آپ آف لائن ہیں
اتوار 4؍رمضان المبارک 1439ھ 20؍مئی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس وقت ملک کی20کروڑ سے زائد آبادی کا بڑا حصہ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے کے ساتھ ساتھ سرکاری اسپتالوں میں بھی علاج معالجہ کرانے کی سہولت سے محروم ہے۔ ڈاکٹروں کی اکثریت ٹیچنگ اسپتالوں سے منسوب اپنے ناموں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پرائیویٹ اسپتالوں میں اپنی تختی لگا کر فرض مسیحائی ادا کر رہی ہے۔ دوسری طرف بہت سے نجی اسپتال کاروبار کا ایسا ذریعہ بن گئے ہیں کہ انہیں دیکھ کر اس شعبے سے غیروابستہ کاروباری افراد بھی اس ’’سرمایہ کاری‘‘ میں پیش پیش ہیں۔ زندگی اور موت کی کشمکش میں گرفتار ان اسپتالوں میں پہنچائے گئے مریضوں کے لواحقین سے سب سے پہلا تقاضا لاکھوں روپے سیکورٹی جمع کرانے کا کیا جاتا ہے اسی لئے چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے از خود نوٹس میں توجہ دلائی ہے کہ طب کا شعبہ کاروبار یا کمائی کا ذریعہ نہیں ہونا چاہئے، سستا علاج ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے۔ فاضل چیف جسٹس کی یہ بات بلاشبہ غریب عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے مترادف ہے لیکن مسیحائی کو کاروبار بنا کر راتوں رات دولت کے انبار لگانے کی دوڑ میں شریک ہونے کا رجحان اب بہت بڑھ چکا ہے اس کیلئے ٹھوس بنیادوں پر انتہائی فعال منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے بجا طور پر اس بات کا نوٹس لیا ہے کہ بعض سرکاری اور نجی اسپتالوں

x
Advertisement

میں دل کے مریضوں کو اچھے اور مہنگے ظاہر کر کے سستے اور غیر معیاری اسٹنٹ ڈالے جا رہے ہیں یہ انسانی زندگی اور موت کا معاملہ ہے اس میں بھی ’’برانڈز‘‘ کا تعین کرنا کس قدر افسوس کی بات ہے۔ اس حوالے سے عدالت عظمیٰ نے ماہرین کی پانج رکنی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے 15دن کے اندر پیشرفت رپورٹ طلب کی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ علاج معالجہ میں غریب مریضوں پر بوجھ ڈالنے والے جملہ اخراجات کا بھی نوٹس لیا جائے گا جن میں سے گردوں کے ڈائیلسز اور ہیپاٹائٹس سی کے اخراجات کا ذکر بھی جناب چیف جسٹس نے از خود کیا ہے۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں