آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
خدارا میڈیا کو ایسا مت بنا دو کہ لوگ ہم سے نفرت کرنے لگیں‘ ہمیں گالیاں دیں اور ہمارے گریبانوں کو پکڑ لیں۔ ریٹنگ اور پیسہ کے چکر میں ہمیں اپنے آپ کو اتنا نہیں گرانا چاہیے کہ اپنے دین کو ہی مذاق بنا دیں اور ایسے کام کریں جو اللہ اور اللہ کے رسول کی تعلیمات کے برخلاف اور کھلی ٹکر کے مترادف ہوں۔ آگے کیا کسر باقی تھی کہ ایک آزاد خیال اداکارہ سے متعلق خبر ملی کہ وہ رمضان المبارک کے دوران روزانہ مذہبی پروگرام پیش کرے گی۔ پہلے تو یقین نہ آیا۔ میں سوچتا رہا کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے ۔ رمضان کے با برکت مہینے میں تو اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رحمتوں سے نوازنے کا موقع دیتا ہے مگر ہم ہیں کہ اس بات پر تلے بیٹھے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے قہر کو دعوت دیں۔ نجانے اس پروگرام کا مقصد کیا تھا مگر کسی طور بھی اس مقدس مہینے میں ایک ایسی عورت کو روزہ داروں کے سامنے پیش کرنا جس نے پوری دنیا میں مسلمانوں اور پاکستانیوں کو اپنی فحاشی و عریانیت کی وجہ سے بدنام کیا، ایک انتہائی گھناؤنا فعل ہوتا۔ اب اطلاع ملی ہے کہ عوامی ردعمل کے بعد مذکورہ پروگرام کو روک دیاگیا ہے۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو مگر اس واقعہ نے میڈیا کی مادر پدر آزادی‘ معاشرے میں بڑھتی ہوئی فحاشی وعریانیت میں اس کے کردار اور متعلقہ محکموں کی نااہلی کو ایک بار پھر ثابت کردیا

ہے۔ میڈیا کے ایک کارکن کی حیثیت سے مجھے اس بات کا یقین ہے کہ میڈیا خود اپنے آپ کو ریگولیٹ نہیں کر سکتا بلکہ اس کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ایک آزاد اور خودمختار ادارے کی ضرورت ہے۔ اگر میڈیا خود ذمہ دار نہیں تو اس کا کیا مطلب ہے کہ لوگوں کو میڈیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے؟؟؟ کیا ریاست کی کوئی ذمہ داری نہیں؟؟؟ رمضان سے چند روز قبل ایک ہندوستانی اداکار کی موت واقع ہوئی تو ہمارے میڈیا نے آسمان سرپر اُٹھا لیا کہ نہ جانے کوئی کتنا بڑا شخص ہم سے جدا ہوگیا۔ راجیش کھنہ ہندوستان کا رہنے والا‘ اس کا ہندو مذہب سے تعلق‘ اس کی ساری زندگی اور اس کی پہچان ناچ گانا رہی۔ گویا نہ کچھ اس نے مسلمانوں کیلئے کیا نہ پاکستان کیلئے مگر اس کے باوجود اس کیلئے ہمارے میڈیا نے گھنٹوں صرف کر دیئے۔ کہاں پیدا ہوا‘ کیا کیا کارنامے کئے‘ کتنے بچے تھے‘ کتنی شادیاں کیں‘ کس کس فلم میں کام کیا‘ کون کون سے گانے گائے اور نہ جانے کیا کچھ۔ اس میڈیا سرکس میں کسی کو یہ تو توفیق نہ ہوئی کہ دیکھنے والوں کو یہ بھی بتا دیتے کہ مرنے والے ”ہیرو“ نے ہمارے لئے کیا کیا۔ خیر اس کی تو مجھے توقع ہی نہیں کہ ایسے ”ہیروز“ کے مرنے پر ہمارا میڈیا کبھی اسلامی نقطہ نظر بھی پیش کرے گا کہ اللہ کے دین کی نظر میں ایسے ”ہیروز“ کی کیا حیثیت ہے، ان کے بارے میں اللہ تعالٰی کا آخرت میں کیا وعدہ ہے اور کیا مسلمانوں کیلئے ایسے ”ہیروز“ کسی بھی لحاظ سے قابل تقلید ہوسکتے ہیں۔ مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اسلام کو بھلا بیٹھے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو گھنٹوں راجیش کھنہ کو ”ہیرو“ بنا کر پیش کرنے والے برما میں مسلمانوں کے قتل و غارت پر بھی کچھ نہ کچھ دکھا دیتے۔ بین الاقوامی میڈیا کو تو مسلمانوں کے اس قتل و غارت پر خاموش رہنا ہی تھا مگر پاکستان کے میڈیا میں اس موضوع پر کیوں خاموشی طاری ہے؟؟ ہماری حکومت اور دفترخارجہ اس ظلم پر کیوں چپ سادھے بیٹھے ہیں؟؟ شرم کی بات تو یہ ہے کہ ہم تو اس مسئلہ پر خاموش ہیں مگر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے برما میں مسلمانوں کے قتل عام پر اپنی آواز بلند کی ہے۔ ہم مسلمانوں کا تو المیہ یہ ہوچکا کہ ہم قومیتوں میں تقسیم ہوچکے جبکہ مسلم امّہ کی سوچ کو مکمل طور پر ختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ اسلام دشمنوں کی سازش سے پہلے ہی مسلمانوں کو پاکستانی‘ ایرانی‘ افغانی‘ ترکی‘ کویتی‘ عراقی‘ سعودی‘ اردنی وغیرہ میں تقسیم کیا جا چکا ہے اور اب تو حالات اتنے بدتر ہوچکے کہ ہم پاکستانی بھی نہیں رہے اور ہماری پہچان پنجابی‘ پختون‘ سندھی‘ مہاجر ‘ بلوچ‘ پٹھان‘ سرائیکی‘ ہزارہ بن چکی اور انہی بنیادوں پر ہماری دوستیاں اور دشمنیاں قائم ہیں۔ یہ حالات ہیں اس تباہی کے جو ہم جیسے مسلمانوں کا مقدر بن چکی ہے اور جس کی وجہ سے ہمیں ہرطرف سے ذلت اور رسوائی کا سامنا ہے۔ اگر ہمیں اس ذلت و رسوائی سے جان چھڑانی ہے تو اس کا واحد حل اسلام ہے۔ نہ صرف اسلام پاکستان کو اندرونی و بیرونی خطرات اور تقسیم در تقسیم سے بچاسکتا ہے بلکہ اس دین محمد کی بنا پر مسلم امّہ کو دوبارہ متحد کیا جاسکتا ہے اور مسلمانوں کا یہی اتحاد ان کو مشرکوں کے ہاتھوں قتل عام سے بچا سکتا ہے۔ برما میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم وستم سے متعلقہ ایک ای میل میں مجھے کچھ تصویریں موصول ہوئیں جن کو دیکھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور میں یہ سوچتا رہا کہ کیا کوئی انسان کسی دوسرے انسان پر اس قدر ظلم کرسکتا ہے۔ کوئی انسان اتنا سفاک اور درندہ صفت ہوسکتا ہے۔ راجش کھنہ کی موت اورامریکا میں ایک فلمی شو کے موقع پر فائرنگ سے ہلاک ہونے والے چندامریکیوں پر آنسو بہانے والے برما میں اپنے دو ہزار سے بیس ہزار تک مسلمان بھائیوں، بہنوں اور بچوں کے قتل عام پر کیوں خاموش ہیں؟؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں