آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کئی دنوں کی کوششوں، معاہدوں اورشرائط کے بعد بالآخر اسلام آباد میں جاری لبیک یا رسول اللہ کا دھرنا اختتام پذیر ہو گیا۔ دھرنے میں علماء کرام نے ختم نبوت بل میں ترمیم جیسے مذموم عمل کو آڑے ہاتھوں لیا، مختلف نعت خواں حضرات بارگاہِ رسالت میں ہدیہ نعت پیش کرتے رہے، گاہے گاہے نعروں اور خطابات سے دھرنے کا پنڈال گونجتا رہا، کبھی دھرنے کے انچارج مولانا خادم حسین رضوی کی رقت آمیز آواز سنائی دی اور کبھی کبھار اُن کے لہجے کی کرختگی کچھ نازیبا اور سخت الفاظ کو جنم دیتی رہی۔ حکومتی احکامات کے پیشِ نظر دھرنے کے شرکاء پرتشدد اور کہیں شہادتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں جبکہ کچھ شرکائے دھرنا گرفتار بھی ہوئے۔ دھرنا پارٹی کا موقف انتہائی جاندار تھا، ایسا موقف کہ پاکستان کا ہرمسلمان مر مٹے، جس کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد کے علاوہ بھی کئی شہروں میں مظاہرے ہوئے، وفاقی وزیر زاہد حامد اور سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کے گھروں کا گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی گئی، شیخوپورہ کے ایم این اے میاں جاوید لطیف کو اُن کے ڈیرے پر جا کر ختم نبوت کے متوالوں نے زخمی کیا ۔فیصل آباد میں صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے ڈیرے پر دھاوا بولا گیا لیکن موجود نہ ہونے کی وجہ اور بے شمار پولیس ملازمین کی بروقت

مداخلت سے موصوف وزیر بال بال بچ گئے۔ کوئی بھی مسلمان ختم نبوت بل میں کسی قسم کی ترمیم کو برداشت نہیں کر سکتا کیونکہ ہمارے ایمان کے مطابق نبی اکرم ﷺ آخری نبی ہیں اور ایسا نہ ماننے والا کافر ہے، قادیانی اور لاہوری احمدی گروپ اِسی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہیں، ختم نبوت بل میں ترمیم کے راز سے جب پردہ اُٹھا تو پاکستان میں شور بپا ہوا، جس کے جواب میں قومی اسمبلی سے اعلان جاری ہوا کہ کچھ شر پسند اِس معاملے کو ہوا دے رہے ہیں ایسا کچھ نہیں کیا گیا پاکستانی عوام ہم پر یقین کریں، وزیر قانون کو ختم نبوت بل میں ترمیم کا مجرم تصور کیا جا رہا تھا، انہوں نے ویڈیو کلپ میں عوام الناس کو یقین دلایا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں اور آپ ﷺ پر اپنی جان قربان کر سکتے ہیں، اِس کے باوجود شور تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا، جب حکومتی ایوانوں میں یہ شور پہنچا تو سب کو فکر لاحق ہوئی کیونکہ چوری پکڑی جا چکی تھی، عافیت اِسی میں سمجھی گئی کہ عوام کی بات مانتے ہوئے ختم نبوت بل میں کی جانے والی ترمیم کو واپس لے کر بل کو اصل حالت میں لایا جائے، جب حکومتی نمائندوں نے اعلان کیا کہ ہم ترمیمی بل کو اصل حالت میں لے آئے ہیں جس سے ثابت ہو گیا کہ ختم نبوت بل میں ترمیم کی گئی تھی، مولانا خادم حسین رضوی کی قیادت میں نبی کے متوالے اسلام آباد میں دھرنا دے کر بیٹھ گئے تاکہ وفاقی وزیر زاہد حامد کا استعفیٰ لیا جا سکے، اگر وفاقی وزیر قانون بے قصور ہے تو پھر قصور وار سامنے لائے جائیں، خواجہ سعد رفیق نے اس معاملے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ زاہد حامد کا کوئی قصور ہی نہیں تو وہ استعفیٰ کیوں دیں؟ وہ کبھی بھی استعفیٰ نہیں دیں گے۔ ایسی ہی کچھ گیدڑ بھبکیاں مزید وزراء اور ممبرز صوبائی اور قومی اسمبلی کی جانب سے سامنے آئیں تاکہ اپنے قائدین کو خوش کیا جا سکے۔ حکومتی آپریشن شروع ہوا آنسو گیس کے شیل، ڈانگ سوٹے اور جسمانی تشدد کے باوجود دھرنا ختم نہ کرایا جا سکا تو مذاکرات کے ادوار کا آغاز ہوگیا، حکومت نے کہا کہ دھرنے والوں کو اُٹھانے کا حکم عدالت نے دیا ہے اِس لئے ہم مجبور ہیں، یہ حکومتی نمائندے اُسی عدالت کے حکم کا ذکر کر رہے ہیں جس عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نا اہل کیا مگر یہ ’’اُس حکم کو نہیں مانتے۔ محترمہ مریم صفدر اور نااہل وزیراعظم ملکی عسکری اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے آ رہے ہیں، لیکن دھرنے کو اُٹھانے کے لئے ان کے وزرا نے اُسی پاک آرمی کی خدمات مانگنے میں غنیمت جانی، اخلاقی طور پرناکام موجودہ حکومت
دھرنے والوں کی تمام شرائط مان گئی، دھرنے کے گرفتار بھی چھوڑنے پڑے، زاہد حامد مستعفی ہوگئے، حکومت دھرنے والوں کے نقصانات بھی برداشت کرے گی، راجہ ظفر الحق رپورٹ 30دن میں سامنے لائی جائے گی، دھرنے والوں سے طے پانے والے معاہدے میں لکھا گیا ہے کہ یہ معاہدہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ اور اُن کی نمائندہ ٹیم کی کاوشوں سے طے پایا ہے۔ معاہدے کی کاپی پر مولانا خادم حسین رضوی، وزیر داخلہ احسن اقبال، وفاقی سیکرٹری داخلہ ارشد مرزا، پیر محمد افضل قادری اور محمد وحید نور کے ساتھ ’’بہ وساطت‘‘ میجر جنرل فیض حمید کے دستخط موجود ہیں۔ اب میں دھرنا دینے والوں سےکچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ ختم نبوت بل میں ترمیم ہوئی پھر وہ واپس ہوئی، زاہد حامد نے استعفیٰ دیا ،دھرنے میں اتنا زیادہ نقصان ہوا، بقول دھرنا انچارج لوگ شہید بھی ہوئے، اتنا کچھ ہونے کے باوجود دھرنا ختم کیوں کیا گیا؟ اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ حکومت نے تمام نقصانات اور اخراجات کا ازالہ کرنے کا وعدہ کر لیا ؟ اِس ترمیمی بل کی وجہ سے ظفر اللہ جمالی مستعفی ہوئے، دوسرے ممبران قومی اسمبلی کیوں نہیں؟ دھرنے والے شہید وں کے لواحقین کا نقصان کون ادا کرے گا؟ قادیانی بڑے عہدوں اور پاکستانی اداروں میں دندناتے پھرتے ہیں اُن کی روک تھام کیوں نہیں؟ ایک وفاقی وزیر کے استعفے سے ختم نبوت بل میں ترمیم جیسے جرم کی تلافی ہوگئی؟ ختم نبوت بل میں ترمیم اکیلے زاہد حامد نے نہیں کی تھی بلکہ وہ تمام ممبرز قومی اسمبلی جوختم نبوت بل میں ترمیم کی بحث میں شامل تھے اُن کے استعفوں کی بات کیوں نہ کی گئی؟ دھرنے والو :سن لو تمہیں اِس دھرنے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کو جواب دینا ہے، کیا یہ عشق نبیﷺ ہے کہ ساری کابینہ کا استعفیٰ مانگنے والے ایک وزیر کا استعفیٰ لے کر مطمئن ہوجائیں۔ دھرنا ختم کرنے اور اپنے گھروں کو لوٹنے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ دھرنے میں جو عاشقان ِ رسول ﷺ شہید ہوئے اُنہوں نے بھی اپنے گھروں کو لوٹنا تھا، کیا اچھا ہوتا کہ معاہدہ لکھتے وقت اُن شہیدوں کے بچوں کے مستقبل کی ضمانت تحریر کی جاتی۔
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمدؐ سے اُجالا کر دے

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں