آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دو سال قبل اسکے والد اور سندھی قوم پرست پارٹی سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے نوجوان رہنما ڈاکٹر انور لغاری کو نامعلوم افراد نے حیدرآباد کے علاقے قاسم آباد میں ضمنی انتخابات کی ہونیوالی پولنگ سے ایک رات قبل قتل کردیا تھا۔ آجتک نہ ڈاکٹر انور لغاری کے قاتل گرفتار ہوئے نہ اسکے قتل کی کوئی تفتیش یا تحقیقات ہی کبھی، کہ اب اسکا جواں سال پچیس سالہ انجینئر بیٹا اسد لغاری ’’پر اسرار حالات‘‘ میں مردہ پایا گیا۔ گزشتہ اتوار کی صبح بدین ضلع کے شہر ٹنڈو باگو میں ایک مقامی پی پی پی رہنما کے بیٹے کے گھر پر اسی انجینئر اسد کی لاش ملی جہاں وہ اتوار کی شام اپنے چار دوستوں کے ساتھ گیا ہوا بتایا گیا۔ لیکن اسد کے گھروالوں کا کہنا ہے کہ وہ ٹنڈو باگو کا نہیں حیدرآباد کا بتا کر گیا تھا تو ٹنڈو باگو کیسے پہنچا یا گیا؟
اسد کے ہمراہ ساتھ آنیوالے اسکے دوستوں نے، پولیس کے مطابق، اسد کی بگڑتی ہوئی حالت پر نہ اسے اسپتال پہنچایا نہ ہی اسکی موت کی اطلاع پولیس کو دی، اسکے کے بجائے مقامی ٹائون کے چیئرمین کو مطلع کیا۔
پولیس نے اسد کے چاروں دوستوں کو حراست میں لیا جبکہ میزبان فرار ہوگیا۔ اسد کی موت کو میڈیا اور پولیس ’’پراسرار حالات میں’’ قراردے رہے ہیں۔
اسد کی موت کو ’’پراسرار حالات‘‘ سے زیادہ مشتبہ طور پر قتل سمجھا جا

رہا ہے۔ دو برسوں میں مکمل ایک سیاسی اور سرگرم خاندان کے فرد کا یہ دوسرا قتل ہے۔ اسد مکمل طور پر ایک غیر سیاسی نوجوان تھا۔ نہ وہ کوئی قوم پرست تھا، نہ علیحدگی پسند، نہ ہی کوئی تشدد پسند نوجوان۔ وہ سندھ اور ملک کا ایک ایسا ذہن تھا جنکو ’’ینگ البرٹ‘‘ کہا جا سکتا ہے۔یعنی کہ ہمارے کل کے آئن اسٹائن۔ جیسے ہماری ارفع آئی ٹی کی تھی، جیسے سید وڈل شاہ اور نور محمد تالپور اور کئی۔ اسد ماحولیاتی انجینئر تھا۔ پچیس سالہ انجینئر جو پانی کا ماہر بتایا جاتا ہے۔ مہران یونیورسٹی میں اسکے ماسٹر کا تھیسز ’’ نہروں کے پانی اور نل کے پانی میں اچھے مدافعتی جرثوموں کی موجودگی‘‘ تھی۔وہ مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کا گریجویٹ تھاوہ پاکستان اور امریکہ کے مشترکہ یو ایس پاکستان ایڈوانس اسٹڈیز سینٹر آن واٹر کے تحت چھ ماہ امریکہ کی یونیورسٹی یوٹا میں بھی پڑھ کر آیا تھا۔ ہم اسد کی یونیورسٹی دیکھنے گئے تھے کہ اسد جب یہاں آنیوالا تھا یہ کل ہی کی بات ہے۔ اسد امریکہ آیا چھ ماہ چھا کر رہ بھی گیا اور اب دنیا سے بھی۔ ظاہر ہے کہ، بقول ڈاکٹر ندیم جمالی ایسے خواب اور خواہشیں رکھنے والے لوگوں کے اچانک دنیا سے چلے جانے کی ’’وجوہات’’ ہوتی ہیں۔
لیکن اگر میں وجوہات کو نظرانداز کرتے ہوئے بھی اتفاقات پر نظر ڈالوں جنکے تحت پہلے اسد کے والد اور سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے رہنما ڈاکٹر انور لغاری اور اب اسکے جواں سال پچیس سالہ بیٹے کی موت تو ایسے اتفاقات ان ’’کھروں‘‘ پر رقابیاں رکھ دیتے ہیں (محفوظ کرلیتے ہیں) جو اس گرم جواں اور بے آسرا لہو کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ ان ’’اتفاقات ‘‘ کا تانہ بانہ ملانا کوئی راکٹ سائنس بھی نہیں۔
مقتولین ڈاکٹر انور لغاری کے بھائی اور اسد لغاری کے چچا صوفی منور لغاری بہت عرصہ سے امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں امریکی کانگریس، سینیٹ، وہائٹ ہائوس اور امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سمیت امریکی طاقت کے اعلیٰ اداروں چاہے غیر سرکاری تنظیموں میں سندھ کے حقوق کیلئے سرگرم ہیں۔ پھر وہ امریکی سرکاری الیکٹرانک میڈیا میں سندھی زبان میں سروس شروع کرنے کا مسئلہ ہو کہ سندھ میں غائب شدہ شہریوں کا کہ انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں کا۔
جب سال دوہزار پندرہ کے ماہ نومبر میں ملک پاکستان کے سب سے طاقتور ادارے کے سربراہ امریکہ کے دورے پر آئے تھے تو صوفی لغاری نے صدر اوباما کو خط لکھا تھا کہ غیر انسانی یا فوجی امداد کی ترسیل کو پاکستان میں انسانی حقوق کی بہتری کے ساتھ مشروط کیا جائے،تو اس طرح کا خط وائٹ ہائوس پہنچنے کے چند دن کے اندر صوفی لغاری کے اکلوتے اور بڑے بھائی کو ’’نامعلوم افراد‘‘ نے حیدرآباد میں ضمنی انتخابات والی رات قتل کردیا، انہی اخبار کے میرے کالموں میں مقتول ڈاکٹر انور لغاری کے قتل کے بارے میں ایک کالم شائع ہوا تھا۔ ابھی دو سال گزرنے کے باوجود نہ ڈاکٹر انور لغاری کے قتل کی کوئی تحقیقات ہوئی اور نہ ہی اس کے قاتل گرفتار کئے گئے۔
اور اب پھر مقتول انور لغاری کے اکلوتے بیٹے اور ذہین ترین انجینئر اسد لغاری کی ’’پراسرار حالات‘‘ میں موت۔ یہ بدنصیب خاندان ایسے المیے سے تب دوچار ہوا جب اس کے بمشکل دو ہفتہ قبل اسد کے چچا صوفی منور لغاری نے واشنگٹن ڈی سی کے انتہائی بااثر نیشنل پریس کلب میں سندھ میں گمشدگان عام طور اور خاص طور وائس آف مِسنگ پرسنز ان سندھ کے سربراہ پنہل ساریو کی گمشدگیوں کے خلاف پریس کانفرنس کا اہتمام اپنی ایک تنظیم سندھی فائونڈیشن کی طرف سے کیا تھا۔ اس کانفرنس میں اس سے قبل کہ کم از کم تین اراکین کانگریس کے پیغامات انکے عملے کی طرف سے پڑھے جائیں پنہل ساریو رہا ہو کر اپنے گھر پہنچ چکا تھا۔ لیکن چند ہفتوں بعد اسد لغاری مردہ پایا گیا۔
یہ کیسا خونی اتفاق ہے کہ ایسی پریس کانفرنس کے دو ہفتوں بعد اس پریس کانفرنس کے میزبان کا جواں سال بھتیجا اسد لغاری اپنے گھر سے دور افتادہ چھوٹے شہر میں پر اسرار حالات میں مردہ پایا جائے۔
مقامی پولیس اب اسے نشہ آور امریکی گولیوں کا استعمال بتا رہی ہے۔
یہ کیسے اتفاقات ہیں کہ جئے سندھ قومی محاذ کا سربراہ بشیر قریشی ’’حرکت قلب‘‘ بند ہو جانے سے فوت ہوتا ہے اور اسد لغاری ’’نشہ آور کیپسولوں کے استعمال‘‘ سے۔ مجھے بھٹو حکومت کے آخری سالوں میں بلوچ رہنما عطاء اللہ مینگل کے جواں سال بیٹے اسد اللہ مینگل اور ضیاء آمر کے دنوں میں جنوبی فرانس کے شہر کینز میں شاہنواز بھٹو کی ’’پراسرار حالات میں موت‘‘ اور اب جنوبی سندھ کے چھوٹے شہر ٹنڈو باگو میں سندھ کے جواں اور بڑے ذہن کی پراسرار حالات میں موت یا قتل؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں