آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) نے بدر ایکسپو کے اشتراک سے 26 سے 29 اکتوبر تک کراچی میں پاکستان انٹرنیشنل ٹریڈ فیئر PITF2017 کا انعقاد کیا جس کا افتتاح کرتے ہوئے صدر مملکت ممنون حسین نے نمائش کو ملک کی گرتی ہوئی ایکسپورٹس میں اضافے کیلئے کو ایک اچھا قدم قرار دیا۔ نمائش میں 300 سے زائد ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں نے حصہ لیا جن میں 200 کمپنیاں پاکستانی اور 100 کمپنیاں غیر ملکی تھیں جن میں چین، ایران، ملائیشیا، روس، ترکی، متحدہ عرب امارات، جنوبی کوریا، انڈونیشیا، بیلاروس، جاپان اور دیگر ممالک کی کمپنیاں شامل تھیں۔ نمائش میں تعمیرات، ٹائلز، فرنیچر، سینیٹری، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، فیشن ملبوسات، الیکٹرونکس، متبادل بجلی کے آلات اور خدمات کے شعبے شامل تھے۔ نمائش کے دوسرے روز سی پیک پر ایک اہم کانفرنس منعقد کی گئی جس کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر داخلہ و منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال تھے جبکہ کانفرنس میں میرے علاوہ وزارت منصوبہ بندی میں سی پیک کے پروجیکٹ ڈائریکٹر حسن دائود بھی شریک تھے جو اسلام آباد سے خصوصی طور پر آئے تھے۔
دیگر اسپیکرز میں بزنس کمیونٹی کے لیڈر ایس ایم منیر، حبیب میٹروپولیٹن بینک کے صدر سراج الدین عزیز، تحریک انصاف کراچی کے صدر فردوس شمیم نقوی، آئی بی اے کے

پروگرام ڈائریکٹر ڈاکٹر ناصر افغان، بدر ایکسپو کے زوہیر نصیر، فیڈریشن کے حنیف گوہر، بلوچستان اکنامک فورم کے سردار شوکت پوپلزئی، ٹی سی ایس کے چیئرمین خالد اعوان اور چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کے سربراہ شہزاد سلطان شامل تھے۔ صدر پاکستان سیکورٹی اقدامات کے تحت نمائش کا افتتاح کرنے کے بعد سفارتکاروں اور معزز شخصیات سے مل کر واپس چلے گئے اور گورنر سندھ محمد زبیر نے تقریب کی صدارت کی۔ افتتاحی تقریب میں کراچی میں مقیم سفارتکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اسٹالوں کا دورہ کیا۔
سی پیک پر منعقد کی گئی کانفرنس میں میری پریذنٹیشن سے پہلے تحریک انصاف کراچی کے صدر فردوس شمیم نقوی نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے سی پیک کے منصوبوں پر اپنے خدشات و شدید تحفظات پیش کئے جو کسی بھی صورت قومی مفاد میں نہیں تھے لہٰذامیں نے اور سراج الدین عزیز نے اپنی پریذنٹیشن میں اسپیکرز کو مشورہ دیا کہ وہ قومی نوعیت کے ایسے اہم منصوبوں پر سیاست کرنے کے بجائے اسے جذباتی سیاسی بیانات سے دور رکھیں۔
میں نے شرکاء سے اپنے گزشتہ کالم جس میں موجودہ معاشی بحران کے پیش نظر کچھ معیشت دانوں نے سی پیک منصوبوں پر بلاجواز تنقید اور خدشات کا اظہار کیا تھا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے سابق مشیر قیصر بنگالی نے حال ہی میں سی پیک کو ’’گیم چینجر‘‘ کے بجائے ’’گیم اوور‘‘ اور ملکی معیشت کو ’’کیسینو اکانومی‘‘ کہا ہے جس میں لوگ صنعتکاری کے بجائے رئیل اسٹیٹ اور اسٹاک مارکیٹ میں کم وقت میں زیادہ منافع حاصل کرنے کیلئے سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر سکڑ رہا ہے جبکہ سروس سیکٹر تیزی سے فروغ پارہا ہے اور پاکستان امپورٹس کے فروغ سے ’’ٹریڈنگ اسٹیٹ‘‘ بنتا جارہا ہے۔ قیصر بنگالی کے مطابق پاکستان نے سی پیک کیلئے جامع فزیبلٹی رپورٹ بنائے بغیر چین کو خود مختار (Sovereign)حکومتی گارنٹیاں دیں۔ انہوں نے سی پیک کے منصوبوں کیلئے بلاامتیاز ٹیکس اور ڈیوٹی کی چھوٹ پر اعتراض کیا جو مقامی صنعت کو غیر مقابلاتی بنادے گی۔ ان کے بقول پاک چین فری تجارتی معاہدے سے پاکستان کے بجائے چین کو فائدہ ہوا ہے۔اس موقع پر میں نے شرکاء کو سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین جو عالمی بینک کیلئے چین کے چیف اکانومسٹ رہے ہیں،کے حالیہ آرٹیکل کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے چینی معیشت دانوں اور سرمایہ کاروں کی ہمارے سی پیک منصوبوں پر شکوک و شبہات پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔
میں نے شرکاء کو بتایا کہ ہمیں سی پیک پر بغیر سوچے سمجھے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ یہ بیانات چینی سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی کرسکتے ہیں۔ میں نے وضاحت کی کہ سی پیک میں مجموعی سرمایہ کاری چینی قرضے نہیں بلکہ 46 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری میں 34 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری توانائی منصوبوں اور 12 ارب ڈالر انفرااسٹرکچر اور گوادر کی تعمیر و ترقی کیلئے ہیں جو بڑھ کر اب 56 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ انرجی کے34 ارب ڈالر کے منصوبے میں پاکستان کے نجی شعبے اور چینی کمپنیوں کا اشتراک ہے جن کی فنانسنگ چینی اور بین الاقوامی بینک کررہے ہیں جن سے مجموعی 16000 میگاواٹ اضافی بجلی پیدا ہوگی جس میں مارچ 2018 تک Early Harvest منصوبوں سے 10,000 میگاواٹ اور بقایا 2030ء تک طویل المیعاد منصوبوں کی تکمیل سے حاصل ہوگی۔
حکومت پاکستان نے ان منصوبوں سے پیدا کی گئی بجلی خریدنے کی گارنٹی دی ہے جس میں سرمایہ کاروں کو سرمائے پر تقریباً 17 فیصد پرکشش منافع حاصل ہوگاجبکہ چین نے حکومت پاکستان کو انفرااسٹرکچر منصوبوں کیلئے 12 ارب ڈالر ECA کریڈٹ 2 فیصد سود پر قرضہ فراہم کیا ہے۔ پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی کی مد میں تقریباً 3 ارب ڈالر سالانہ ادا کرنا ہوں گے لیکن ملک میں انرجی کا بحران ختم ہونے اور اسپیشل اکنامک زونز (SEZs) کے نئے منصوبوں سے پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ میں تقریباً 1.5 فیصد سالانہ اضافہ متوقع ہے اور جس سے پاکستان 6 سے 7 فیصد اونچی گروتھ حاصل کرنے والے ممالک میں شامل ہوجائے گا۔ پاک چین اقتصادی راہداری خطے کے ممالک کیلئے ایک معاشی پل کا کردار ادا کرے گی اور چین کو خطے میں سیکورٹی استحکام بھی حاصل ہوجائے گا جس پر امریکہ اور بھارت خوش نہیں۔ ملکی اور علاقائی مفادات کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی سول و ملٹری قیادت، تمام سیاسی جماعتیں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز پاک چین اقتصادی راہداری کو کامیاب بنانے کیلئے متفق ہیں۔ سی پیک کسی ایک سیاسی جماعت یا صوبے کا نہیں بلکہ پاکستان اور خطے کا گیم چینجر منصوبہ ہے جس میں اب وسط ایشیائی ممالک کے علاوہ روس، ایران اور ترکی بھی شامل ہونا چاہتے ہیں۔اس موقع پر میں نے وفاقی وزیر احسن اقبال اور کانفرنس میں موجود حکومتی نمائندوں کو تجویز دی کہ مقامی صنعتوں اور مزدوروں کے تحفظ کیلئے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں میں ایسے سیفٹی وال لگائے جس سے چین سے خام مال کی ڈیوٹی فری سستی امپورٹ سے پاکستان کی مقامی صنعتوں کو نقصان نہ پہنچے۔ سی پیک کے منصوبوں میں زیادہ سے زیادہ مقامی لیبر استعمال کیا جائے تاکہ ملک میں بے روزگاری میں کمی آئے جبکہ مقامی صنعت کو مقابلاتی رہنے کیلئے سی پیک منصوبوں کی طرح ٹیکس مراعات دی جائیں۔ میں قارئین کو یہ بات واضح کرتا چلوں کہ چین میں مزدوروں کی اجرتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور پاکستان کے مقابلے میں چین میں اجرتیں کئی گنا زیادہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ چین اپنی ایسی صنعتیں جس میں زیادہ مزدور درکار ہیں، سستی لیبر کی وجہ سے پاکستان منتقل کرنا چاہتا ہے لہٰذا ہمارا یہ خوف کہ چین سی پیک منصوبوں کیلئے چینی مزدور لائیں گے، بلاجواز ہے۔
نمائش کے آرگنائزرز نے آخری روز ایک گرینڈ فیشن شو منعقد کیا جس میں ملک کے ممتاز فیشن ڈیزائنرز اور ماڈلز نے حصہ لیا اور خوبصورت پاکستانی برائیڈل ملبوسات پیش کئے جسے شرکاء نے نہایت پسند کیا۔ میں PITF2017 کے آرگنائزرز بدرایکسپو کے زوہیر نصیر، احتشام باری اور فیڈریشن کے حنیف گوہر کو کامیاب نمائش منعقد کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ کراچی میں 9 سے 12 نومبر بین الاقوامی نمائش ’’ایکسپو پاکستان 2017ء‘‘ اور دسمبر میں دفاعی نمائش ’’آئیڈیاز 2017ء‘‘ منعقد ہورہی ہے جو کراچی میں امن و امان کی بہتر صورتحال کی غمازی کرتی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں