اسلام آباد(نمائندہ جنگ، خصوصی رپورٹ) احتساب عدالت اسلام آبادکے جج محمد بشیر نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی حاضری سے پندرہ روزہ استثنیٰ کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے دو نیب ریفرنسز العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انوسٹمنٹ میں قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ہیں،عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت پر پیش نہ ہوئے تو گرفتاری کا حکم دینگے، عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں 50 لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کرانیوالے ضامن ڈپٹی میئر اسلام آباد چوہدری رفعت جاویدکو نوٹس جاری کردیا اور استغاثہ کے دونوں گواہوں کو دوبارہ طلب کرتے ہوئے ریفرنس کی سماعت تین نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔
جمعرات کو سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز خصوصی طیارےکے ذریعے لاہور سے اسلام آباد پہنچیں اوربے نظیر بھٹو ایئرپورٹ سے احتساب عدالت پیشی کے لیے سیدھا جوڈیشل کمپلیکس پہنچ گئیں، سابق وزیر اعظم کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر اکیلے ہی جوڈیشل کمپلکس پہنچے اور عدالت میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ پیشی بھگت کر اکیلےہی واپس گئے۔تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں سماعت کا آغاز ہوا تو سابق وزیر اعظم کے وکیل خواجہ حارث نے نواز شریف کی حاضری سےپندرہ روزہ استثنیٰ کی درخواست پیش کی اور فاضل جج کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف عدالت میں پیشی کے لیے پاکستان آتے ہوئے اپنی والدہ کے ہمراہ عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب گئے تھے جہاں انہیں اہلیہ کی طبیعت زیادہ خراب ہونے کی اطلاع ملی، بیگم کلثوم نوازکینسر کے مرض میں مبتلا ہیں اور انہیں اسپتال میں داخل کیا گیا ہےجس کی وجہ سے نواز شریف کو لندن جانا ہے، اس موقع پر بیگم کلثوم نواز کی میڈیکل رپورٹ بھی پیش کی گئی، فاضل عدالت سے درخواست ہے کہ آج سے پندرہ دنوں تک کے لیے ان کے موکل کو اسثنی دیا جائے، ان کی عدم موجودگی میں ظافر خان ان کی نمائندگی کریں گے۔ نواز شریف پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے اس لئے انہیں حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔
اس موقع پر نیب پراسکیوٹر افضل قریشی نے نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نےپہلے بھی پندرہ دن کا وقت دیا تھا اور اب ملزم کو عدالت میں ہونا چاہیے تھا، نیب پراسکیوٹرنےعدالت کو بتایا کہ نواز شریف کو 15 دن کے لئے حاضری سے استثنیٰ دیا گیا تھا جس دوران ظافر خان نمائندے تھے تاہم اب وہ قانونی طور پر نمائندے نہیں ہیں، لگتا ہے کہ ملزم عدالت کی نرمی سے فائدہ اٹھا رہا ہے، نیب پراسکیوٹر نے استدعا کی کہ نواز شریف کے ضمانتی مچلکے ضبط کر کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں۔ جس پر فاضل جج نے نیب پراسکیوٹر کو ہدایت کی کہ آپ تبصرہ نہ کریں ، صرف قانونی بات کریں، آپ کا اسلحہ قانونی کتب ہیں صرف انہیں چلائیں، اس موقع پر فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ نواز شریف کو پیش ہونے کا آخری موقع دیا گیا ہے، آئندہ سماعت پرپیش نہ ہوئے تو ان کی گرفتاری کا حکم دیا جائے گا، جج غیر جانبدار ہوتا ہے، میرا نیب یا ملزموں سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ تین ریفرنسز کو یکجا کرنے کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست زیر سماعت ہے جس کی سماعت دو نومبر کو ہوگی۔
اس موقع پرفاضل عدالت نے نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر محفوظ کرتے ہوئے دس منٹ کا وقفہ دیا، سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو فاضل جج نے محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیراعظم کے العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنس میں قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے جبکہ ایون فیلڈ ریفرنس میں 50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکےجمع کرانے والے ضامن ڈپٹی میئر اسلام آباد چوہدری رفعت جاویدکو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 3 نومبر تک کے لئے ملتوی کردی۔
استغاثہ کے گواہ جہانگیر احمد اور سدرہ منصور عدالت میں بیان ریکارڈ کرانے کے لئے موجود تھے لیکن نواز شریف کی استثنیٰ کی درخواست کے باعث گواہان کے بیانات قلمبند نہیں کیے جاسکے۔جمعرات کو سماعت کے لئے سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کرتے ہوئے 400 اہلکاروں کو جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف تعینات کیا گیاتھا۔مسلم لیگ ن کے رہنماپرویز رشید، ڈاکٹرآصف کرمانی، وزیر مملکت ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، طلال چوہدری، مریم اورنگزیب اور مئیر اسلام آباد شیخ انصر عزیز سمیت 12 افراد کو احتساب عدالت کے اندر جانے کی اجازت دی گئی جبکہ رکن قومی اسمبلی شکیلہ لقمان کو فہرست میں نام نہ ہونے کی وجہ سے سکیورٹی اہلکار نے دروازے پر ہی روک لیا۔جوڈیشل کمپلکس میں داخلے کے لیے متعدد وکیل پولیس کے ساتھ بحث کرتے رہے تاہم پولیس نے انہیں داخل نہیں ہونے دیا۔ایم این اے زیب جعفر سمیت دیگر کئی مسلم لیگی خواتین کو بھی جو ڈیشل کمپلیکس میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ ناکوں پر متعدد کارکن گروپوں کی شکل میں موجود تھے جنہوں نے مریم نواز کی آمد اورواپسی پرنعرے بازی کی۔