آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تین نومبر کو ترکی میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (آق پارٹی) کو اقتدار میں آئے ہوئے پندرہ سال مکمل ہو چکے ہیں۔ دنیا میں بہت ہی کم جماعتوں کو اپنے قیام کے تھوڑے ہی عرصے بعد اقتدار حاصل ہونے اور بغیر کسی وقفے کے مسلسل اقتدار میں رہنے کا موقع حاصل ہوا ہے۔ یہ جماعت 14اگست 2001ء میں رجب طیب ایردوان کی قیادت میں قائم کی گئی تھی اور اپنے قیام کے ٹھیک چودہ ماہ بعد تین نومبر 2002ء کےعام انتخابات کے نتیجے میں کلی اکثریت حاصل کرتے ہوئے طویل عرصے بعد ترکی میں تنہا حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہوئی۔ اس جماعت کو تشکیل دینے والے اراکین کا تعلق مرحوم نجم الدین ایربکان کی رفاہ پارٹی سے تھا جن کے ایربکان سے پارٹی پالیسی کی وجہ سے اختلافات ہوگئے تھے۔2000ء میں رفاہ پارٹی کو کالعدم قرار دئیے جانے کے بعد ایربکان سے اختلاف رکھنے والے ان تمام اراکین نے مذاکرات کے بعد ایک نئی جماعت تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ رجب طیب ایردان، عبداللہ گل، بلنت آرنچ، عبدالطیف شینر، جمیل چیچک، عبدالقادر آقسو اور حایتی یازیجی جیسی شخصیت نے اناطولیہ کے مختلف علاقوں کا دورہ کر کےعوام سے رابطہ قائم کیا اور نئی جماعت کے بارے میں ان کے خیالات سے آگاہی حاصل کی جس کے نتیجے میں 14اگست 2001ء کو قائم کی گئی۔ اس جماعت میں مرحوم نجم الدین ایربکان کی جماعت کے

اراکین کے علاوہ مرحوم صدر ترگت اوزال کی جماعت مدر لینڈ سے بھی بڑی تعداد میں اراکین نے شرکت کی اور اس طرح یہ جماعت دائیں بازو کی ایک سیکولر مگر مذہب سے گہرا لگائو رکھنے والی جماعت کے طور پر ابھری۔16اگست2001ء کو اس پارٹی کے پہلے عام کنونشن میں رجب طیب ایردوان کو پارٹی کا متفقہ طور پر چیئرمین منتخب کیا گیا۔ اس دور میں ملک میں برسر اقتدار مخلوط حکومت کی نالائقیوں کی وجہ سے بہت جلد جسٹس اینڈ ڈولپمنٹ پارٹی نے ملک میں مقبولیت حاصل کرلی اور تقریباً تمام ہی سروئیز میں آق پارٹی ہی کو ملک کے عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے سے آگاہ کیا گیا۔ اس طرح پارٹی کے قیام کے چودہ سال بعد ہی آق پارٹی نے 3نومبر 2002ء کو ہونے والے عام انتخابات میں 29:34 فیصد ووٹ کے تناسب سے تنہا حکومت تشکیل دینے کا مینڈٹ حاصل کرلیا۔ برسر اقتدار آنے کے فوراًبعد ملک کی خراب اقتصادی صورتِ حال کو بہتر بنانے کا بیڑہ اٹھانے والی آق پارٹی نے اقتصادی میدان میں کئی ایک معجزے کر دکھائے، ملک میں کرنسی کی قدروقیمت کو بہتر بنانے کے لئے لیرے سے چھ صفر ختم کرتے ہوئے ترکی کی اقتصادی تاریخ میں ناممکن کو ممکن کر دکھایا اور افراطِ زر کی شرح جو ڈیڑھ سو فیصد سے بھی زائد تھی کو تھوڑے ہی عرصے میں نیچے لاتے ہوئے عوام کی ہمدردیاں حاصل کرلیں اور 2004 میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں 42فیصد ووٹ حاصل کر کے ترکی کے تقریباً تمام ہی بڑے اور دیگر شہروں میں بھی کامیابی حاصل کر کے ملک میں بلدیاتی سطح پر بھی اپنی گرفت مضبوط کرلی۔
آق پارٹی کے کامیابی حاصل کرنے کے بعد ملک میں سیکولرازم اور خارجہ پالیسی کے بارے میں نئے سرے سے نہ ختم ہونے والا بحث و مباحثے کا سلسلہ شروع ہوگیا جو دیکھتے ہی دیکھتے حزب اقتدار اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے درمیان چپقلش کا باعث بنتا چلا گیا اور ملک بھر میں ’’ڈیموکریسی‘‘ کے حق میں ملین مارچ کئے جانے لگے اور عبداللہ گل کو صدر کے عہدے کے لئے منتخب کروانے کی آق پارٹی کی کوششوں کو نقصان پہنچایا جانے لگا، اس کوشش میں فوج بھی شامل ہوگئی اور 27اپریل کو فوج کی جانب سے جاری کردہ اعلامیئے میں برسر اقتدار آق پارٹی کو نشانہ بنانے اور سیکولرازم کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا گیا۔ 2007ء کے عام انتخابات میں بھی آق پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کرتے ہوئے ملک میں نام نہاد سیکولرازم کے حق میں جاری مہم کو تیز تر کردیا گیا اور2008میں آق پارٹی کوسیکولرازم کی خلا ف ورزی کرنے کے الزام میں کالعدم قرار دیئے جانے سے متعلق آئینی عدالت سے رجوع کیا گیا۔ 2009ء کے بلدیاتی انتخابات میں آق پارٹی نے39فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے ملک کے زیادہ تر شہروں میں اپنی حاکمیت کو قائم رکھا۔17دسمبر 2013ء کو غیرمتوقع طور پر آق پارٹی کے وزیراعظم اور متعدد وزرا پر بد عنوانیوں اور رشوت لینے کا الزام لگا کر حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کی گئی لیکن شواہد اور ثبوت نہ ہونے کے باعث یہ کوشش ناکام ہوئی۔ 30مارچ 2014ء کے بلدیاتی انتخابات میں آق پارٹی نے 45 فیصد ووٹ حاصل کر کے اپنی پوزیشن پہلے سے بھی بہتر کرلی اور پھر 10اگست 2014ء کو ملک کی تاریخ میں پہلی بار عوام کے براہ راست ووٹوں سے صدارتی انتخابات میں رجب طیب ایردوان نے آق پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے پہلے ہی رائونڈ میں 8:51فیصد ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی اور آق پارٹی نے احمد داؤد اولو کو پارٹی کا نیا چیئرمین منتخب کر کے وزارتِ عظمیٰ کے اختیارات سونپ دئیے۔ احمد داؤد اولو نے یہ فرائض24مئی 2016ء تک سرانجام دئیے، ان کے مستعفی ہونے کے بعد 2016ء کو آق پارٹی کے عام کنونشن میں بن علی یلدرم کو آق پارٹی کا چیئرمین منتخب کیاگیا، انہوں نے وزارتِ عظمیٰ کے اختیارات سنبھال لئے جو 2019تک ملک میں صدارتی نظام پر عمل درآمد شروع ہونے تک اقتدار میں رہیں گے۔ اس دوران 15 جولائی 2016ء کو آق پارٹی کا تختہ الٹنے کی کوشش امریکہ میں قیام پذیر فتح اللہ گؤلن کی تنظیم ’’فیتو‘‘ نے کی جسے فوج کے کچھ حصے کی بھی حمایت حاصل تھی لیکن آق پارٹی کے تمام سیاسی رہنماؤں اور عوام نے سڑکوں پر نکل کر اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر ٹینکوں کے آگے لیٹ کر اور طیاروں کی بمباری کی پروا کئے بغیر اس کو ناکام بنادیا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ترکی میں تختہ الٹنے کی کوششوں کے دروازے بند کردئیے۔ آق پارٹی نے پارلیمنٹ میں نئے صدارتی نظام کے لئے منظور کردہ قوانین کے تحت 2019ء میں ملک میں پارلیمانی نظام کو ختم کرتے ہوئے صدارتی نظام پر عمل درآمد شروع کردیا جائے گا۔ 2019 میں ہونے والے صدارتی انتخابات آق پارٹی کے لئے بڑی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ ان انتخابات میں آق پارٹی کے امیدوار کی کامیابی کی صورت میں ملک میں صدارتی نظام کو جاری رکھا جاسکے گا جبکہ ناکامی کی صورت میں (جس کے امکانات فی الحال دکھائی نہیں دیتے ہیں) ملک میں صدارتی نظام کو مسترد کر کے نئے سرے سے پارلیمانی نظام پر عمل درآمد کئے جانے کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔ آق پارٹی نے ملک میں صدارتی نظام متعارف کرا کر دراصل ری پبلیکن پیپلز پارٹی کے اقتدار حاصل کرنے کے تمام دروازے مکمل طور پر بند کردئیے ہیں۔ ری پبلیکن پیپلز پارٹی کا کوئی بھی صدارتی امیدوار جسے اگر صرف اپنی پارٹی ہی کی حمایت حاصل ہو تو 25فیصد سے زائد ووٹ حاصل نہیں کر سکتا ہے اس لئے صدر ایردوان کا مقابلہ کرنے کے لئے دائیں بازو ہی کے امیدوار کو میدان میں اتارا جائے گا اور اس امیدوار کے لئے ری پبلیکن پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ آق پارٹی نے یوں ری پبلیکن پیپلز پارٹی کے اقتدار حاصل کرنے کے تمام دروازے کمال ہوشیاری سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کردئیے ہیں اور اب ری پبلیکن پیپلز پارٹی کے لئے اقتدار حاصل کرنے کے لئے اپنی پارٹی پالیسی پر نظر ثانی کرنے اور بائیں بازو کی طرف جھکاؤ ختم کر کے دونوں بازئووں کے بین بین اپنی حیثیت منوانے کی ضرورت ہوگی یا پھر عوامی ٹرینڈ کو دائیں جانب سے موڑتے ہوئے بائیں جانب موڑنے کی ضرورت ہوگی۔ یاد رہے ترکی میں 75فیصد عوام کا رجحان دائیں بازو کی جانب ہے جس کو تبدیل کرنے کے لئے وقت درکار ہوگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں