آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍شعبان المعظم1439ھ 26؍اپریل2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
x

کئی دہائیوں بعد ایک بار پر پھر چاند پر انسانی مشن بھیجنے کا امریکی اعلان دنیا بھر میں بڑی توجہ سے سنا گیا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ چاند پر محض اپنے نشان ہی نہیں چھوڑیں گے بلکہ چاند پر مشن مریخ اور اس سے اگلی دنیاؤں میں انسانی مشن کی بنیاد بھی ہو گا۔ (زمین کے مسائل حل ہوں نہ ہوں ہم آسمانوں کو روندنے کی خواہش ضرور پوری کریں گے )
امریکی خلائی جہاز اپالوگیارہ نے 16جولائی 1969ء کو کینیڈی اسپیس سینٹر سے آسمانی سفر کا آغاز کیا تھااور صرف چار دن کے بعد اس راکٹ کے ساتھ جڑاہوا شاہین نامی کیپسول سطح ِ ماہتاب پراترا تھا۔ چاند کی سطح پر قدم رکھتے ہوئے خلابازنیل آرمسٹرونگ نے اپنے پہلےقدم کو انسان کی سب سے بڑی چھلانگ قرار دیاتھا۔چاند پرچہل قدمی کا یہ منظرکروڑوں لوگوں نے اپنے ٹی وی سیٹس پر براہ راست دیکھا تھا۔ انسان نے تقریباً ڈھائی گھنٹے چاند کی سرزمین کو جانچنے کی کوشش کی تصویریں بنائیں مٹی اور پتھروں کے مختلف نمونے جمع کئے۔ چاند کی سطح پر امریکی جھنڈا نصب کیا ۔وہاں ایک کتبہ بھی لگایا جس پر درج کیا گیا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سیارہ زمین سے آکر انسان نے پہلی مرتبہ قدم رکھا، اور جو پوری انسانیت کے لئے امن کا پیغام لے کر یہاں آیا۔
وہ لوگ جو آج تک تسلیم نہیں کرتے کہ انسان چاند پر گیا تھا ان کے

x
Advertisement

اعتراضات کی تفصیل بھی دلچسپ ہے۔ سب سے پہلی بات یہ کی گئی کہ ’’چاند تک پہنچنے کے لیے انسانوں کو وان ایلن ریڈیئشن بیلٹ (Van Allen radiation belts) سے گزرنا پڑتا ہے جو صحت کے لیے سخت خطرہ بن سکتی ہیں۔ زمین کے قریبی مداروں میں جانے کے لیے ان خطرناک تابکار بیلٹ میں سے نہیں گزرنا پڑتا۔ اس کے باوجود زمین کے بہت نزدیک خلائی مداروں میں جانے کے لیے انسان سے پہلے جانوروں کو بھیجا گیا تھا اور پوری تسلی ہونے کے بعد انسان مدار میں گئے۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ چاند جیسی دور دراز جگہ تک پہنچنے کے لیے پہلے جانوروں کو نہیں بھیجا گیا اور انسانوں نے براہ راست یہ خطرہ مول لے لیا۔‘‘
دوسرا اہم ترین اعتراض یہ سامنے آیا ہے کہ ’’چاند پر انسان کی پہلی چہل قدمی کی فلم کا سگنل دنیا تک ترسیل کے بعد slow scan television -SSTV فارمیٹ پر اینالوگ (Analog) ٹیپ پر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ان ٹیپ پر ٹیلی میٹری کا ڈیٹا بھی ریکارڈ تھا۔ عام گھریلو TV اس فارمیٹ پر کام نہیں کرتے اس لیے 1969ء میں اس سگنل کو نہایت بھونڈے طریقے سے عام TV پر دیکھے جانے کے قابل بنایا گیا تھا۔ اب ٹیکنالوجی اتنی ترقی کر چکی ہے کہ ایسے سگنل کو صاف ستھری اور عام TV پر دیکھنے کے قابل تصویروں میں بدل دے۔ جب ناسا سے SSTV کے اصلی ٹیپ مانگے گئے تو پتہ چلا کہ وہ ٹیپ دوبارہ استعمال میں لانے کے لیے مٹائے جا چکے ہیں اورناساآج تک اصلی ٹیپ پیش نہیں کر سکا ہے۔‘‘
تیسرا اعتراض بھی اہم ہے کہ چاند پر جانے اور وہاں استعمال ہونے والی مشینوں کے بلیو پرنٹ اور تفصیلی ڈرائنگز کہاں ہیں۔ ناسا آج تک اس بات کا بھی کوئی جواب نہیں دے سکا ۔معترضین کا خیال ہے کہ مشینوں کے بلیو پرنٹ سے ثابت ہو جائے گا کہ یہ چاند گاڑی وغیرہ سب فراڈ تھے یہ مشینیں اس قابل نہیں کہ چاند پر جا سکیں۔ ایک سوال یہ بھی اٹھایا گیا کہ امریکی پرچم جو چاند کی ویڈیوز میں لہرا رہا ہے۔ وہ کیسے لہرا سکتا ہے ۔چاند پر تو ہوا ہے ہی نہیں۔ 1994ء میں Andrew Chaikin کی چھپنے والی ایک کتاب A Man on the Moon میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ نے چاند پر جانے کاڈراما رچایا تھا۔اس ڈرامہ کی بازگشت دسمبر 1968ء میں سنی گئی تھی۔ اس کے خیال کے مطابق یہ NASA کا پہلا جھوٹ تھا اور جب کسی نے اس پر شک نہیں کیا تو امریکا نے پوری دنیا کو بے وقوف بناتے ہوئے انسان کے چاند پر اترنے کا یہ ڈراما رچایا اورجعلی فلمیں بنا کر دنیا کو دکھا دیں۔ آپولو 11جو 16جولائی 1969ء کو روانہ ہوا تھا درحقیقت آٹھ دن زمین کےمدارمیں گردش کر کے واپس آ گیا تھا۔ یہ پورا واقعہ امریکہ کی ریاست ایریزونا کے ایک صحرا میں فلمایا گیا۔یہ ڈرامہ خلائی تحقیق اور کامیابی کی دوڑ میں روس پر امریکی برتری ثابت کرنے کے لئے کیا گیا۔
ناسا نے ان تمام اعتراضات کے کئی مرتبہ جواب دئیے ہیں مگر معترضین مطمئن نہیں ہوئے اس وقت بھی بیس فیصد امریکی یہی سمجھتے ہیں کہ چاند پر جانے کا واقعہ دراصل امریکی ڈرامہ تھا ۔وہ سمجھتے ہیں اگر انسان چاند پر پہنچ چکا تھا تو اب تک تو وہاں کئی کالونیزبن چکی ہوتیں ۔آخر چاند پر جانے کا سلسلہ کسی معقول وجہ کے بغیر بند کیوں پڑا ہے۔ 1969ء میں انسان چاند پر اتر سکتا ہے تو اب اسے مریخ پر ہونا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہے۔ مریخ پرناسا نے ایک روبوٹ ٹائپ مشین ضرور بھیجی ہے مگر کسی خلاباز کو پچھلے چالیس سال میں کہیں نہیں بھیجا گیا نہ چاند پر نہ مریخ پر۔ کیوں۔ ڈاکٹر سعید اختر درانی برطانیہ کے وہ معروف سائنس دان ہیں جنہوں نے چاند سے لائی گئی مٹی پر ریسرچ کی تھی کبھی کبھی وہ بھی اس شک کا اظہار کرتے تھے کہ یہ کوئی ایسی مٹی نہیں ہے جس کا کبھی آکسیجن سےرابطہ نہ رہا ہو ۔ان اعتراضات کے باوجود میں یہی سمجھتا ہوں کہ انسان چاند پر جا چکا ہے اور صدر ٹرمپ نے جس نئے انسانی مشن کو چاند پر بھیجنے کا اعلان کیا ہے ۔وہ آسمانوں کی تسخیر میں ایک اہم قدم ہوگا۔ انسان اپنے ہمکتے ہاتھ سے ضرور چاند کو اپنی گرفت میں لینے پر کامیاب ہو جائے گا۔یہ الگ بات ہے کہ مسئلہ فلسطین و کشمیر زمین کی چھاتی پر کسی پھوڑے کی طرح سلگتے رہیں گے۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں