہی نہ تھا۔ گاندھی کو تو ہندو انتہا پسندوں نے مسلمانوں کا ہمدرد قرار دے کر قتل کر دیا۔ ہندوستان کی قیادت نہرو کے ہاتھ میں آئی تو اس نے بھی معیشت اور خودانحصاری کو قومی تعمیر کی بنیاد بنایا۔ جمہوریت، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی پر خصوصی توجہ دی۔ آج بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہا جاتا ہے۔ بھارت کی معیشت مضبوط ہے اور دنیا بھر کے سرمایہ دار بھارت کی طرف للچائی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ بھارت کی ایک ارب سے زیادہ کی آبادی والی منڈی نے دنیا بھر کے کاروباری لوگوں اور سیاستدانوں کیلئے بھارت کو ایک ایسا ملک بنا دیا ہے جسے ہر کوئی دوست بنانا چاہتا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں بھارت اگر دیگر بڑے ممالک کے برابر نہیں تو کم از کم انکے پیچھے پیچھے ضرور چل رہا ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں بھی وہ کسی سپر پاور کا کاسہ لیس نہیں بنا اور اس نے اپنی آزادی اور خود مختاری کو سنبھال کے رکھا۔ اور آج نہ صرف اسکے پاس جدید فوجی قوت موجود ہے بلکہ معیشت کے میدان میں بھی وہ دیگر بڑی قوتوں کے ساتھ ایک میز پر موجود نظر آتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ اسکے تعلقات اپنے عروج پر ہیں لیکن برکس، جی ٹونٹی، شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کی شکل میں دیگر ابھرتی معیشتوں کے ساتھ بھی وہ اچھے تعلقات قائم کئے ہوئے ہے۔ کوئی بھی اہم بین الاقوامی ایونٹ اور فورم ایسا نہیں جہاں بھارت کو اہم قوت کے طور پر عزت نہیں ملتی۔ اندرونی خلفشار کو دیکھا جائے تو اگرچہ مودی کی شکل میں مذہبی جنون در آیا ہے اور ہندو مذہبی تنظیموں کے پاس لاکھوں کی تعداد میں تربیت یافتہ رضاکارموجود ہیں لیکن بھارت نے کبھی انکو مختلف ریاستوں میں جاری آزادی کی تحریکوں کے خلاف پراکسی کے طور پر استعمال نہیں کیا بلکہ ہر آپریشن فوج، پیراملٹری اور پولیس کے ذریعے کیا۔ اسطرح مسائل کے باوجود بھارت نے لاقانونیت کی بجائے ریاستی قوت کو آئین اور قانون کے تابع ریاستی اداروں تک محدود رکھ کر دنیا کو اچھا تاثر دیا ہے۔
بھارت کے موجودہ آرمی چیف کے جنگجویانہ بیانات کے برعکس پاکستان اور بھارت کے درمیان عسکری محاذ کھلنے کے امکانات بہت کم ہیں لیکن بھارت کے ساتھ جنگ کے دیگر سارے محاذ کھلے ہوئے ہیں۔ ہمیں قومی تعمیر کے محاذ پر بھارت سے جنگ کرنی ہے۔ عسکریت اور مذہبیت کی محدود اور تنگ نظر بنیادوں پر ہم جو قوم کھڑی کر پائے ہیں وہ سب کے سامنے ہے۔ ہمیں جمہوریت اور روشن خیالی (اگرچہ ہندوتوا کے پروگرام کے تحت بھارت خود ہمارے والے راستے پر آ رہا ہے) کے میدان میں بھارت سے جنگ لڑنا ہے۔ ہماری معیشت قرضوں کی آکسیجن پر چل رہی ہے، نہ ہم صنعت لگا سکے، نہ سروسز کے میدان میں کچھ کرسکے اور نہ ہی اپنی زراعت کو سنبھالا دے سکے۔ سو ہمیں معیشت کے میدان میں بھارت سے جنگ لڑنی ہے۔ ایک مخصوص تنگ نظر سوچ نے علم دشمنی، سائنس کا مذاق اڑانا، ٹیکنالوجی کی زحمت سے گریز اور متعصب ذہن کے ساتھ علوم سیکھنے جیسی خرافات کو ہمارے قومی مزاج کا حصہ بنا دیا۔ تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ہمیں بھارت کو شکست دینی ہے۔ فوجی سازو سامان اورغذائی ومعاشی امداد دے دے کر امریکہ تھک گیا لیکن ہمارے حکمران نہیں تھکے۔
اسی طرح ہمارے اوپر دفاعی اور ایٹمی ٹیکنالوجی مقامی طور پر فروغ دینے کی بجائے چور دروازوں سے حاصل کرنے کے الزام لگ رہے ہیں۔ سو خود انحصاری کے میدان میں بھی ہمیں بھارت کو شکست ابھی دینی ہے۔ دنیا بھر کو للکارنے اور ساری دنیا کے ہمیں تباہ کرنے جیسے واہموں سے نجات حاصل کر کے دنیا کے ساتھ چلنے اور محنت و استقامت کے ساتھ دنیا میں اپنی عزت قائم کرنے کے میدان میں بھی بھارت کے ساتھ ہمارا سخت مقابلہ ہے۔ فوجی قوت کو مضبوط معیشت پر کھڑا کرنے کی جنگ کا محاذ بھی کھلا ہوا ہے۔آج ہم دنیا میں تنہا کھڑے ہیں۔ ایک طرف چین کی مثال ہے جسے ہم اپنے تئیں پکا دوست سمجھتے ہیں اور دوسری طرف بھارت کی مثال ہے جسے ہم اپنے تئیں ازلی دشمن سمجھتے ہیں۔ ابھی بھی دیر نہیں ہوئی، اصلاح کاراستہ کھلا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں