کراچی (نیوز ڈیسک) سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز نے شریف خاندان کے درمیان اختلافات کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شریف خاندان میں کوئی اختلاف موجود نہیں ، تمام گھر والوں کو خاندانی اقدار اور اخلاقیات پر فخر ہے۔شہبازشریف ایک قابل ترین شخص اور میرے ہیرو ہیں، میں ان سے اپنی جان سے زیادہ محبت کرتی ہوں، موت تک انکا ساتھ دونگی، خاندان کا فیصلہ تھا کہ وہ پارٹی سنبھالیں۔ دوسری جانب مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ خاندان کے کہنے پر پارٹی قیادت سنبھالنے کا بیان مجھ سے غلط منسوب کیا گیا، شریف خاندان میں ایسا کوئی بھی فیصلہ نہیں ہوا۔ مریم نواز نے کہا کہ پارٹی قیادت کی خواہش مند نہیں، ورکر کے طور پر کام کرکے خوش ہوں، نواز شریف ہی پارٹی کی قیادت کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ دریں اثناء امریکی اخبار نیوریارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں مریم نواز نے صحافی کے سوال پر کہ کیا شہبازشریف کو وزارت عظمیٰ ملنی چاہیے؟ مریم نواز نے جواب دیا کہ شہباز شریف سب سےزیادہ اہلیت کےحامل ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ وہ زندگی سے بڑھ کر اپنے چچا کو چاہتی ہیں۔ وزیراعظم بننے کے سوال پر مریم نواز نے واضح جواب دینے سے گریز کیا کہ اور کہا کہ خاندان کا فیصلہ تھاکہ وہ پارٹی سنبھالیں۔ سابق وزیراعظم کی صاحبزادی کا کہنا تھاکہ ان کی انتظامی اور سیاسی اہلیت کے ان کے دادا بھی قائل تھے، سب سے پہلے ان کے دادا نے انہیں خاندانی امور میں اہم مقام دیا اور دادا کے بعد اب والد نے بھی ان کی سیاسی قابلیت کو سراہا۔ ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اُن کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ نوازشریف اپنی بیٹی کے مشورے اور تنقید خوش دلی اور تحمل سے سن لیتے ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ جیلیں، نااہلی، نظربندیاں، عدالتی مقدمات سب دیکھ لیے، انجام کی فکرنہیں،کسی بھی چیز کو خاطر میں نہ لاکر وہ مقابلہ کررہی ہیں۔ (ن) لیگ کی رہنما کا کہنا تھا کہ مقدمے سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں جو انتقامی کارروائیوں اور دباؤ میں لانےکاحربہ ہیں جب کہ ان کے خلاف ثبوت ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ستمبرکے ضمنی الیکشن میں فتح دلیل ہےکہ عوام ہمارے ساتھ کھڑےہوں گے لہٰذا علم نہیں کل مقدرمیں کیا ہو لیکن انہیں عوام تک جانا ہے۔ ذاتی زندگی سے متعلق سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ اچھی قسمت تھی کہ چھوٹی عمر میں شادی ہوئی، تمام وقت بچوں کی پرورش پر صرف کیا، اب ان کے پاس اپنے کام کے لیے زیادہ وقت ہے، بچےچھوٹےہوتےتو وہ ایسانہ کرپاتیں۔ علاوہ ازیں مریم نواز 44 سال کی ہوگئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر اُن کی سالگرہ کے موقع پر اُنہیں لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے مبارکباد کے پیغامات بھیجے ہیں اور اُن کی درازی عمر کے ساتھ ساتھ کلثوم نواز کی صحتیابی کے لیے بھی دُعائیں کی ہیں۔