اسلام آباد(جنگ نیوز/صباح نیوز)سابق وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نوازنے کہا ہے کہ ہمارے خلاف سازشوں میں سب ایک ہیں،ثبوت ڈھونڈے نہیں بنائے جارہے ہیں،جمہوریت غداری، انصاف کی بات توہین عدالت جبکہ کسی منصف کو آمر سے پوچھنے کی ہمت نہیں ہے،تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نوازنے کہا ہے کہ پہلے فیصلہ کرلیا جاتا ہے پھر مقدمات چلائے جاتے ہیں، کسی عدالت یا منصف میں اتنی ہمت ہے کہ کمر درد کا بہانہ کرکے باہر جانے والے کو بلائے اور اس سےپوچھے آئین و قانون کےساتھ جو کیا اس کا جواب دو۔اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ثبوت دیئے نہیں جارہے بلکہ ثبوت بنائے جارہے ہیں، پہلے فیصلہ کرلیا جاتا ہے پھر مقدمات چلائے جاتے ہیں۔
نوازشریف کی اہلیہ کو کینسر ہے اور لندن میں زیر علاج ہیں، نواز شریف کی نااہلی اقامہ کی بنیاد پر ہوئی، کیا سارا قانون نواز شریف کے لیے ہے۔ جلد بازی صرف ایک خاندان اور منتخب وزیراعظم کے لیے ہی کیوں، جمہوریت پر بات کریں تو غدار اور ناانصافی پر بات کریں تو توہین عدالت کا الزام لگتا ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ نوازشریف کے لیے جلد بازی دکھائی جارہی ہے ان کے خلاف سازشوں میں سب مصروف ہیں لیکن ان کے خلاف پہلے کچھ نہیں ملا اور اب بھی نہیں ملے گا۔ مریم نواز نے کہا کہ سنا ہے جے آئی ٹی کے لوگ بغیر ثبوت کے واپس آئے اب نیب والوں کو بھی ثبوت نہیں ملے گا، یہاں ثبوت ڈھونڈے نہیں جارہے بلکہ پیدا کیے جارہے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ ابھی تو نواز شریف کا احتساب ہورہا ہے اور جو پھرتیاں نواز شریف کے لیے دکھائی جارہی ہیں وہ دوسروں کے لیے بھی دکھائی جانی چاہئیں، کیا سارا قانون صرف نوازشریف کے لیے ہی ہے، عمران خان کے لیے کوئی قانون نہیں، ملک میں جو حضرت اشتہاری ہیں ان کے کتنے وارنٹ جاری ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ حسن اور حسین اپنے اوپر لگے الزامات کا جواب دونوں خود دیں گے اور انشاءاللہ ہم سرخرو ضرور ہوں گے۔ ایک سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ میرا کوئی میڈیا سیل نہیں، جب نوازشریف وزیراعظم تھے ان کے لیے میڈیا ہینڈل کرتی تھی، یہ سب پروپیگنڈا کیا جارہا ہے اور سب جانتی ہوں ایسی باتیں کیوں اور کون کررہا ہے۔انہوں نے کہا ہ پاکستان پر نازک وقت ہے اور ہم نازک دور سے گزر رہے ہیں، کسی بھی حکومت کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے، چاہے وہ نام کی جمہوری حکومت ہو یا کمزور حکومت ہو۔ہم یہاں جمہوریت کی بات کرتے ہیں لیکن جمہوریت اور انصاف کی بات کرنےوالےکو غدار کہا جاتا ہے جب کہ ناانصافی پر آواز اٹھانے کو توہین عدالت کہا جاتا ہے۔