آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فیض کی برسی کی مناسبت سے فیض کے بہت سارے شعر، نظمیں اور مصرعے آج کے پاکستان کو دعوتِ فکر دیتے محسوس ہوتے ہیں۔آج جب دنیا کے وسائل اورمال ودولت پرایک فیصد لوگوں کی اجارہ داری ہے تو 99فیصد معاشی ،معاشرتی ،سیاسی اور سماجی غرضیکہ کسی نہ کسی حوالے سے استحصال کا شکار ہے۔اسی طرح دُنیا پر دوقسم کے ٹھیکیداروں کی حکمرانی ہے۔پہلی قسم اُن کی جن کی جیب معیشت کے سکّوں سے بھری ہوئی ہے۔وہ اُن کی چکا چوند سے دیگر تمام حلقوں کو بھی اپنا ہمنوا کرلیتے ہیں۔ایک روپے کی شے میں بھی اُن کا حصہ شامل ہوتاہے۔دوسرے وہ جو مُلّا،پنڈٹ ،قاضی اور فادر کا چولا پہن کر لوگوں کے عقائد سے کھیلتے ہیں۔ معیشت یہاں بھی شامل ہے۔مگر اس کا رنگ مختلف ہے۔ان دو انتہائوں کے جبرمیں پھنسی خلقت کے درد کوسمجھنے والے انسانی حقوق کے علمبردار کہلاتے ہیں۔جوکسی طبقے کے مفادات کوٹھیس نہ پہنچاتے ہوئے (چونکہ وہ ایسا کرہی نہیں سکتے )کیڑوں مکوڑوں کی طرح روندے جانے والوں کے لیے اک آسرے کی چھت ،دووقت کی روٹی ،جینے کا حق اور زندگی کا وقار طلب کرتے ہیں۔انھی میں فیض کا نام آتاہے جو پاکستان کے لکھنے والوں میں سرِفہرست ٹھہرتے ہیں۔خود اچھی زندگی اور اچھے ماحول میں پرورش کے باوجود اُن کے شعور نے اُنھیں استحصال زدہ طبقے کے زخمی احساسات کا ترجمان بننے

پرمجبورکردیا۔باطن اور شعور کی آواز سننے والے باطل سے سمجھوتا نہیں کرسکتے ۔وہ حق بات کہنے پرقادر ہوتے ہیں۔فیض بھی تمام عمر معاشرے کا عکس قلم بندکرتے رہے۔پرانی بیماریوں کی تشخیص کرکے لوگوں کو صحت مند معاشرے کے حصول کے لیے آواز دیتے رہے۔گزشتہ صدی میں فیض نے نظم ’’بول کہ لب آزادہیں تیرے‘‘ لکھی جو 99فیصد لوگوں کو اپنے حقوق کے لیے آواز اُٹھانے کی ترغیب دی۔ شخصیات کی پسند ناپسند کی بجائے قانون کی حکمرانی کو رائج کرنے کا درس دیا۔معاشی اور سماجی غلامی کا طوق اتار پھینکنے کا حوصلہ کرنے کی بات کی۔ اپنے آپ سے انسان ہونے کی گواہی لے کرانسانیت کے وسیع تر کنبے سے جڑنے کا مشورہ دیا۔آج بھی ہمارے درمیان فیض کی فکرسے مطابقت رکھنے والے کثیر تعداد میں موجودہیں،وہ سوچتے ضرورہیںمگربولتے نہیں۔اُن کی خاموشی کی وجہ سے ایک فیصد لوگ ملک اور عوام کے ترجمان بن گئے ہیں مگر مخصوص لابیوں سے تعلق رکھنے والے کچھ ماہرین اور تجزیہ نگار بولنے میں اتنے آزاد ہیں کہ انھوں نے عدالت ،قانون اور دیگر اداروں کے اختیارات بھی استعمال کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ وہ صرف اظہارِ خیال کرتے ہیں نہ اپنے نظریات کا پرچار بلکہ اپنی توقعات کو حقیقت بنا کرپیش کرتے ہیںاوردوسروں سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ بھی اُن کی پیروی کریں۔وہ دوسروں کے ذہن پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیںاس لیے بغیر کسی خبر کے بھی مفروضے قائم کرلیتے ہیں۔ان میں ہرکوئی عقلِ کل ہے اور چاہتا ہے کہ باقی سب اس کے سچ کو تسلیم کریںاور جو تسلیم نہ کرے وہ ہر قسم کی سنگساری کا مستحق ہے۔دنیا کو چھوڑیں پاکستان کی بات کریں۔آج کا پاکستان مختلف افواہ ساز کمپنیوں کی تحویل میں ہے۔موسمی دھند تو چھٹ گئی ہے مگر سیاسی دھند بڑھتی جا رہی ہے۔اندازے لگانے والوں کی فکرمریخ تک پہنچ گئی ہے جہاں سے وہ دنیا کا عجیب منظر نامہ پیش کر رہے ہیں ۔
اسلام آباد پر مہیب دحشت کے سائے لرزاں ہیں۔کیونکہ اس شہر کا تاریخ میںکوئی خاص ذکر اور حیثیت نہیں اس لیے تاریخ میں اس کے اندارج کے لیے بار بار اس پریلغار کی جاتی ہے۔جب سے یہ شہرتعمیر ہوا ہے حکومت کرنے کی بجائے محکوم رہنے پر مجبور ہے۔ نصف صدی سے طویل سیاسی جدوجہد کے باوجود ابھی تک مفتوح کی حیثیت سے چھٹکارا پانے میں ناکام ہے۔ہمیشہ ہاتھ باندھے کھڑا رہتا ہے اور سرنڈر کرنے میں عافیت محسوس کرتا ہے ۔آجکل بھی ایک متبرک دھرنے کے حصار میں ہے۔نئی نئی گالیوں سے نئی نسل کی شناسائی اور تربیت کا عمل جاری ہے۔وہ نبی ﷺ جن کی رحمت کا دائرہ کُل عالم پر محیط ہے کے نام پرکچھ لوگوںنے اپنے ہی ہم وطنوں کا جینا دوبھرکررکھا ہے حالانکہ کے کسی بھی معاملے میں اُنکا کوئی قصور نہیں۔ 97 فیصد مسلمان آبادی والے ملک میں بھلا ختمِ نبوت کے حوالے سے کوئی غلط قانون کیسے بن سکتا ہے لیکن لکھنے پڑھنے میں نا دانستہ غلطی ہوسکتی ہے جس کی تصحیح کردی جاتی ہے اور اب بھی کردی گئی ہے۔اُس کے بعد ایسے دھرنوں کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔اگر یہ ابھی تک جاری ہے تو اُس کی وجہ 99 فیصد لوگوں کی خاموشی ہے جو خود بہ خود مطلع اور راستے صاف ہونے کے منتظر ہیں۔ان میں سے اکثریت کو فتووں اور غداری کے سرٹیفکیٹوں کے خوف نے ذات کے قلعے میں محصور ہونے پرمجبور کیاہواہے اور کچھ ویسے ہی اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ ایک فیصد لوگ جنہیں بولنے کی کھلی چھوٹ ہے میں سے نوے فیصدمنفی پراپیگنڈے کر رہے ہیںجب کہ سیاسی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک دوسرے کو چِت کرنے میں مصروف ہے ۔اگراکثریت نے اسی طرح خاموشی کی چادر تانے رکھی تو ایک ایک کرکے نشانہ بننے کا عمل جاری رہے گا۔ ہم جو عوام ہیں،جو اکثریت ہیںکے ہاتھ میں فیصلے کی ڈور ہونی چاہیے۔ایک فیصد لوگوں کو ملک کا ترجمان بننے سے روکنے کے لئے ہمیں اپنی آواز بلند کرنی پڑے گی۔
صرف سننے اور حکم بجا لانے کے ساتھ ساتھ اپنے دماغ کو بھی سوچنے اور لبوں کو اظہار کا موقع دینا ہو گا۔ فیض فائونڈیشن نے ’’جنگ‘‘ اور ’’جیو‘‘ کے تعاون سے فیض کی فکر کو عام کرنے کے لیے فیض کی برسی پر فن و ثقافت کے دلفریب پروگرام منعقد کرکے لوگوں کی اخلاقی اور جمالیاتی تربیت کرنے کا خوبصورت اہتمام کیا۔ایک گھٹن زدہ معاشرے میں اس طرح کی سرگرمیاں خیر کی عملی تبلیغ کے مماثل ہوتی ہیں جو لوگوں کی شخصیات میں جمالیاتی پہلو کو اجاگر کرکے معاشرے کو پُرامن اور خوبصورت بنانے کی سعی کرتی ہیں۔ باقی اہلِ فکر و دانش کو بھی متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ استحصال زدہ طبقے کی سربراہی کا عَلم تھامنے والے کو کتابیں تلاش کر رہی ہیں۔ ویسے تعلیم اور ترقی کے اس جدید دور میںجمہور کو اپنے حقوق کا شعور خود بھی ہونا چاہئے۔ ایسا نہ ہو اس دور کا شاعر بھی فیض کی طرح نظم ’’کتے ‘‘لکھنے پر مجبور ہوجائے۔آئیے سب سے پہلے اسلام آباد کا صدقہ دیںتاکہ اس پر چھائی ہوئی دھند ختم ہو۔ پاکستان تبھی خودمختار ملک کہلائے گا جب اسلام آبادکی سیاسی حکومت اپنے فیصلے قانون کی روشنی میں کرنے میںآزاد ہو گی۔ دنیا میں اپنی پہچان بہتر کرنے کے لئے تمام طبقہ ٔ فکر کو عقلِ کُل بننے کی بجائے دلائل سے اپنی بات ثابت کرنے کو رواج دینا ہوگا اور نظریاتی اختلاف کو دشمنی سے تعبیر کرنے کی روش ترک کرنی ہوگی ورنہ لوگ ہمیں پتھر کی دنیا سے تعبیر کرتے رہیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں