آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وطن عزیز بند گلی میں، ماضی میں جب بھی ایسے حالات آئے، مملکت ِ خداداد کی چولیں ہلیں۔پاکستان کو ٹوٹتے دیکھا۔ اس بحران ،دلدل سے نکل پائیں گے؟، بظاہر ناممکن۔ مئی2013میں انتخابات ہوئے، معمول کی تو تکرار کے بعد راوی چین رقم کر چکا تھا۔ نواز شریف، زرداری شیر و شکر جبکہ نواز شریف اور عمران خان یک جاں دو قالب نظر آئے۔ انواع و اقسام کی سیاسی جماعتیں مرکز اور صوبوں میں اپنے اپنے حصے کا مقام پا چکی تھیں۔ سب میں انتخابی منشور اور وعدوں کی تکمیل میں مطابقت مسابقت رہنی تھی۔ دریشک خاندان اپریل2014میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی پر عمران خان کا راجن پوراحتجاجی جلسہ چاہتے تھے۔ عمران خان کا موقف کہ ’’یہ وقت پارٹی منظم کرنے کا ہے نا کہ احتجاجی جلسوں کا‘‘۔
اپریل 2014، بدقسمت مہینہ، پورے ملک میں گونج اٹھی، ’’سیاست نہیں ریاست بچائو‘‘۔ اگلے چند دنوں میں لاہور شہر کی گلی کوچہ، بازار ،چوک، شاہراہیں بلکہ ملک کا چپہ چپہ ’’سیاست نہیں ریاست بچائو‘‘ کے پوسٹرز، ہورڈنگز، اسٹیمر، بینرز سے پُر تھا۔ پوری قوم ہکا بکا، سوال ایک ہی، 10ماہ میں ’’سیاست‘‘ نے ’’ریاست‘‘ پر کیا افتاد ڈھا دی؟ کبھی معلوم بھی ہو پائے گا؟ آنے والے دنوں، حالات قابو میں کیا رہتے، بگاڑ کا آغاز ہی تو تھا۔ عمران خان جو حالات نامواقف جان چکے تھے۔ پلک

جھپکتے، ’’ریاست بچانے‘‘ خاطر محنت و مشقت سے بنائی سیاست قربان کر گئے۔ قومی میڈیا ہتھیا لیا گیا، جیو کو کچھ ہفتے توا ٓج جیسے حالات کا سامنا رہا، پھر مکمل طور بند کر دیا گیا۔ عمران خان اور طاہر القادری روزانہ کی بنیاد پر چار چار تقریری باریاں بھگتاتے رہے۔ آٹھ دفعہ روزانہ نواز شریف کو گندی گالیوں اور الزامات سے نوازتے رہے۔ دشنام طرازی کا پیغام گھر گھر زبردستی پہنچایا۔ اکسایا، بھڑکایا۔ ایمپائر کی انگلی بدنام ہوئی، ادارے بدنام رہے۔ سوال تشنہ طلب، 2014میں ریاست پر وہ کونسی افتاد ٹوٹی، بچانے کے لئے بساط بچھی، مہرے متحرک رہے؟ جواب نہیں مل پایا۔ کیا ایسے لوگ ریاست کے دوست ہوسکتے ہیں؟
1951 سے ’’ریاست‘‘ کو سازشی عناصر سازشوں کا جال بچھانے مصروف، اقتدار اختیارات کی حرص و توسیع میں ریاست خرچ ہو چکی۔ کھیل نیا نہیں، ’’ریاست بچانے‘‘ والے امپائر نئے نہیں۔ شہید ملت لیاقت علی خان کے قتل کے دن (بلکہ قتل ’’سیاست بچانے‘‘ کے لئے کیا گیا تھا) سے ہی متحرک ہو گئے تھے۔ میر جعفر کا پوتا میجر جنرل اسکندر مرزا نوزائیدہ مملکت کا سیکرٹری دفاع، شہید ملت کے قتل کے فوراً بعد ریاست بچائو کا بنیادی کردار بن گیا۔ ایوب خان سے ملی بھگت کام آئی، ملک غلام محمد کو گورنر جنرل بنادیا۔ غلام محمد دور میں جس طرح ریاست کو بچایا گیا، آج تک بھگت رہے ہیں۔ میجر جنرل اسکندر مرزا نے ایک دفعہ پھر ’’ریاست بچائو‘‘ خاطر، اپنے قابل اعتماد دوست جنرل ایوب خان کی معاونت موجود، غلام محمد کو چلتا کیا، خود گورنر جنرل بن بیٹھے۔ مرزا صاحب نے ریاست کو مزید مستحکم کرنے کی ٹھانی، 1958میں ہمدم دیرینہ جنرل ایوب خان کے ذریعے مارشل لا لگوا کرصدر بن گئے۔ سالوں کی شبانہ روز محنت سے تیار 1956کا سیاسی آئین دفنا دیا گیا۔ 3ہفتوں میں جنرل ایوب نے ریاست کو مزید بچانے کی ٹھانی اور 27اکتوبر1958 اسکندر مرزا کو بے عزتی سے چلتا کیا۔ عنانِ اقتدار ایسے سنبھالی کہ 13سو جید سیاستدانوں اور نمایاں افراد پر سیاست کے دروازے 10سال کے لئے بند کر دیئے، اکثر پر کرپشن کے الزامات۔ ستم ظریفی نااہل سیاستدانوں میں درجنوں بانیانِ پاکستان، جن کی کوکھ سے پاکستان نے جنم لیا۔ یاد رہے کہ عدلیہ قدم بقدم ممد و معاون رہی، فیصلے ’’بیسوں سال‘‘ سے آج بھی گونج رہے ہیں۔ دس سالہ ایوبی مطلق العنانی، ’’سیاست‘‘ کا مکو تو نہ ٹھپ سکی البتہ ’’ریاست‘‘ کو گھائل کر گئی۔ جنرل یحییٰ خان نے ساتھیوں کے سامنے ریاست کی ناگفتہ بہ حالت رکھی تو ’’ریاست بچانے‘‘ کے نئے عزم نے مجبور کیا کہ اقتدار قبضہ میں لے لیا جائے۔ پھر ریاست بچاتے ایک ایسا مرحلہ آیا کہ ریاست ٹوٹ گئی۔ 1977میں ایک بار پھر بچی کچھی ریاست ڈانواں ڈول نظر آئی۔ جنرل ضیاء الحق اور انکے ساتھیوں نے باہمی مشورہ کیا۔ 1973کا متفقہ آئین معطل اور دس سال ہر سہولت اور طاقت سے آراستہ پیراستہ ’’سیاست‘‘ کا قلع قمع کیا کہ’’ریاست‘‘ کو چار چاند لگا نے تھے۔ جنرل ضیاء الحق کی شہادت بھی لیاقت علی خان طرز پر، ایسے عناصر کی نشاندہی آسان جو ریاست کو غیر مستحکم ہوتے دیکھ کر مضطرب تھے۔ 17اگست 1988سے 1999 تک، ریاست کو مستحکم رکھنے والوں کو سہولت رہی کہ گاہے بگاہے اپنے ارادے، مرضی اور سمری حکم سے سیاست کو معزول کرتے رہے، ’’ریاست بچانے‘‘کا فریضہ سر انجام دیئے رکھا۔ 1999میں چونکہ مارشل لا کو دس سال گزر چکے تھے،ریاست بچانے کے لئے سیاست کو پھر سے پابند سلاسل ہونا تھا۔ جنرل مشرف کی حرکات و سکنات گزشتہ پیوستہ مہینوں سے ریاست کو مکمل محفوظ بنانے پرہمیشہ سے مرتکز تھیں۔ بالآخر معصومیت کے ساتھ قابض ہوئے کہ ’’مجھے نکالنے کی جرات (آئین میں گنجائش موجود) کیسے اور کیونکر ہوئی‘‘؟ عرصہ بعد جنرل مشرف کو نکالنے کا سہرا گوسیاستدان یا تحریک بحالی عدلیہ بتائی گئی جبکہ جنرل مشرف کا غم و غصہ کہ جنرل کیانی نے ’’ریاست بچائو‘‘ کے لئے اہم کردار ادا کیا۔
پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو روز اول سے ریاست کو اداروں سے ہچکولے آئے۔ صدر زرداری کو گرفتار کرنے یا ہٹانے کی افواہیں روزمرہ کا معمول تھا۔ صدرمملکت بیچ افواہوں پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ پیپلز پارٹی نے ایک وزیر اعظم انصاف کے بول بالا پر قربان کیا، دوسرا بال بال بچا۔ حکومت نے رینگتے وقت پورا کیا۔
2013میں مسلم لیگ ن کی حکومت جب قائم ہوئی۔ ریاست کا حال مت پوچھیں۔ وطن عزیز بے حال و بدحال، بجلی گیس قصہ پارینہ، چھوٹی اور درمیانی صنعت کو تالے پڑ چکے تھے۔ اقتصادیات تتر بتر، دہشت گردی عروج پر، ریاست کی چولیں ہل رہی تھیں۔ شرح نمو کئی سالوں سے 4فیصد سے نیچے تھی،مایوسی چار سو۔ 2013کی گرمیاں بوجہ الیکشن میانوالی تھا،24گھنٹے میں25گھنٹے بجلی غائب، گیس 2گھنٹے معمولی پریشر پر میسر۔ میانوالی میں ایک ایسے احتجاجی جلوس پر پولیس فائرنگ سے دو شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 2013سے 2017 کا سفر شایدغیر معمولی نہ رہا ہو۔ مگر جب2017کا موازنہ 2013سے کرتے ہیں، اللہ کا شکر ادا نہ کرنا کفران نعمت ہی، ’’لئن شک تم لازید نکم‘‘۔
آخر2014میں ریاست پر کیا افتاد آن پڑ ی کہ سیاست کو کڑی سزا دینے کی ٹھان لی ؟ اپریل2014 سے شروع سفر، نا ختم ہونے کو۔ آج ریاست پھر سے بند گلی میںپھنس چکی۔ ادارے اور سیاست آمنے سامنے، ہر ایک دوسرے کومورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ نواز شریف بمع سیاست نااہل ہو چکے مگر ریاست ہے کہ بحال ہو نہیں پا رہی۔ پاکستان کی بد نصیب تاریخ،میں 1954سے طاقت کو عدلیہ نے ہنسی خوشی اپنی خدمات دیں۔ مارشل لا، نیم مارشل لا، سویلین مارشل لا ہر کیفیت اور صورت ماضی کی عدلیہ نے بغیر پس و پیش اپنی خدمات حاضر رکھیں۔ عدلیہ قصور وار اس لئے بھی نہیں کہ طاقت کا مقابلہ آئین کی طاقت سے ممکن نہیں کہ ’’کاغذ کی گٹھری‘‘ نے کیا مقابلہ کرنا تھا، ڈھیر رہی۔ کچھ مختلف نہیں ،تین سالوں سے، عمران خان، قادری، شیخ رشید ریاست بچانے کے لئے میدان میں اتارے گئے۔ پابند میڈیا، مالی وسائل، توپ و تفنگ سے لیس۔ مقابلے میں، نواز شریف کے پاس تو ’’غلیل‘‘( جس سے دھرنے دوران مبینہ طور پر ایس پی جونیجو کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی) بھی نہ تھی۔ نواز شریف یا کسی بھی سیاستدان کی طاقت، سیاست میں مضمر، اس کا ووٹر سپورٹر اور عام آدمی ہی توہے۔ آفرین کہ عام آدمی آزمائش کی گھڑی میں نواز شریف سے جڑ چکا۔ NA120 کی جیت نے یہی کچھ رقم کیا۔ جی ٹی روڈ کی ریلی اورNA120 بہت کچھ بتا گئیں۔
ازل سے طاقت ،عوام سے خوف کھاتی ہے۔ نواز شریف نے اگر اپنی طاقت کوپھرول، ٹٹول، سنبھال لیا تو کوئی ان کا بال بیکا بھی نہیں کر سکے گا۔ جیلیں، ریلیاں آج تک کسی سیاست کا کچھ نہیں بگاڑ پائیں، نوازشریف کا کیا بگاڑ پائیں گی۔ جتنی جلدی جیل جائیں گے، اتنی جلدی سیاست توانائی پکڑے گی۔ سوال جڑا، مغربی سرحدوں پر امریکی تیار حالت فوج کی موجودگی میں کیا ریاست موجودہ بحران کی متحمل ہو پائے گی؟ اس کا ان لوگوں کو بھی سوچنا ہے جو یک نکاتی GET NAWAZ ایجنڈہ لے کر نکلے ،ن لیگ کو توڑنے کی دھن، سرتوڑ کوشش جاری ہے۔NRO کی پیشکش پتہ دیتی ہے کہ ’’ریاست بچائو‘‘ اسکیم پھنس گئی ہے۔ کاش یہ بھی معلوم ہوپاتا، NRO آفر کون کر رہا ہے؟ اتنا بتا دیں،عمران خان کی ڈوریں کس ایمپائرکے پاس تھیں؟
وطن عزیز کو NRO نہیں ،سسٹم بچائے گا۔نواز شریف کو باہر رکھ کر نتیجہ صفر رہے گا۔ ضرورت نواز شریف کو نہیں پاکستان کو ہے کہ ریاست بند گلی میں پھنس چکی ہے۔ ’’ریاست بچائو‘‘ کے خیر خواہ شاید یہ نہیں جانتے کہ جب ’’سیاست‘‘ معذور ومعزول رہے گی تو بیرونی خطرات میں گھری ریاست کا تیا پانچا ہوکر رہے گا۔ 70سال بیت چکے ،کبھی غور ہو گاکہ سیاست بچائو گے تو ریاست بچے گی کہ دونوں لازم و ملزوم ہیں، مگر چڑیوں کے کھیت چگنے سے پہلے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں