آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

منگل 19دسمبر یقینی طور پر پاکستان کے ایک تاریخی دن کے طور پر یاد کیا جائے گا، اس دن پاکستان کی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سینیٹ کے سارے ممبران پر مشتمل کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے ملک سے متعلق حساس ایشوز پر دو ٹوک انداز میں جو اعلانات کئے ہیں ان میں سے ہر اعلان تاریخی نوعیت کا ہے، سچی بات یہ ہے کہ گزشتہ کافی عرصے سے پاکستان میں جس نہج پر جاتی ہوئی صورتحال نظر آرہی تھی اس کے پیش نظر ملک کے اکثر سیاسی اور سویلین حلقوں میں ملک کے مستقبل کے بارے میں کافی بے چینی پیدا ہوگئی تھی اور کئی حلقے فکر مند تھے کہ پاکستان کی سیاسی، انتظامی اور معاشی بنیادیں ہلنا شروع ہوگئی ہیں، ان حلقوں میں اس کے نتیجے میں اس حد تک تشویش پیدا ہوگئی تھی کہ لوگ ملک کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کیفیت کا شکار ہوگئے تھے مگر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ منگل کو سینیٹ سے خطاب میں سی او اے ایس نے جو دو ٹوک اعلانات کئے ہیں ان کے نتیجے میں صورتحال یکسر تبدیل ہوتی ہوئی محسوس ہورہی ہے، اب لوگ آپس میں باتیں کرتے ہوئے یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ کاش ماضی کے جنرلز بھی ایسے ہوتے۔ پاکستان کی تاریخ کے اس ممتاز جنرل نے اس خطاب میں جو باتیں کیں ان کے کچھ اہم نکات میں یہاں پیش کررہا ہوں جو مندرجہ ذیل ہیں :’’حکومت کرنا فوج کا کام

نہیں ہے، اگر ماضی میں ایسا ہوا ہے تو غلط ہوا ہے۔‘‘ ’’پارلیمنٹ کی بالادستی کو قبول کرتے ہیں، فوج پارلیمنٹ کے ماتحت ہے، پارلیمنٹ خارجہ پالیسی اور دفاعی پالیسی بنائے، ہم ان پر عمل کرنے کیلئے تیار ہیں، حکومت (منتخب حکومت) جو کہے گی اس پر من و عن عمل کیا جائے گا، ہم جمہوری نظام کے حق میں ہیں، فوج آئینی دائرے میں کام کررہی ہے۔‘‘ ملک میں صدارتی نظام کی گنجائش نہیں ہے۔ ہم ملک میں جمہوری پارلیمنٹری نظام کے حق میں ہیں، صدارتی نظام ملک کیلئے نقصان دہ ہے، اس سے چھوٹے صوبوں کے حقوق متاثر ہوں گے، لوگوں کی گمشدگی دو نمبری بھی ہوتی ہے، کئی لوگ خود کو گم کرتے ہیں، ان کے اپنے کئی سیاسی اور دوسرے جھگڑے ہوتے ہیں، ٹی وی چینلز پر آکر تبصرے کرنیوالے ریٹائرڈ فوجی افسران فوج کے ترجمان نہیں ہوتے۔ ایمانداری کی بات یہ ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے جو بھی باتیں کی ہیں وہ سب کی سب پاکستان میں عوامی جمہوری نظام کو تقویت دینے کیلئے باعث فخر ہیں، البتہ ایک نکتہ جو گمشدہ لوگوں کے بارے میں ہے اس پر جزوی طور پر معروضات ہیں جو میںانتہائی احترام سے پیش کروں گا، میری ایماندارانہ رائے یہ ہے کہ پاکستان میں عوامی، جمہوری اور وفاقی نظام کے حق میں جنرل باجوہ نے دو ٹوک انداز میں جو باتیں کی ہیں، ان کے حق میں اور خود جنرل باجوہ کے حق میں چاروں صوبائی اسمبلیوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے فوری طور پر اجلاس بلاکر ان ایوانوں سے اتفاق رائے سے قراردادیں منظور ان کی شاندار الفاظ میں تعریف کی جائے اور جنرل باجوہ کو زبردست خراج تحسین پیش کیا جائے بلکہ میری تو یہ بھی رائے ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کا ایک مشترکہ اجلاس بلاکراتفاق رائے سے قرارداد منظور کرکے حکومت سے زور دار الفاظ میں سفارش کی جائے کہ ایسی تقریر کرنے پر جنرل باجوہ کو ملک کا اعلیٰ ترین ایوارڈ دیا جائے، جنرل باجوہ کی اس تقریر کے خاص خاص نکات قومی اسمبلی کے ہال میں دیوار پر لگی ہوئی قائد اعظم کی تصویر کے نیچے نصب کئے جائیں، سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کیلئے تجویز ہے کہ اس سلسلے میں پہل وہ کریں اور فوری طور پر سندھ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلاکر اوپر میں نے جو تجاویز دی ہیں ان پر مشتمل ایک قرارداد اتفاق رائے سے منظور کی جائے، پاکستان کی قرارداد بھی سب سے پہلے سندھ نے منظور کی تھی، تو اب بھی اس سلسلے میں سندھ پہل کیوں نہ کرے؟ اب میں، سی او اے ایس کی اس تقریر کے جو اہم نکات اوپر پیش کئے ہیں ان کی اہمیت واضح کرنے کے ساتھ ان نکات کے سلسلے میں کچھ اہم ایشوز کی طرف بھی متوجہ کرنے کی کوشش کروں گا، اس تقریر کے نکات تو سب اہم اور قابل تعریف ہیں مگر سب سے پہلے اس نکتہ کا ذکر کروں گا جس میں جنرل باجوہ نے کہا کہ ’’حکومت کرنا فوج کا کام نہیں ہے اگر ماضی میں ایسا ہوا ہے تو غلط ہوا ہے‘‘ جنرل باجوہ کی تقریر کے سارے نکات میں مجھے سب سے زیادہ اہم یہ نکتہ محسوس ہوتا ہے ،اگر اس نکتہ کی روشنی میں ضروری اقدامات کئے جائیں تو پاکستان کی تاریخ بھی نئے سرے سے لکھنا پڑے گی، کیا اس کیلئے یہ ضروری نہیں ہے کہ پاکستان میں اب تک سویلین حکومتوں کے تختے الٹ کر جنہوں نے حکومتیں قائم کیں ان پر فوجی عدالتوں میں نہیں تو اعلیٰ عدالتوں میں مقدمے چلائے جائیں اور ان کو بعد از مرگ یا بعد از ریٹائرمنٹ سزائیں دی جائیں۔ اس سلسلے میں پہل جنرل مشرف کو باہر سے بلاکر ان پر مقدمہ چلاکر کی جاسکتی ہے، مجھے جنرل باجوہ صاحب کی تقریر کے نکات میں سے دوسرا اہم نکتہ یہ محسوس ہوتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ’’صدارتی نظام ملک کیلئے نقصان دہ ہے، اس سے چھوٹے صوبوں کے حقوق متاثر (غصب) ہوتے ہیں‘‘ سچی بات یہ ہے کہ ملک کو جتنا نقصان مارشل لا سے پہنچتا ہے اتنا ہی نقصان صدارتی نظام حکومت سے بھی پہنچتا ہے، میں جنرل باجوہ کی اس بات کی بے پناہ تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا جس میں انہوں نے چھوٹے صوبوں کے حقوق کی بات کی ہے، میرا خیال ہے کہ چھوٹے صوبے اور خاص طور پر سندھ کے لوگ کسی چیف آف اسٹاف کے منہ سے ایسے الفاظ سننے کیلئے تڑپ رہے ہوں گے۔ میرا خیال ہے کہ سارے چھوٹے صوبوں اور خاص طور پر سندھ کے عوام نے ان کے اس نکتے کو بہت پسند کیا ہوگا۔ جنرل صاحب نے چھوٹے صوبوں کی بات کرکے ملک میں وفاقی نظام کی بھی بات کی ہے، ان کی یہ بات بھی انتہائی قابل تعریف ہے کہ ’’پارلیمنٹ خارجہ اور دفاعی پالیسی بنائے ہم ان پر من و عن عمل کریں گے، اب میں لوگوں کی گمشدگی کے بارے میں جنرل صاحب نے جو بات کی ہے اس کا ذکر کروں گا‘ جنرل صاحب نے یہ جو کہا ہے کہ کچھ لوگ خود ہی گم ہوجاتے ہیں، یہ بات بھی درست ہوگی مگر یہ بات بھی درست ہے کہ ملک کے کئی حصوں میں جن میں خاص طور پر بلوچستان اور سندھ شامل ہیں وہاں کافی عرصے سے کئی سیاسی ورکر گم کردیئے گئے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں ہماری ایجنسیوں پر شک کیا جارہا ہے‘ یہ شک صحیح یا غلط بھی ہوسکتا ہے۔ چھوٹے صوبوں میں اس قسم کے شکوک کسی طور پر بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ اس سلسلے میں ایک بار اعلیٰ سطحی تحقیقات کرکے حقائق سامنے لائے جائیں۔ اس سلسلے میں یہ بات انتہائی قابل تعریف ہوگی اگر خود جنرل صاحب اس قسم کی تحقیقات کا حکم دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ تحقیقات ہر لحاظ سے صحیح خطوط پر کی جائیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں