امریکہ کی جانب سے یورپین مصنوعات پر لگائی جانے والی نئی ڈیوٹیز سے یورپ کو باہمی تجارت میں 81 ارب یورو کا نقصان ہوگا، جبکہ خطرہ ہے کہ ان محصولات کے مسلسل قائم رہنے کے ساتھ اس کی امریکہ بھیجی جانے والی اشیاء میں نمایاں کمی بھی ہو سکتی ہے۔
اس حوالے سے مزید تفصیلات کے مطابق یورپین یونین نے صدر ٹرمپ کی جانب سے اسٹیل مصنوعات پر نئے ٹیرف کا جواب دینے کے بعد دوسرے مرحلے کا فوری طور پر جواب نہیں دیا ہے لیکن اس کیلئے باہمی تجارت میں گھبرانے کے لیے بہت کچھ پیدا ہوچکا ہے۔
اس بات کو ان اعداد و شمار کی مالیت اور نمبروں سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔
گزشتہ سال یورپ نے امریکہ کو 531 ارب یورو کی مصنوعات بیچیں جبکہ 333 ارب یورو کی مصنوعات امریکہ سے خریدی گئیں، اس طرح 198 ارب یورو کا سرپلس یورپ کے حق میں رہا۔
اب صدر ٹرمپ نے جو نئے ٹیرف عائد کیے ہیں ان کے مطابق کاروں، کار کے پرزوں، اسٹیل اور ایلومینیم پر امریکی ٹیرف 25 فیصد جبکہ نیا اضافی ٹیرف جو امریکہ کو یورپی یونین کی دیگر برآمدات کا احاطہ کرتا ہے 20 فیصد ہے۔
اس سے امریکہ کو یورپی یونین کی مجموعی برآمدات کا 70 فیصد حصہ زد میں آگیا ہے ۔
اس گورکھ دھندے کو مزید آسان زبان میں سمجھنا ہو تو ٹیرف سے متاثرہ اشیاء کی مالیت 380 بلین یورو، اس میں سے اسٹیل اور ایلومینیم ٹیرف کے 26 ارب یورو، کاروں کے لیے 66 ارب یورو اور مجموعی طور پر بقیہ باہمی ٹیرف کے لیے بچے 290 ارب یورو ہے، اس طرح امریکہ ان تمام ڈیوٹیز سے 81 ارب یورو کمائے گا۔
بلومبرگ اکنامکس کے ایک تجزیہ کے مطابق اگر تجارتی صورتحال یہی رہی تو درمیانی مدت میں امریکہ کو یورپی یونین کی برآمدات میں 50 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے جو یورپ کی کل آمدنی کا 1.1 حصہ بنتا ہے۔